کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی اس کا سامان جلایا جائے گا، اور اس شخص کے بیان میں جس نے کہا کہ سامان جلایا جائے گا۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَابْنُ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ رَهِقَهُ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ، فَحَاصَتْ بِهِ النَّاقَةُ، فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ شَجَرَةٌ، فَقَالَ: " رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي، أَتَخْشَوْنَ عَلَيَّ الْبُخْلَ؟ وَاللهِ لَوْ أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ نَعَمًا مِثْلَ سَمُرِ تِهَامَةَ لَقَسَمْتُهَا بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُونَنِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذَّابًا ". ثُمَّ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ وَبَرِ سَنَامِ الْبَعِيرِ فَرَفَعَهَا وَقَالَ: " مَا لِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ وَلَا مِثْلُ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ ". فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ قَسْمِ الْخُمُسِ أَتَاهُ رَجُلٌ يَسْتَحِلُّهُ خِيَاطًا أَوْ مِخْيَطًا فَقَالَ: " رُدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب غزوہ حنین سے واپس آئے تو لوگوں نے آپ کو گھیر لیا اور مال مانگ رہے تھے، جس کی وجہ سے اونٹنی بدکی اور آپ کی چادر مبارک درخت پر اٹک گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری چادر واپس کرو، کیا تمہیں مجھ سے بخل کا خطرہ ہے؟ اگر اللہ مجھے تہامہ کے درختوں جتنے جانور عطا کر دے تو میں سارے کے سارے تمہارے درمیان تقسیم کر دوں، پھر تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاؤ گے۔“ پھر آپ ﷺ نے اونٹ کی کوہان کے بال پکڑ کر بلند فرمائے اور فرمایا: ”اللہ کے عطا کردہ مال سے میرا حصہ اتنا بھی نہیں سوائے پانچویں حصے کے اور خمس بھی تمہیں واپس کر دیا جاتا ہے۔“ خمس کی تقسیم کے وقت ایک شخص آیا، جو اپنے لیے اس مال سے سوئی یا دھاگا بھی حلال خیال کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دھاگا اور سوئی واپس کر دو، کیونکہ مالِ غنیمت میں خیانت قیامت کے دن عیب، آگ اور رسوائی ہوگی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18209
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ، فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيَخْمُسُهَا وَيَقْسِمُهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ قَالَ: " أَسَمِعْتَ بِلَالًا نَادَى ثَلَاثًا؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ؟ " قَالَ: فَاعْتَذَرَ قَالَ: " كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ " وَقَدْ مَضَى فِي الْبَابِ قَبْلَهُ حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فِي كِرْكِرَةَ، وَلَمْ يُذْكَرْ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِتَحْرِيقِ مَتَاعِ الْغَالِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب مالِ غنیمت حاصل ہوتا تو رسول اللہ ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرماتے کہ: ”لوگوں میں اعلان کرو کہ غنیمت کا مال لے آؤ۔“ آپ ﷺ پانچواں حصہ نکال کر باقی تقسیم فرما دیتے۔ اس کے بعد ایک شخص بالوں کی ایک لٹ لے کر آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مالِ غنیمت میں سے ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے بلال کا تین مرتبہ اعلان سنا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”پھر تو اسے لے کر کیوں نہ آیا؟“ اس نے عذر پیش کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ، کل قیامت کے دن اسے لے کر آنا، میں تجھ سے اسے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث کرکرہ کے بارے میں گزر چکی ہے۔ آپ ﷺ نے کسی جگہ بھی مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کا سامان نہیں جلایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18210
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ تقدم برقم ٦/١٢٧١٩»
وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى ضَعْفِ مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ الزَّاهِدُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبُرِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أنبأ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَحْرَقُوا مَتَاعَ الْغَالِّ وَمَنَعُوهُ سَهْمَهُ وَضَرَبُوهُ. هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کے مال کو جلایا اور مالِ غنیمت سے اس کا حصہ بھی روک دیا اور پٹائی بھی کی۔
پچھلی روایات اس روایت کے ضعیف ہونے کی دلیل ہیں۔ کئی راویوں نے اسے ولید بن مسلم سے اسی طرح بیان کیا ہے، اور ان سے یہ مرسل بھی بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18211
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، قَوْلَهُ لَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ الْوَهَّابِ مَنْعَ سَهْمِهِ، وَيُقَالُ: إِنَّ زُهَيْرًا هَذَا مَجْهُولٌ وَلَيْسَ بِالْمَكِّيِّ.
