کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دار الحرب (دشمن کے علاقے) میں حدود نافذ کرنے کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَدَّ بِالْمَدِينَةِ، وَالشِّرْكُ قَرِيبٌ مِنْهَا وَفِيهَا شِرْكٌ كَثِيرٌ مُوَادِعُونَ، وَضَرَبَ الشَّارِبَ بِحُنَيْنٍ وَالشِّرْكُ قَرِيبٌ مِنْهُ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں حد قائم فرمائی، حالانکہ شرک (یعنی مشرکین) اس کے قریب تھا اور خود مدینہ میں بھی بہت سے ایسے مشرک تھے جن سے صلح کا معاہدہ تھا، اور آپ ﷺ نے حنین میں شراب پینے والے کو (حد کی) مار لگوائی جبکہ شرک (مشرکین) اس کے قریب تھا۔“...
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَرْمَيسِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكُهَيْلِيُّ، أنبأ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا رَوْحٌ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ الزُّهْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَأُتِيَ ⦗١٧٦⦘ بِسَكْرَانَ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضَرَبُوهُ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ، وَحَثَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو حنین کے دن دیکھا کہ آپ ﷺ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی منزل کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ ایک شرابی لایا گیا تو آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: ”جو ان کے ہاتھوں میں ہے اسے ماریں“ اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر مٹی ڈالی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، أَظُنُّهُ عَنِ الْوَاقِدِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي قِصَّةِ خَيْبَرَ وَمَا أُخْرِجَ مِنْ حِصْنِ الصَّعْبِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: وَزُقَاقُ خَمْرٍ فَأُهْرِيقَتْ وَعَمَدَ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَشَرِبَ مِنْ ذَلِكَ الْخَمْرِ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ حِينَ رُفِعَ إِلَيْهِ فَخَفَقَهُ بِنَعْلِهِ وَأَمَرَ مَنْ حَضَرَهُ فَخَفَقُوهُ بِنِعَالِهِمْ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللهِ الْحِمَارُ كَانَ رَجُلًا لَا يَصْبِرُ عَنِ الشُّرْبِ فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اللهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُضْرَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَفْعَلْ يَا عُمَرُ فَإِنَّهُ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالحمید بن جعفر اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے خیبر کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ صعب بن معاذ کے قلعے سے شراب نکالی گئی اور گلیوں میں بہا دی گئی، تو اس شراب میں سے کسی مسلمان شخص نے جان بوجھ کر پی لی۔ جب معاملہ نبی ﷺ تک پہنچا تو آپ ﷺ نے اسے ناپسند فرمایا۔ آپ ﷺ نے اسے اپنے جوتے سے مارا اور لوگوں کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے جوتوں سے ماریں۔ اسے عبداللہ الحمار کہا جاتا تھا۔ یہ ایسا شخص تھا جو شراب سے باز نہ آتا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کو کئی مرتبہ سزا دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ! اس پر لعنت ہو کہ یہ کتنی بار سزا دیا گیا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! ایسا نہ کہو، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ غَيْلَانَ مَوْلَى كِنَانَةَ، عَنْ أَبِي سَلَامَ الْحَبَشِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: ثنا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، وَعِنْدَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمُقَسَّمِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ أَخَذَ مِنْهُ قَرَدَةً بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ وَهِيَ فِي وَبَرَةٍ فَقَالَ: " أَلَا إِنَّ هَذَا مِنْ غَنَائِمِكُمْ، وَلَيْسَ مِنْهُ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ، فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ وَأَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَأَكْبَرَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَجَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللهِ، الْقَرِيبَ مِنْهُمْ وَالْبَعِيدَ، وَلَا يَأْخُذْكُمْ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللهِ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ عَظِيمٌ يُنَجِّي اللهُ بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے پاس سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے مقسم کے اونٹوں میں سے کسی ایک پر نماز ادا کی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اونٹ کی کوہان کے بالوں میں سے اپنی انگلیوں کے درمیان ایک چچڑی کو پکڑا اور فرمایا: ”خبردار! یہ تمہارا مالِ غنیمت ہے، اس میں سے میرا صرف پانچواں حصہ ہے اور پانچواں حصہ بھی تم پر ہی لوٹا دیا جاتا ہے۔ تم سوئی اور دھاگہ یا اس سے چھوٹی یا بڑی چیز بھی واپس کر دو؛ کیونکہ مالِ غنیمت میں خیانت دنیا اور آخرت میں رسوائی کا سبب ہے اور اللہ کے لیے قریب اور دور کے لوگوں سے جہاد کرو اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت تمہیں اللہ کے راستے میں جہاد سے نہ روکے اور سفر و حضر میں حدود کو نافذ کرو اور جہاد کو لازم کر لو؛ کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک بہت بڑا دروازہ ہے۔ اللہ رب العزت اس کے ذریعے ہر پریشانی اور غم سے نجات دے دیتے ہیں۔“
رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَةَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ، فَتَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْمَاسِ، فَقَالَ عُبَادَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي غَزْوَةٍ إِلَى بَعِيرٍ. فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِيهِ: وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللهِ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ. أَخْبَرْنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الْمُسْتَفَاضِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَابِدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ اور سیدنا حارث بن معاویہ کندی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے اور حدیث کا مذاکرہ کر رہے تھے۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک اونٹ کی جانب منہ کر کے نماز پڑھائی، پھر اس کی مثل ذکر کیا۔ اس حدیث میں ہے کہ: ”تم سفر و حضر میں حدود کو نافذ کرو۔“
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ هِشَامِ بْنِ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنِ ⦗١٧٧⦘ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى الْخُشَنِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَقِيمُوا الْحُدُودَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ عَلَى الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ، وَلَا تُبَالُوا فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ". أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ. وَرُوِي ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”سفر و حضر میں، قریب و بعید میں حدوں کو نافذ کرو اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ کرو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فِي جَيْشٍ، فَبَعَثَ خَالِدٌ ضِرَارَ بْنَ الْأَزْوَرِ فِي سَرِيَّةٍ فِي خَيْلٍ، فَأَغَارُوا عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، فَأَصَابُوا امْرَأَةً عَرُوسًا جَمِيلَةً، فَأَعْجَبَتْ ضِرَارًا، فَسَأَلَهَا أَصْحَابَهُ فَأَعْطَوْهَا إِيَّاهُ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا قَفَلَ نَدِمَ وَسُقِطَ بِهِ فِي يَدِهِ، فَلَمَّا رُفِعَ إِلَى خَالِدٍ أَخْبَرَهُ بِالَّذِي فَعَلَ، فَقَالَ خَالِدٌ: فَإِنِّي قَدْ أَجَزْتُهَا لَكَ وَطَيَّبْتُهَا لَكَ. قَالَ: لَا حَتَّى تَكْتُبَ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ، فَكَتَبَ عُمَرُ أَنْ أَرْضِخْهُ بِالْحِجَارَةِ، فَجَاءَ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ تُوُفِّيَ، فَقَالَ: مَا كَانَ اللهُ لِيُخْزِيَ ضِرَارَ بْنَ الْأَزْوَرِ.
حافظ ثناء اللہ
ہارون بن اصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر میں روانہ فرمایا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کو گھڑ سواروں کے ساتھ بھیجا، انہوں نے بنو اسد پر شب خون مارا، انہیں ایک خوبصورت دلہن ملی، وہ ضرار رضی اللہ عنہ کو اچھی لگی تو ساتھیوں کی رضامندی کے بعد ضرار رضی اللہ عنہ اس پر واقع ہوگئے، جب واپس پلٹے تو شرمندہ ہوئے اور ہاتھ کو فالج ہوگیا، جب انہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور جو انہوں نے کیا تھا اس کی خبر دی تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں اس عورت کو آپ کے لیے جائز قرار دیتا ہوں، وہ فرمانے لگے: نہیں، بلکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھو، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ ان کا سر پتھروں سے کچل دیا جائے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا تو اس وقت وہ فوت ہوچکے تھے، راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کو رسوائی سے بچا لیا۔