حدیث نمبر: 18218
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، أَظُنُّهُ عَنِ الْوَاقِدِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي قِصَّةِ خَيْبَرَ وَمَا أُخْرِجَ مِنْ حِصْنِ الصَّعْبِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: وَزُقَاقُ خَمْرٍ فَأُهْرِيقَتْ وَعَمَدَ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَشَرِبَ مِنْ ذَلِكَ الْخَمْرِ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ حِينَ رُفِعَ إِلَيْهِ فَخَفَقَهُ بِنَعْلِهِ وَأَمَرَ مَنْ حَضَرَهُ فَخَفَقُوهُ بِنِعَالِهِمْ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللهِ الْحِمَارُ كَانَ رَجُلًا لَا يَصْبِرُ عَنِ الشُّرْبِ فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اللهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُضْرَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَفْعَلْ يَا عُمَرُ فَإِنَّهُ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

عبدالحمید بن جعفر اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے خیبر کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ صعب بن معاذ کے قلعے سے شراب نکالی گئی اور گلیوں میں بہا دی گئی، تو اس شراب میں سے کسی مسلمان شخص نے جان بوجھ کر پی لی۔ جب معاملہ نبی ﷺ تک پہنچا تو آپ ﷺ نے اسے ناپسند فرمایا۔ آپ ﷺ نے اسے اپنے جوتے سے مارا اور لوگوں کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے جوتوں سے ماریں۔ اسے عبداللہ الحمار کہا جاتا تھا۔ یہ ایسا شخص تھا جو شراب سے باز نہ آتا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کو کئی مرتبہ سزا دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ! اس پر لعنت ہو کہ یہ کتنی بار سزا دیا گیا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! ایسا نہ کہو، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18218
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»