حافظ ثناء اللہ
یہ روایت عمرو بن شعیب سے ان کے اپنے قول کے طور پر بھی مروی ہے، عبدالوہاب نے اس کا حصہ روکنے کا ذکر نہیں کیا۔
کہا جاتا ہے کہ یہ زہیر مجہول ہے اور وہ مکی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18212
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗١٧٥⦘ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَرْضَ الرُّومِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ غَلَّ، فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ وَاضْرِبُوهُ ". قَالَ: فَوَجَدْنَا فِي مَتَاعِهِ مُصْحَفًا، فَسُئِلَ سَالِمٌ عَنْهُ فَقَالَ: بِعْهُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ. لَفْظُ حَدِيثِ سَعِيدٍ، فَهَذَا ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
صالح بن محمد بن زائدہ فرماتے ہیں: میں روم کی سرزمین پر مسلم بن عبدالملک کے ساتھ تھا۔ ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی۔ اس نے سالم سے اس کے بارے میں سوال کیا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم ایسے شخص کو پاؤ جس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو اور اس کو مارو۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے اس کے سامان میں قرآن مجید پایا تو سالم سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرماتے ہیں: قرآن مجید بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18213
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ وَمَعَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَغَلَّ رَجُلٌ مَتَاعًا فَأَمَرَ الْوَلِيدُ بِمَتَاعِهِ فَأُحْرِقَ وَطِيفَ بِهِ وَلَمْ يُعْطِهِ سَهْمَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا أَصَحُّ الْحَدِيثَيْنِ، رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ هِشَامٍ حَرَّقَ رَحْلَ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ وَكَانَ قَدْ غَلَّ، وَضَرَبَهُ..
حافظ ثناء اللہ
صالح بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے ولید بن ہشام کے ساتھ مل کر غزوہ کیا اور ہمارے ساتھ سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تھے۔ ایک شخص نے مال غنیمت میں خیانت کر لی تو ولید نے اس کے سامان کو جلانے کا حکم دیا اور اسے (لوگوں میں) پھرایا گیا اور مال غنیمت میں سے حصہ بھی نہ دیا گیا۔ (ب) ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ دونوں حدیثوں میں سے زیادہ صحیح ہے۔ کئی راویوں نے بیان کیا ہے کہ ولید بن ہشام نے زیاد بن سعد کا سامان جلایا، اس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی، اور اسے مارا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18214
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ الْمَدَنِيُّ تَرَكَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، يَرْوِي عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، رَفْعَهُ: " مَنْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ ". وَقَدْ رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُلُولِ وَلَمْ يَحْرِقْ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَعَلَيْهِ أَصْحَابُنَا يَحْتَجُّونَ بِهَذَا فِي الْغُلُولِ وَهَذَا بَاطِلٌ لَيْسَ بِشَيْءٍ..
حافظ ثناء اللہ
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صالح بن محمد بن زائدہ ابو واقد لیثی مدنی کو سلیمان بن حرب نے ترک کر دیا تھا، وہ منکر الحدیث ہے۔ وہ سالم سے، وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث نقل کرتا ہے کہ ”جو شخص مال غنیمت میں خیانت کرے اس کا سامان جلا دو“۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی ﷺ سے مال غنیمت میں خیانت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، آپ ﷺ نے اس کا سامان نہیں جلایا۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے اصحاب خیانت کے بارے میں اسی سے دلیل لیتے ہیں، اور وہ (سامان جلانے والی) روایت باطل ہے، کچھ بھی نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18215
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ لَيْسَ حَدِيثُهُ بِذَاكَ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صالح بن محمد بن زائدہ کی حدیث کچھ قوی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18216