قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ} [التوبة: 5]، وَقَالَ: {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ} [الأنفال: 39]..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ﴾ ’پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔‘ [سورة التوبة: 5]
اور فرمایا: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ﴾ ’اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارے کا سارا اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔‘ [سورة الأنفال: 39]“...
اور فرمایا: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ﴾ ’اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارے کا سارا اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔‘ [سورة الأنفال: 39]“...
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ معظم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھوں حتٰی کہ وہ کہہ دیں کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں“، جس شخص نے یہ کہہ دیا کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں“ تو اس نے اپنا مال اور جان مجھ سے بچا لیا، البتہ اسلام کے حقوق قائم رہیں گے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھوں حتیٰ کہ وہ «لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں“ کہہ دیں۔ جب انہوں نے یہ کہہ دیا تو انہوں نے اپنے مال اور اپنی جانیں مجھ سے بچا لیں، البتہ اسلام کے حقوق قائم رہیں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ عِصَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً قَالَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا أَوْ رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابنِ عصام اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب کوئی چھوٹا لشکر بھیجتے تو فرماتے: ”جب تم کسی مؤذن کی آواز سنو یا تم کسی مسجد کو دیکھو تو کسی کو قتل نہ کرنا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ "؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ. قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ..
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو بعض عرب نے کفر کر دیا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھیں یہاں تک کہ وہ کہہ دیں کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔“ ”جس نے یہ کہہ دیا کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں“ تو اس نے اپنا مال اور جان مجھ سے بچا لیے، البتہ اسلام کے حقوق قائم رہیں گے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے“۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا میں اس سے لڑائی کروں گا، کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اللہ کے رسول ﷺ کو ادا کی جانے والی رسی بھی مجھ سے روکیں گے تو میں اس کے اسی روکنے کی وجہ سے ان سے لڑائی کروں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں پہچان گیا کہ اللہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے کو لڑائی کے لیے کھول دیا ہے اور میں جان گیا کہ یہ حق ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا مِثْلُ الْحَدِيثَيْنِ قَبْلَهُ فِي الْمُشْرِكِينَ مُطْلَقًا، وَإِنَّمَا يُرَادُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ مُشْرِكُو أَهْلِ الْأَوْثَانِ، وَلَمْ يَكُنْ بِحَضْرَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا قُرْبَهُ أَحَدٌ مِنْ مُشْرِكِي أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا يَهُودُ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانُوا حُلَفَاءَ الْأَنْصَارِ، وَلَمْ تَكُنِ الْأَنْصَارُ اسْتَجْمَعَتْ أَوَّلَ مَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِسْلَامًا، فَوَادَعَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَخْرُجْ إِلَى شَيْءٍ مِنْ عَدَاوَتِهِ بِقَوْلٍ يَظْهَرُ وَلَا فِعْلٍ، حَتَّى كَانَتْ وَقْعَةُ بَدْرٍ فَتَكَلَّمَ بَعْضُهَا بِعَدَاوَتِهِ وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ، وَلَمْ يَكُنْ بِالْحِجَازِ عَلِمْتُهُ إِلَّا يَهُودُ أَوْ نَصَارَى قَلِيلٌ بِنَجْرَانَ، وَكَانَتِ الْمَجُوسُ بِهَجَرَ وَبِبِلَادِ الْبَرْبَرِ وَفَارِسَ نَائِينَ عَنِ الْحِجَازِ، دُونَهُمْ مُشْرِكُونَ أَهْلُ الْأَوْثَانِ كَثِيرٌ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان جیسی دو احادیث مطلق مشرکین کے بارے میں ہیں، حالانکہ نبی ﷺ کی موجودگی میں اور آپ کے قریبی زمانہ میں اہل کتاب کے اندر ان دو مشرکوں میں سے کوئی بھی نہ تھا سوائے مدینہ کے یہودیوں کے جو انصار کے حلیف تھے اور انصار ابتدائی طور پر نبی ﷺ کے آنے کے بعد اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے اور واقعہ بدر تک یہود کی دشمنی قول اور فعل کے ذریعے ظاہر نہ ہوئی، لیکن اس موقع پر انہوں نے ایک دوسرے سے دشمنی اور آپ کے خلاف ابھارنے کی باتیں کیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے لڑائی کی۔ حجاز میں میرے علم کے مطابق یہودی یا نجران کے تھوڑے سے عیسائی تھے اور ہجر، بربر کے شہر اور فارس جو حجاز سے دور تھے وہاں بتوں کے پجاری مشرکین بہت زیادہ پائے جاتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَظُنُّهُ عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ ابْنُ أَحَدِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ الْيَهُودِيَّ كَانَ شَاعِرًا، وَكَانَ يَهْجُو رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحَرِّضُ عَلَيْهِ كُفَّارَ قُرَيْشٍ فِي شِعْرِهِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَهْلُهَا أَخْلَاطٌ، مِنْهُمُ الْمُسْلِمُونَ الَّذِينَ تَجْمَعُهُمْ دَعْوَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْهُمُ الْمُشْرِكُونَ الَّذِينَ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، وَمِنْهُمُ الْيَهُودُ وَهُمْ أَهْلُ الْحَلْقَةِ وَالْحُصُونِ وَهُمْ حُلَفَاءُ لِلْحَيَّيْنِ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ اسْتِصْلَاحَهُمْ كُلَّهُمْ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَكُونُ مُسْلِمًا وَأَبُوهُ مُشْرِكٌ، وَالرَّجُلُ يَكُونُ مُسْلِمًا وَأَخُوهُ مُشْرِكٌ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حِينَ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٠٩⦘ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ أَشَدَّ الْأَذَى، فَأَمَرَ اللهُ رَسُولَهُ وَالْمُسْلِمِينَ بِالصَّبِرِ عَلَى ذَلِكَ وَالْعَفْوِ عَنْهُمْ، فَفِيهِمْ أَنْزَلَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا} [آل عمران: ١٨٦] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَفِيهِمْ أَنْزَلَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا} [البقرة: ١٠٩]، فَلَمَّا أَبَى كَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ أَنْ يَنْزِعَ عَنْ أَذَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَذَى الْمُسْلِمِينَ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَبْعَثَ رَهْطًا لِيَقْتُلُوهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ، وَأَبَا عَبْسٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَالْحَارِثَ ابْنَ أَخِي سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي خَمْسَةِ رَهْطٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِهِ. قَالَ: فَلَمَّا قَتَلُوهُ فَزِعَتِ الْيَهُودُ وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحُوا فَقَالُوا: إِنَّهُ طُرِقَ صَاحِبُنَا اللَّيْلَةَ وَهُوَ سَيِّدٌ مِنْ سَادَتِنَا فَقُتِلَ فَذَكَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ يَقُولُ فِي أَشْعَارِهِ وَيَنْهَاهُمْ بِهِ، وَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ كِتَابًا يَنْتَهُوا إِلَى مَا فِيهِ، فَكَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَامًّا صَحِيفَةً كَتَبَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الْعَذْقِ الَّذِي فِي دَارِ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَكَانَتْ تِلْكَ الصَّحِيفَةُ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک، میرا گمان ہے کہ وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں، یہ ان تینوں میں سے ایک کے بیٹے ہیں جن کی اللہ رب العزت نے توبہ قبول فرمائی، کعب بن اشرف یہودی شاعر تھا، وہ نبی ﷺ کی مذمت کرتا اور کفارِ قریش کو آپ کے خلاف ابھارا کرتا تھا، رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے رہنے والے ملے جلے ادیان والے تھے، بعض مسلمان تھے جنہوں نے نبی ﷺ کی دعوت کو قبول کیا تھا، بعض بتوں کے پجاری مشرکین تھے، بعض یہود تھے اور بعض قلعوں والے تھے، اور بعض اوس و خزرج کے حلیف تھے، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو ان کا استقبال کرنا چاہا، لیکن اگر کوئی مسلمان تھا تو اس کا باپ مشرک تھا اور کوئی مسلمان تھا تو اس کا بھائی مشرک تھا، اور مدینہ کے مشرکین و یہود کو اس وقت بڑی تکلیف ہوئی جب وہ رسول اللہ ﷺ کو (مدینہ میں رہنے کی) اجازت دیتے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کی تکالیف پر صبر کرنے اور معاف کرنے کی تلقین فرمائی، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا﴾ [سورة آل عمران: 186] ”اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا، بہت زیادہ تکلیف دہ باتیں سنو گے۔“ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۖ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا﴾ [سورة البقرة: 109]
”بہت سارے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کفر کی حالت میں واپس لوٹا دیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان پر حق واضح ہو چکا ہے، پس تم انہیں معاف کرو اور درگزر کرو۔“ جب کعب بن اشرف نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تکلیف دینے سے باز نہ آنے کا اظہار کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے قتل کے لیے ایک گروہ ترتیب دینے کا حکم فرمایا، تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ، ابوعبس انصاری رضی اللہ عنہ اور اپنے بھتیجے حارث کو پانچ لوگوں کے گروہ میں روانہ کیا اور انہوں نے اس کے قتل کے بارے میں حدیث بیان کی، راوی کہتے ہیں کہ اس کے قتل کے بعد یہود اور مشرکین گھبرا گئے اور صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: رات کے وقت ہمارے ایک سردار کو قتل کر دیا گیا ہے، تو آپ ﷺ نے انہیں وہ باتیں بتائیں جو وہ اپنے اشعار میں کہا کرتا تھا اور انہیں بتایا کہ اسے روکا بھی گیا تھا کہ یہ کام نہ کرے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہود، مشرکین اور مسلمانوں کے درمیان ایک معاہدہ تحریر کر لیا جائے۔“ ایک مدت تک تو نبی ﷺ نے یہود، مشرکین اور مسلمانوں کے درمیان ایک کھجور کے نیچے، جو بنت حارث کے گھر میں تھی، بیٹھ کر معاہدہ تحریر کروایا، بعد میں یہ تحریر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس رہی۔
