کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ میں سے جن سے جزیہ لیا جائے گا ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 18631
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: 29]..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ ’اہل کتاب میں سے ان لوگوں سے لڑو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر، اور نہ اس چیز کو حرام سمجھتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے، اور نہ دین حق کو اپناتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔‘ [سورة التوبة: 29]“...
حدیث نمبر: 18631
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللهِ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، قَالَ: " إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ، فَأَيَّتُهُنَّ أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ مِثْلَ أَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ الَّذِي كَانَ يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَادْعُهُمْ إِلَى إِعْطَاءِ الْجِزْيَةِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا قَاتَلْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ، وَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَحْكُمُ اللهُ فِيهِمْ، وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ بَعْدُ مَا شِئْتُمْ ". ⦗٣١١⦘ قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ عَلْقَمَةُ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ هُوَ ابْنُ هَيْصَمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب کبھی نبی کریم ﷺ کسی چھوٹے یا بڑے لشکر کا امیر مقرر فرماتے تو اس کو اپنے معاملات میں اللہ سے ڈرنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت فرماتے، نیز فرماتے کہ: ”اللہ کے راستے میں اللہ کے نام کے ساتھ جہاد کرو۔ جب تمہارا مشرک دشمنوں سے آمنا سامنا ہو تو انہیں تین باتوں کی دعوت دو، ان میں سے وہ جس بات کو تسلیم کر لیں مان لو۔ پھر اسلام کی دعوت دو اگر قبول کر لیں تو ان پر حملہ نہ کرو۔ پھر انہیں دار الحرب چھوڑ کر دار الہجرت آنے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ اگر وہ چلے آئیں گے تو انہیں مہاجرین کے حقوق میسر ہوں گے اور ان پر مہاجرین کی سی ذمہ داریاں عائد ہوں گی۔ اگر وہ دار الہجرت کی طرف منتقل ہونے سے انکار کریں اور اپنے گھروں کا انتخاب کریں تو انہیں بتلائیں کہ ان کا معاملہ مسلمانوں کی طرح ہوگا کہ ان پر دیگر ایمان داروں کی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ ہوں گے۔ لیکن انہیں غنیمت اور مالِ فے سے مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کیے بغیر کچھ نہیں ملے گا۔ اگر وہ اس بات کو تسلیم نہ کریں تو ان سے جزیہ کا مطالبہ کرو۔ اگر وہ مان لیں تو ان سے جزیہ لے لو اور ان سے کچھ نہ کہو اور اگر وہ جزیہ سے انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے ان کے خلاف برسرِ پیکار ہو جاؤ۔ جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ تم پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر اتارنے کا مطالبہ کریں تو انہیں اپنے فیصلے پر اتارنا کیونکہ تمہیں علم نہیں کہ اللہ کے فیصلے کے بارے میں درستی کو پا سکو گے یا نہیں۔“
حدیث نمبر: 18632
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْصَاهُ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، زَادَ فِيهِ: " وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ وَأَرَادُوكَ عَلَى أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّكَ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّكَ، وَلَكِنِ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ آبَائِكَ وَذِمَمَ أَصْحَابِكَ، فَإِنَّكُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبَائِكُمْ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ ". وَلَمْ يَذْكُرْ إِسْنَادَ حَدِيثِ مُقَاتِلٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ دُونَ إِسْنَادِ مُقَاتِلٍ، وَرَوَاهُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، وَذَكَرَ فِيهِ إِسْنَادَ مُقَاتِلٍ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر کا امیر بنا کر روانہ فرماتے تو چند وصیتیں فرماتے۔ اس میں زیادتی ہے کہ ”جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمہ کا تقاضا کریں تو انہیں اللہ اور رسول ﷺ کے ذمہ کے علاوہ اپنا اور اپنے رفقاء کا ذمہ دو، کیونکہ اگر تم اپنے اور اپنے آباء اور رفقاء کا ذمہ توڑ ڈالو گے تو یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مقابلے میں معمولی ہے۔“
حدیث نمبر: 18633
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ دَعَاهُ فَأَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِزِيَادَتِهِ فِي مَتْنِهِ. ⦗٣١٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ..
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کبھی سرورِ دو عالم ﷺ کسی چھوٹے یا بڑے لشکر کا امیر مقرر فرماتے تو اس کو ”اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے“ کی نصیحت فرماتے۔
حدیث نمبر: 18634
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
خالی۔
حدیث نمبر: 18635
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَرَوِيُّ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَأَنْ لَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَيَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ، وَإِنَّمَا قِيلَ الْحَجُّ الْأَكْبَرُ مِنْ أَجْلِ قَوْلِ النَّاسِ الْحَجَّ الْأَصْغَرَ، فَنَبَذَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّاسِ فِي ذَلِكَ الْعَامِ فَلَمْ يَحُجَّ فِي الْعَامِ الْقَابِلِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مُشْرِكٌ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْعَامِ الَّذِي نَبَذَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ إِلَى الْمُشْرِكِينَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ} [التوبة: ٢٨] إِلَى قَوْلِهِ: {عَلِيمٌ حَكِيمٌ} [التوبة: ٢٨]، فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يُوَافُونَ بِالتِّجَارَةِ فَيَنْتَفِعُ بِهَا الْمُسْلِمُونَ، فَلَمَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ أَنْ لَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَجَدَ الْمُسْلِمُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قُطِعَ عَنْهُمْ مِنَ التِّجَارَةِ الَّتِي كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُوَافُونَ بِهَا، فَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ إِنْ شَاءَ} [التوبة: ٢٨]، ثُمَّ أَحَلَّ فِي الْآيَةِ الَّتِي تَتْبَعُهَا الْجِزْيَةَ، وَلَمْ تَكُنْ تُؤْخَذُ قَبْلَ ذَلِكَ، فَجَعَلَهَا عِوَضًا مِمَّا مَنَعَهُمْ مِنْ مُوَافَاةِ الْمُشْرِكِينَ بِتِجَارَاتِهِمْ فَقَالَ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: ٢٩]، فَلَمَّا أَحَلَّ اللهُ ذَلِكَ لِلْمُسْلِمِينَ عَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ عَاضَهُمْ أَفْضَلَ مِمَّا كَانُوا وَجَدُوا عَلَيْهِ مِمَّا كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُوَافُونَ بِهِ مِنَ التِّجَارَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ إِلَى قَوْلِهِ: حَجَّةَ الْوَدَاعِ مُشْرِكٌ دُونَ مَا بَعْدَهُ، وَأَظُنُّهُ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے منی میں قربانی کے دن اعلان کرنے کے لیے روانہ کیا کہ ”آئندہ سال مشرک حج کے لیے نہ آئے۔ بیت اللہ کا کپڑے اتار کر طواف نہ کیا جائے اور حج اکبر قربانی کا دن ہے۔“ یہ بھی کہا گیا کہ لوگوں کا حج اصغر کہنے کی وجہ سے حج اکبر کہا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سال اعلان کروا دیا اور آئندہ سال کسی مشرک نے نبی ﷺ کے ساتھ حج نہیں کرنا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسی سال جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اعلان کروایا یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ﴾ [سورة التوبة: 28] ”اے ایمان والو! مشرک پلید ہیں وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں“ تا ﴿عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ [سورة النساء: 26] ”وہ جاننے والا حکمت والا ہے۔“
مشرکین تجارت کی غرض سے آتے، جن سے مسلمان فائدہ حاصل کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا مسجدِ حرام میں داخلہ بند کر دیا تو مسلمانوں نے خیال کیا کہ تجارت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ إِنْ شَاءَ﴾ [سورة التوبة: 28]
”اگر تمہیں فقیری کا ڈر ہے تو اللہ تمہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا“، تو پھر ان سے جزیہ لینا حلال کر دیا گیا جو اس سے پہلے نہ لیا جاتا تھا۔ یہ اس کا بدل تھا جو وہ مشرکین کی تجارت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ فرمایا: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ [سورة التوبة: 29] ”ان لوگوں سے جہاد کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ اور رسول کی حرام کردہ اشیاء کو حرام نہیں جانتے اور دین حق کو اہل کتاب سے قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں۔“ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے یہ حلال کر دیا تو وہ پہچان گئے کہ اللہ نے ان کو بہتر بدلہ عطا کر دیا ہے جو وہ مشرکین کی تجارت سے حاصل کرتے تھے۔
مشرکین تجارت کی غرض سے آتے، جن سے مسلمان فائدہ حاصل کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا مسجدِ حرام میں داخلہ بند کر دیا تو مسلمانوں نے خیال کیا کہ تجارت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ إِنْ شَاءَ﴾ [سورة التوبة: 28]
”اگر تمہیں فقیری کا ڈر ہے تو اللہ تمہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا“، تو پھر ان سے جزیہ لینا حلال کر دیا گیا جو اس سے پہلے نہ لیا جاتا تھا۔ یہ اس کا بدل تھا جو وہ مشرکین کی تجارت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ فرمایا: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ [سورة التوبة: 29] ”ان لوگوں سے جہاد کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ اور رسول کی حرام کردہ اشیاء کو حرام نہیں جانتے اور دین حق کو اہل کتاب سے قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں۔“ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے یہ حلال کر دیا تو وہ پہچان گئے کہ اللہ نے ان کو بہتر بدلہ عطا کر دیا ہے جو وہ مشرکین کی تجارت سے حاصل کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 18636
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ} [التوبة: ٢٩] إِلَى قَوْلِهِ: {حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ ⦗٣١٣⦘ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: ٢٩] قَالَ: نَزَلَ هَذَا حِينَ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بِغَزْوَةِ تَبُوكَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [سورة التوبة: 29] ”ان لوگوں سے جہاد کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین نہیں رکھتے“ اور ﴿حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ [سورة التوبة: 29] ”یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب آپ ﷺ نے صحابہ کو غزوہ تبوک کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 18637
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى تَبُوكَ أَتَاهُ يَحْنَةُ بْنُ رَوْبَةَ صَاحِبُ أَيْلَةَ فَصَالَحَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَاهُ الْجِزْيَةَ وَأَتَاهُ أَهْلُ جَرَبَا وَأَذْرُحَ فَأَعْطَوْهُ الْجِزْيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ تبوک پہنچے تو یحنہ بن روبہ نے صلح کر کے جزیہ ادا کر دیا، اسی طرح اہل جرباء اور اذرح نے بھی جزیہ دے دیا۔
حدیث نمبر: 18638
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: يُقَاتَلُ أَهْلُ الْأَوْثَانِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَيُقَاتَلُ أَهْلُ الْكِتَابِ عَلَى الْجِزْيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
لیث رحمہ اللہ، مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بتوں کے پجاری اسلام والوں کے خلاف جنگ کرتے اور اہل کتاب جزیہ پر صلح کر لیتے تھے۔