السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من لا تؤخذ منه الجزية من أهل الأوثان باب: بت پرستوں میں سے کن لوگوں سے جزیہ نہیں لیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَوْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا أَصَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا يَوْمَ بَدْرٍ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ، جَمَعَ الْيَهُودَ فِي سُوقِ قَيْنُقَاعَ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قُرَيْشًا ". فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ لَا يَغُرَّنَّكَ مِنْ نَفْسِكَ أَنَّكَ قَتَلْتَ نَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا أَغْمَارًا لَا يَعْرِفُونَ الْقِتَالَ، إِنَّكَ لَوْ قَاتَلْتَنَا لَعَرَفْتَ أَنَّا نَحْنُ النَّاسُ، وَأَنَّكَ لَمْ تَلْقَ مِثْلَنَا. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِمْ: {قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ} [آل عمران: ١٣]: أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدْرٍ، {وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ} [آل عمران: ١٣] إِلَى قَوْلِهِ: {لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ} [آل عمران: ١٣].سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن قریشیوں کو قتل کیا اور جب مدینہ واپس آئے تو یہود قینقاع بازار میں جمع ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے یہود کا گروہ! اسلام قبول کرلو، اس سے پہلے کہ تمہیں وہ مصیبت پہنچے جو قریش کو پہنچی ہے۔“ انہوں نے کہا: اے محمد! آپ اپنے بارے میں دھوکے میں نہ رہیے کہ آپ نے قریش کے ایک گروہ کو قتل کیا ہے جو جنگ سے ناواقف تھے، اگر آپ نے ہم سے لڑائی کی تو آپ پہچان لیں گے کہ ہم بھی جنگجو ہیں، آپ کی ملاقات یعنی لڑائی ہمارے جیسے لوگوں سے نہیں ہوئی۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ﴾ [سورة آل عمران: 12] ﴿قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ﴾ [سورة آل عمران: 13] ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے کفر کیا، عنقریب تم مغلوب کیے جاؤ گے اور تمہیں جہنم میں جمع کیا جائے گا جو بدترین ٹھکانا ہے، تمہارے لیے تو دو جماعتوں کے ملنے میں نشانی ہے، ایک جماعت اللہ کے راستے میں لڑتی ہے تو دوسری کافر تھی، وہ کافر مسلمانوں کو اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے، عقل والوں کے لیے عبرت ہے۔