السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من لا تؤخذ منه الجزية من أهل الأوثان باب: بت پرستوں میں سے کن لوگوں سے جزیہ نہیں لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18630
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَا: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ بَشِيرَيْنِ إِلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ، زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، ⦗٣١٠⦘ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ قَالَ: وَيْلَكَ أَحَقٌّ هَذَا؟ هَؤُلَاءِ مُلُوكُ الْعَرَبِ وَسَادَةُ النَّاسِ، يَعْنِي قَتْلَى قُرَيْشٍ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَجَعَلَ يَبْكِي عَلَى قَتْلَى قُرَيْشٍ وَيُحَرِّضُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم اور صالح بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بدر سے فارغ ہوئے تو مدینہ والوں کو خوشخبری دینے کے لیے زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔ جب کعب بن اشرف کو یہ خبر ملی تو اس نے کہا: تمہارے اوپر افسوس! کیا یہ خبر سچ ہے؟ یہ عرب کے بادشاہ اور لوگوں کے سردار یعنی قریش مارے گئے؟ پھر وہ مکہ کی جانب قریش کے مقتولوں پر روتا ہوا گیا اور انھیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف ابھار رہا تھا۔