کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس کا یہ موقف ہے کہ دار الحرب میں حدود نافذ نہ کی جائیں یہاں تک کہ (مجاہدین) واپس لوٹ آئیں۔
حدیث نمبر: 18223
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ شُيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ، وَيَزِيدَ بْنِ صُبْحٍ الْأَصْبَحِيِّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ بُسْرِ بْنِ أَبِي أَرْطَاةَ فِي الْبَحْرِ فَأُتِيَ بِسَارِقٍ يُقَالُ لَهُ مَصْدَرٌ قَدْ سَرَقَ بُخْتِيَّةً، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي السَّفَرِ "؛ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَقَطَعْتُهُ. هَذَا إِسْنَادٌ شَامِيٌّ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يَقُولُ: أَهْلُ الْمَدِينَةِ يُنْكِرُونَ أَنْ يَكُونَ بُسْرُ بْنُ أَرْطَاةَ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ يَحْيَى: بُسْرُ بْنُ أَرْطَاةَ رَجُلُ سَوْءٍ.
حافظ ثناء اللہ
جنادہ بن امیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سمندری سفر میں تھے۔ ان کے پاس ایک چور لایا گیا جس کا نام مقتدر تھا، اس نے بختی اونٹ چوری کیا تھا۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”سفر میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔“ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ (ب) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل مدینہ انکار کرتے ہیں کہ بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سنا ہے اور یحییٰ تو فرماتے ہیں کہ بسر بن ارطاۃ برا آدمی ہے۔
حدیث نمبر: 18224
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، ⦗١٧٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ يَحْيَى لِمَا ظَهَرَ مِنْ سُوءِ فِعْلِهِ فِي قِتَالِ أَهْلِ الْحَرَّةِ وَغَيْرِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یحییٰ رحمہ اللہ نے جو اس کے بارے میں کہا، وہ اس وجہ سے ہے کہ اس کا برا فعل حرہ کی لڑائی میں ظاہر ہوا۔
حدیث نمبر: 18225
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: حَدَّثَنَا بَعْضُ أَشْيَاخِنَا عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي دَارِ الْحَرْبِ مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ أَهْلُهَا بِالْعَدُوِّ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دار الحرب میں حدود نافذ نہ کی جائیں، اس ڈر سے کہ کہیں دشمن سے نہ جا ملے۔
حدیث نمبر: 18226
قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَتَبَ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَإِلَى عُمَّالِهِ: " أَنْ لَا يُقِيمُوا حَدًّا عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ حَتَّى يَخْرُجُوا إِلَى أَرْضِ الْمُصَالَحَةِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: مَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُسْتَنْكَرٌ، وَهُوَ يَعِيبُ أَنْ يُحْتَجَّ بِحَدِيثٍ غَيْرِ ثَابِتٍ، وَيَقُولُ: حَدَّثَنَا شَيْخٌ، وَمَنْ هَذَا الشَّيْخُ؟ وَيَقُولُ: مَكْحُولٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمَكْحُولٌ لَمْ يَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَوْلُهُ يَلْحَقُ بِالْمُشْرِكِينَ، فَإِنْ لَحِقَ بِهِمْ فَهُوَ أَشْقَى لَهُ، وَمَنْ تَرَكَ الْحَدَّ خَوْفَ أَنْ يَلْحَقَ الْمَحْدُودُ بِبِلَادِ الْمُشْرِكِينَ تَرَكَهُ فِي سَوَاحِلِ الْمُسْلِمِينَ وَمَسَالِحِهِمُ الَّتِي تَتَّصِلُ بِبِلَادِ الْحَرْبِ.
حافظ ثناء اللہ
حکیم بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمیر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ اور اپنے عمال کو خط لکھا کہ وہ مسلمانوں پر «دَارُ الْحَرْبِ» میں حد نافذ نہ کریں، یہاں تک کہ وہ صلح والی زمین پر آ جائیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کردہ حدیث منکر ہے، لہٰذا غیر ثابت شدہ حدیث سے دلیل لینا درست نہیں ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اگر وہ مشرکین سے جا ملے تو بہت برا ہے اور جس نے حد کو صرف اس لیے چھوڑا کہ وہ مشرکین سے نہ جا ملے تو (لازم ہے کہ حاکم) مسلمانوں کی سمندری حدوں اور ان حدود میں حد نافذ کرے جہاں «بِلَادُ الْحَرْبِ» ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کردہ حدیث منکر ہے، لہٰذا غیر ثابت شدہ حدیث سے دلیل لینا درست نہیں ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اگر وہ مشرکین سے جا ملے تو بہت برا ہے اور جس نے حد کو صرف اس لیے چھوڑا کہ وہ مشرکین سے نہ جا ملے تو (لازم ہے کہ حاکم) مسلمانوں کی سمندری حدوں اور ان حدود میں حد نافذ کرے جہاں «بِلَادُ الْحَرْبِ» ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 18227
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا ⦗١٧٩⦘ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ خَتَنُ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيِّ، ثنا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَرِبَ عَبْدُ بْنُ الْأَزْوَرِ وَضِرَارُ بْنُ الْأَزْوَرِ وَأَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو بِالشَّامِ، فَأُتِيَ بِهِمْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُو جَنْدَلٍ: وَاللهِ مَا شَرِبْتُهَا إِلَّا عَلَى تَأْوِيلِ أَنِّي سَمِعْتُ اللهَ يَقُولُ: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} [المائدة: ٩٣]. فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَمْرِهِمْ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ الْأَزْوَرِ: إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ لَنَا عَدُوُّنَا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُؤَخِّرَنَا إِلَى أَنْ نَلْقَى عَدُوَّنَا غَدًا، فَإِنِ اللهُ أَكْرَمَنَا بِالشَّهَادَةِ كَفَاكَ ذَاكَ وَلَمْ تُقِمْنَا عَلَى خَزَايَةٍ وَإِنْ نَرْجِعْ نَظَرْتَ إِلَى مَا أَمَرَكَ بِهِ صَاحِبُكَ فَأَمْضَيْتَهُ. قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَنَعَمْ. فَلَمَّا الْتَقَى النَّاسُ قُتِلَ عَبْدُ بْنُ الْأَزْوَرِ شَهِيدًا، فَرَجَعَ الْكِتَابُ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ الَّذِي أَوْقَعَ أَبَا جَنْدَلٍ فِي الْخَطِيئَةِ قَدْ تَهَيَّأَ لَهُ فِيهَا بِالْحُجَّةِ، وَإِذَا أَتَاكَ كِتَابِي هَذَا فَأَقِمْ عَلَيْهِمْ حَدَّهُمْ وَالسَّلَامُ. فَدَعَاهُمَا أَبُو عُبَيْدَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَدَّهُمَا، وَأَبُو جَنْدَلٍ لَهُ شَرَفٌ وَلِأَبِيهِ، فَكَانَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ حَتَّى قِيلَ: إِنَّهُ قَدْ وُسْوِسَ، فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي قَدْ ضَرَبْتُ أَبَا جَنْدَلٍ حَدَّهُ، وَإِنَّهُ قَدْ حَدَّثَ نَفْسَهُ حَتَّى قَدْ خَشِينَا عَلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ. فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي جَنْدَلٍ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الَّذِي أَوْقَعَكَ فِي الْخَطِيئَةِ قَدْ خَزَنَ عَلَيْكَ التَّوْبَةَ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {حم تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ} [غافر: ٢]، فَلَمَّا قَرَأَ كِتَابَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَهَبَ عَنْهُ مَا كَانَ بِهِ كَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عبد بن ازور، ضرار بن خطاب، ابو جندل اور سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہم نے شام میں شراب پی۔ انھیں ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا۔ ابو جندل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو اس قرآنی آیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پی: ﴿لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ﴾ [سورة المائدة: 93] ”ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو ایمان لائے، نیک عمل کیے اس میں جو انہوں نے کھایا، جب وہ اللہ سے ڈرے ہیں اور ایمان لائے نیک اعمال کیے۔“ تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے ان کا معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا، تو عبد بن ازور رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دشمن ہمارے سامنے موجود ہے۔ اگر آپ ہمیں کل تک دشمن سے لڑنے کے لیے مہلت دیں، اگر اللہ نے شہادت کا مرتبہ عطا کر دیا تو آپ کو یہی کافی ہے، آپ ہمیں حد نہ لگائیں گے۔ اگر واپس آئے تو جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا حکم ہو، وہ کر گزرنا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ مان گئے، تو عبد بن ازور رضی اللہ عنہ لڑائی میں شہید کر دیے گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ ابو جندل نے دلیل لینے میں غلطی کی ہے۔ جب میرا خط آپ کو مل جائے تو ان پر حد نافذ کر دینا۔ والسلام! ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے دونوں کو بلا کر حد نافذ کر دی۔ ابو جندل رضی اللہ عنہ اور ان کے والد کا ایک مقام تھا۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کرنے لگے۔ یہاں تک کہ کہا گیا کہ ان کے حواس گم ہو گئے ہیں تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ دیا کہ میں نے ابو جندل کو حد لگائی تو وہ بد حواس ہو گیا۔ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہو جائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابو جندل رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ حمد و ثنا کے بعد: جس چیز نے آپ کو غلطی میں مبتلا کیا ہے اس کی وجہ سے آپ کے ذمہ توبہ لازم ہے: ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حم تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيْرُ مَا يُجَادِلُ فِيْ اٰیٰتِ اللّٰهِ إِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ﴾ [سورة غافر: 1-4] ”اس کتاب کا نازل کرنا غالب جاننے والے اللہ کی جانب سے ہے، گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا والا، قوت والا، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس کی طرف پلٹ کر جانا ہے، اللہ کی آیات کے بارے میں صرف کافر لوگ جھگڑا کرتے ہیں۔ ان کا شہروں میں پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔“ جب انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط پڑھا تو ان کی وہ کیفیت ختم ہو گئی گویا کہ وہ رسی سے کھول دیے گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 18228
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: كَانَ اللَّيْثُ يَرَى أَنْ يُقِيمَ الْحَدَّ فِي أَرْضِ الرُّومِ؛ لَأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَمَنْ يُرِدِ اللهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللهِ شَيْئًا} [المائدة: ٤١].
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن صالح فرماتے ہیں کہ لیث کا خیال تھا کہ روم کی سرزمین پر حد جاری کی جائے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿مَنْ يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا﴾ [سورة المائدة: 41] ”جس شخص کی آزمائش کا اللہ ارادہ فرمائے تو اللہ کے مقابلے میں آپ اس کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔“