❮
❯
حدیث نمبر: 18628
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَظُنُّهُ عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ ابْنُ أَحَدِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ الْيَهُودِيَّ كَانَ شَاعِرًا، وَكَانَ يَهْجُو رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحَرِّضُ عَلَيْهِ كُفَّارَ قُرَيْشٍ فِي شِعْرِهِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَهْلُهَا أَخْلَاطٌ، مِنْهُمُ الْمُسْلِمُونَ الَّذِينَ تَجْمَعُهُمْ دَعْوَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْهُمُ الْمُشْرِكُونَ الَّذِينَ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، وَمِنْهُمُ الْيَهُودُ وَهُمْ أَهْلُ الْحَلْقَةِ وَالْحُصُونِ وَهُمْ حُلَفَاءُ لِلْحَيَّيْنِ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ اسْتِصْلَاحَهُمْ كُلَّهُمْ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَكُونُ مُسْلِمًا وَأَبُوهُ مُشْرِكٌ، وَالرَّجُلُ يَكُونُ مُسْلِمًا وَأَخُوهُ مُشْرِكٌ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حِينَ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٠٩⦘ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ أَشَدَّ الْأَذَى، فَأَمَرَ اللهُ رَسُولَهُ وَالْمُسْلِمِينَ بِالصَّبِرِ عَلَى ذَلِكَ وَالْعَفْوِ عَنْهُمْ، فَفِيهِمْ أَنْزَلَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا} [آل عمران: ١٨٦] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَفِيهِمْ أَنْزَلَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا} [البقرة: ١٠٩]، فَلَمَّا أَبَى كَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ أَنْ يَنْزِعَ عَنْ أَذَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَذَى الْمُسْلِمِينَ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَبْعَثَ رَهْطًا لِيَقْتُلُوهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ، وَأَبَا عَبْسٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَالْحَارِثَ ابْنَ أَخِي سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي خَمْسَةِ رَهْطٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِهِ. قَالَ: فَلَمَّا قَتَلُوهُ فَزِعَتِ الْيَهُودُ وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحُوا فَقَالُوا: إِنَّهُ طُرِقَ صَاحِبُنَا اللَّيْلَةَ وَهُوَ سَيِّدٌ مِنْ سَادَتِنَا فَقُتِلَ فَذَكَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ يَقُولُ فِي أَشْعَارِهِ وَيَنْهَاهُمْ بِهِ، وَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ كِتَابًا يَنْتَهُوا إِلَى مَا فِيهِ، فَكَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَامًّا صَحِيفَةً كَتَبَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الْعَذْقِ الَّذِي فِي دَارِ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَكَانَتْ تِلْكَ الصَّحِيفَةُ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک، میرا گمان ہے کہ وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں، یہ ان تینوں میں سے ایک کے بیٹے ہیں جن کی اللہ رب العزت نے توبہ قبول فرمائی، کعب بن اشرف یہودی شاعر تھا، وہ نبی ﷺ کی مذمت کرتا اور کفارِ قریش کو آپ کے خلاف ابھارا کرتا تھا، رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے رہنے والے ملے جلے ادیان والے تھے، بعض مسلمان تھے جنہوں نے نبی ﷺ کی دعوت کو قبول کیا تھا، بعض بتوں کے پجاری مشرکین تھے، بعض یہود تھے جو ہتھیاروں اور قلعوں والے تھے اور اوس و خزرج کے دونوں قبیلوں کے حلیف تھے، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو ان سب کی اصلاح کرنا چاہی، حالانکہ اگر کوئی مسلمان تھا تو اس کا باپ مشرک تھا اور کوئی مسلمان تھا تو اس کا بھائی مشرک تھا، اور جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے مشرکین و یہود رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو سخت تکلیف دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ اور مسلمانوں کو ان کی تکالیف پر صبر کرنے اور معاف کرنے کی تلقین فرمائی، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا﴾ [سورة آل عمران: 186] ”اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا، بہت زیادہ تکلیف دہ باتیں سنو گے۔“ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۖ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا﴾ [سورة البقرة: 109]
”بہت سارے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کفر کی حالت میں واپس لوٹا دیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان پر حق واضح ہو چکا ہے، پس تم انہیں معاف کرو اور درگزر کرو۔“ جب کعب بن اشرف نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تکلیف دینے سے باز نہ آنے کا اظہار کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے قتل کے لیے ایک گروہ ترتیب دینے کا حکم فرمایا، تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ، ابوعبس انصاری رضی اللہ عنہ اور اپنے بھتیجے حارث کو پانچ لوگوں کے گروہ میں روانہ کیا اور انہوں نے اس کے قتل کے بارے میں حدیث بیان کی، راوی کہتے ہیں کہ اس کے قتل کے بعد یہود اور مشرکین گھبرا گئے اور صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: رات کے وقت ہمارے ایک سردار کو قتل کر دیا گیا ہے، تو آپ ﷺ نے انہیں وہ باتیں بتائیں جو وہ اپنے اشعار میں کہا کرتا تھا اور انہیں بتایا کہ اسے روکا بھی گیا تھا کہ یہ کام نہ کرے، پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں دعوت دی کہ آپ اپنے، ان کے اور مسلمانوں کے درمیان ایک معاہدہ تحریر کر دیں جس کی وہ پابندی کریں، چنانچہ نبی ﷺ نے اپنے، ان کے اور تمام مسلمانوں کے درمیان ایک کھجور کے نیچے، جو بنت حارث کے گھر میں تھی، بیٹھ کر معاہدہ تحریر کروایا، بعد میں یہ تحریر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس رہی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18628
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»