السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من لا تؤخذ منه الجزية من أهل الأوثان باب: بت پرستوں میں سے کن لوگوں سے جزیہ نہیں لیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا مِثْلُ الْحَدِيثَيْنِ قَبْلَهُ فِي الْمُشْرِكِينَ مُطْلَقًا، وَإِنَّمَا يُرَادُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ مُشْرِكُو أَهْلِ الْأَوْثَانِ، وَلَمْ يَكُنْ بِحَضْرَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا قُرْبَهُ أَحَدٌ مِنْ مُشْرِكِي أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا يَهُودُ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانُوا حُلَفَاءَ الْأَنْصَارِ، وَلَمْ تَكُنِ الْأَنْصَارُ اسْتَجْمَعَتْ أَوَّلَ مَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِسْلَامًا، فَوَادَعَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَخْرُجْ إِلَى شَيْءٍ مِنْ عَدَاوَتِهِ بِقَوْلٍ يَظْهَرُ وَلَا فِعْلٍ، حَتَّى كَانَتْ وَقْعَةُ بَدْرٍ فَتَكَلَّمَ بَعْضُهَا بِعَدَاوَتِهِ وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ، وَلَمْ يَكُنْ بِالْحِجَازِ عَلِمْتُهُ إِلَّا يَهُودُ أَوْ نَصَارَى قَلِيلٌ بِنَجْرَانَ، وَكَانَتِ الْمَجُوسُ بِهَجَرَ وَبِبِلَادِ الْبَرْبَرِ وَفَارِسَ نَائِينَ عَنِ الْحِجَازِ، دُونَهُمْ مُشْرِكُونَ أَهْلُ الْأَوْثَانِ كَثِيرٌ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بھی پہلی دو احادیث کی طرح مطلق مشرکین کے بارے میں ہے، اور اس سے مراد، واللہ اعلم، بتوں کے پجاری مشرکین ہیں۔ نبی ﷺ کی موجودگی میں اور آپ کے قریب اہل کتاب کے مشرکین میں سے کوئی بھی نہ تھا سوائے مدینہ کے یہودیوں کے جو انصار کے حلیف تھے، اور نبی ﷺ کے ابتدائی طور پر تشریف لانے کے وقت انصار سب کے سب اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے، چنانچہ یہود نے رسول اللہ ﷺ سے صلح کر لی اور واقعہ بدر تک ان کی طرف سے آپ کی دشمنی قول اور فعل کے ذریعے ظاہر نہ ہوئی، لیکن اس موقع پر ان میں سے بعض نے آپ سے دشمنی اور آپ کے خلاف ابھارنے کی باتیں کیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے بعض کو قتل کیا۔ حجاز میں میرے علم کے مطابق صرف یہودی یا نجران کے تھوڑے سے عیسائی تھے، اور مجوسی ہجر، بربر کے علاقوں اور فارس میں تھے جو حجاز سے دور تھے، اور ان کے علاوہ بتوں کے پجاری مشرکین بہت زیادہ تھے۔