السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: إقامة الحدود في أرض الحرب باب: دار الحرب (دشمن کے علاقے) میں حدود نافذ کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فِي جَيْشٍ، فَبَعَثَ خَالِدٌ ضِرَارَ بْنَ الْأَزْوَرِ فِي سَرِيَّةٍ فِي خَيْلٍ، فَأَغَارُوا عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، فَأَصَابُوا امْرَأَةً عَرُوسًا جَمِيلَةً، فَأَعْجَبَتْ ضِرَارًا، فَسَأَلَهَا أَصْحَابَهُ فَأَعْطَوْهَا إِيَّاهُ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا قَفَلَ نَدِمَ وَسُقِطَ بِهِ فِي يَدِهِ، فَلَمَّا رُفِعَ إِلَى خَالِدٍ أَخْبَرَهُ بِالَّذِي فَعَلَ، فَقَالَ خَالِدٌ: فَإِنِّي قَدْ أَجَزْتُهَا لَكَ وَطَيَّبْتُهَا لَكَ. قَالَ: لَا حَتَّى تَكْتُبَ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ، فَكَتَبَ عُمَرُ أَنْ أَرْضِخْهُ بِالْحِجَارَةِ، فَجَاءَ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ تُوُفِّيَ، فَقَالَ: مَا كَانَ اللهُ لِيُخْزِيَ ضِرَارَ بْنَ الْأَزْوَرِ.ہارون بن اصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر میں روانہ فرمایا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کو گھڑ سواروں کے ساتھ بھیجا، انہوں نے بنو اسد پر شب خون مارا، انہیں ایک خوبصورت دلہن ملی، وہ ضرار رضی اللہ عنہ کو اچھی لگی تو ساتھیوں کی رضامندی کے بعد ضرار رضی اللہ عنہ اس پر واقع ہوگئے، جب واپس پلٹے تو شرمندہ ہوئے اور ہاتھ کو فالج ہوگیا، جب انہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور جو انہوں نے کیا تھا اس کی خبر دی تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں اس عورت کو آپ کے لیے جائز قرار دیتا ہوں، وہ فرمانے لگے: نہیں، بلکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھو، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ ان کا سر پتھروں سے کچل دیا جائے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا تو اس وقت وہ فوت ہوچکے تھے، راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کو رسوائی سے بچا لیا۔