السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: إقامة الحدود في أرض الحرب باب: دار الحرب (دشمن کے علاقے) میں حدود نافذ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18217
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَدَّ بِالْمَدِينَةِ، وَالشِّرْكُ قَرِيبٌ مِنْهَا وَفِيهَا شِرْكٌ كَثِيرٌ مُوَادِعُونَ، وَضَرَبَ الشَّارِبَ بِحُنَيْنٍ وَالشِّرْكُ قَرِيبٌ مِنْهُ..حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں حد قائم فرمائی، حالانکہ شرک (یعنی مشرکین) اس کے قریب تھا اور خود مدینہ میں بھی بہت سے ایسے مشرک تھے جن سے صلح کا معاہدہ تھا، اور آپ ﷺ نے حنین میں شراب پینے والے کو (حد کی) مار لگوائی جبکہ شرک (مشرکین) اس کے قریب تھا۔“...
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَرْمَيسِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكُهَيْلِيُّ، أنبأ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا رَوْحٌ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ الزُّهْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَأُتِيَ ⦗١٧٦⦘ بِسَكْرَانَ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضَرَبُوهُ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ، وَحَثَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو حنین کے دن دیکھا کہ آپ ﷺ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی منزل کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ ایک شرابی لایا گیا تو آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: ”جو ان کے ہاتھوں میں ہے اسے ماریں“ اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر مٹی ڈالی۔