”بہت سارے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کفر کی حالت میں واپس لوٹا دیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان پر حق واضح ہو چکا ہے، پس تم انہیں معاف کرو اور درگزر کرو۔“ جب کعب بن اشرف نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تکلیف دینے سے باز نہ آنے کا اظہار کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے قتل کے لیے ایک گروہ ترتیب دینے کا حکم فرمایا، تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ، ابوعبس انصاری رضی اللہ عنہ اور اپنے بھتیجے حارث کو پانچ لوگوں کے گروہ میں روانہ کیا اور انہوں نے اس کے قتل کے بارے میں حدیث بیان کی، راوی کہتے ہیں کہ اس کے قتل کے بعد یہود اور مشرکین گھبرا گئے اور صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: رات کے وقت ہمارے ایک سردار کو قتل کر دیا گیا ہے، تو آپ ﷺ نے انہیں وہ باتیں بتائیں جو وہ اپنے اشعار میں کہا کرتا تھا اور انہیں بتایا کہ اسے روکا بھی گیا تھا کہ یہ کام نہ کرے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہود، مشرکین اور مسلمانوں کے درمیان ایک معاہدہ تحریر کر لیا جائے۔“ ایک مدت تک تو نبی ﷺ نے یہود، مشرکین اور مسلمانوں کے درمیان ایک کھجور کے نیچے، جو بنت حارث کے گھر میں تھی، بیٹھ کر معاہدہ تحریر کروایا، بعد میں یہ تحریر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس رہی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَوْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا أَصَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا يَوْمَ بَدْرٍ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ، جَمَعَ الْيَهُودَ فِي سُوقِ قَيْنُقَاعَ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قُرَيْشًا ". فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ لَا يَغُرَّنَّكَ مِنْ نَفْسِكَ أَنَّكَ قَتَلْتَ نَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا أَغْمَارًا لَا يَعْرِفُونَ الْقِتَالَ، إِنَّكَ لَوْ قَاتَلْتَنَا لَعَرَفْتَ أَنَّا نَحْنُ النَّاسُ، وَأَنَّكَ لَمْ تَلْقَ مِثْلَنَا. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِمْ: {قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ} [آل عمران: ١٣]: أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدْرٍ، {وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ} [آل عمران: ١٣] إِلَى قَوْلِهِ: {لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ} [آل عمران: ١٣].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن قریشیوں کو قتل کیا اور جب مدینہ واپس آئے تو یہود قینقاع بازار میں جمع ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے یہود کا گروہ! اسلام قبول کرلو، اس سے پہلے کہ تمہیں وہ مصیبت پہنچے جو قریش کو پہنچی ہے۔“ انہوں نے کہا: اے محمد! آپ اپنے بارے میں دھوکے میں نہ رہیے کہ آپ نے قریش کے ایک گروہ کو قتل کیا ہے جو جنگ سے ناواقف تھے، اگر آپ نے ہم سے لڑائی کی تو آپ پہچان لیں گے کہ ہم بھی جنگجو ہیں، آپ کی ملاقات یعنی لڑائی ہمارے جیسے لوگوں سے نہیں ہوئی۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ﴾ [سورة آل عمران: 12] ﴿قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ﴾ [سورة آل عمران: 13] ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے کفر کیا، عنقریب تم مغلوب کیے جاؤ گے اور تمہیں جہنم میں جمع کیا جائے گا جو بدترین ٹھکانا ہے، تمہارے لیے تو دو جماعتوں کے ملنے میں نشانی ہے، ایک جماعت اللہ کے راستے میں لڑتی ہے تو دوسری کافر تھی، وہ کافر مسلمانوں کو اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے، عقل والوں کے لیے عبرت ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَا: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ بَشِيرَيْنِ إِلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ، زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، ⦗٣١٠⦘ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ قَالَ: وَيْلَكَ أَحَقٌّ هَذَا؟ هَؤُلَاءِ مُلُوكُ الْعَرَبِ وَسَادَةُ النَّاسِ، يَعْنِي قَتْلَى قُرَيْشٍ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَجَعَلَ يَبْكِي عَلَى قَتْلَى قُرَيْشٍ وَيُحَرِّضُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم اور صالح بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بدر سے فارغ ہوئے تو مدینہ والوں کو خوشخبری دینے کے لیے زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔ جب کعب بن اشرف کو یہ خبر ملی تو اس نے کہا: تمہارے اوپر افسوس! کیا یہ خبر سچ ہے؟ یہ عرب کے بادشاہ اور لوگوں کے سردار یعنی قریش مارے گئے؟ پھر وہ مکہ کی جانب قریش کے مقتولوں پر روتا ہوا گیا اور انھیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف ابھار رہا تھا۔