کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کے بیان میں جس پر جہاد فرض نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ: " جِهَادُكُنَّ أَوْ حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے جہاد کرنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا جہاد تمہارا حج ہے یا حج کرنا ہی تمہیں کافی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17802
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٢٨٧٥»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ النَّجَّارُ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ⦗٣٧⦘ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ: " حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ أَوْ جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ "..
حافظ ثناء اللہ
یہ روایت بھی پہلی روایت کی طرح ہے۔ یہاں پر «حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ أَوْ جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ» ”تمہارے لیے حج کافی ہے یا تمہارا جہاد حج ہے“ کے الفاظ ہیں۔ (سابقہ حوالہ)
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17803
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ بْنُ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِنَحْوِ هَذَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
یہ روایت بھی سابقہ روایات کی طرح ہے اور اس کی دونوں سندیں قبیصہ سے منقول ہیں۔ (سابقہ حوالہ)
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17804
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودٌ الْوَاسِطِيُّ لَفْظَهُ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا وَهْبٌ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ؛ أَفَلَا نُجَاهِدُ مَعَكَ؟ قَالَ: " لَا وَلَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ ". وَكَانَتْ عَائِشَةُ خَالَتَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم جہاد کو افضل عمل سمجھتی ہیں، کیا ہم بھی آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن (عورتوں کے لیے) افضل عمل حج مبرور ہے۔“
اسے امام بخاری نے بہت سی جگہوں پر بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17805
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا نَغْزُو فَنُسْتَشْهَدَ، وَإِنَّمَا لَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ} [سورة: النساء، آية رقم: ٣٢].
حافظ ثناء اللہ
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرد غزوات میں شریک ہوتے ہیں اور ہم شرکت نہیں کرتیں اور نہ ہم قتال کرتی ہیں کہ ہمیں شہادت مل جائے اور اسی طرح مردوں کے مقابلے میں ہمیں وراثت میں آدھا حصہ ملتا ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ﴾ [سورة النساء: 32] ”جس چیز کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی تمنا نہ کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17806
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرَيْشٍ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " عَرَضَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْنِي، وَعَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ، وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي ". قَالَ نَافِعٌ: فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْحَدُّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ. وَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ كَانَ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً وَمَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَاجْعَلُوهُ فِي الْعِيَالِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے احد کی لڑائی میں احد کے دن اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا۔ آپ ﷺ نے مجھے اجازت نہ دی اور اس وقت میری عمر چودہ سال تھی۔ پھر خندق کے دن میں نے پیش کیا تو میری عمر پندرہ سال تھی تو آپ ﷺ نے مجھے (اس میں حصہ لینے کی) اجازت دے دی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دورِ خلافت میں ان کے پاس گیا اور انہیں یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا کہ یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان حد ہے۔ پھر انہوں نے اپنے عاملوں کی طرف لکھا کہ جس کی عمر پندرہ سال ہو تو وہ اس کو قتال میں شریک کریں اور جو اس سے کم عمر کا ہو تو اس کو اہل و عیال میں بھیج دیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17807
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ⦗٣٨⦘ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " عُرِضْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَنَا وَرَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَا وَهُوَ ابْنَا خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَقَبِلَنَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اور رافع بن خدیج خندق کے دن (جنگ کے لیے) نبی اکرم ﷺ پر پیش کیے گئے اور اس وقت ہم دونوں پندرہ پندرہ سال کے تھے تو آپ نے ہم دونوں کو قبول کر لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17808
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ الْأَعْيَنُ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَمِّي عَمْرُو بْنُ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي زَيْدُ بْنُ جَارِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَصْغَرَ نَاسًا يَوْمَ أُحُدٍ مِنْهُمْ زَيْدُ بْنُ جَارِيَةَ يَعْنِي نَفْسَهُ، وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، وَسَعْدٌ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَذَكَرَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، كَذَا فِي كِتَابِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَرَأَيْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ ابْنُ عُبَيْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن جاریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن چند بچوں کو چھوٹا جانتے ہوئے (جہاد کے لیے) قبول نہ فرمایا، ان میں سے ایک تو میں تھا اور سیدنا براء بن عازب، سیدنا زید بن ارقم، سیدنا سعد، سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم تھے اور اسی طرح سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اور ایک کتاب میں عثمان بن عبداللہ اور ایک دوسری جگہ ابن عبید اللہ رضی اللہ عنہما کے نام تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17809
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَتْ بِي أُمِّي فَقَدِمَتِ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَهَا النَّاسُ، فَقَالَتْ: لَا أَتَزَوَّجُ إِلَّا بِرَجُلٍ يَكْفُلُ لِي هَذَا الْيَتِيمَ، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ غِلْمَانَ الْأَنْصَارِ فِي كُلِّ عَامٍ فَيُلْحِقُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْهُمْ. قَالَ: وَعُرِضْتُ عَامًا فَأَلْحَقَ غُلَامًا وَرَدَّنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ أَلْحَقْتَهُ وَرَدَدْتَنِي، وَلَوْ صَارَعْتُهُ لَصَرَعْتُهُ، قَالَ: " فَصَارِعْهُ "، فَصَارَعْتُهُ فَصَرَعْتُهُ؛ فَأَلْحَقَنِي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ماں مجھے مدینہ میں لے کر آئی تو لوگوں نے ان کی طرف نکاح کے پیغام بھیجے تو انہوں نے کہا کہ میں نکاح اس آدمی سے کروں گی جو اس یتیم کی پرورش کرے گا، تو انہوں نے انصار میں سے ایک آدمی سے نکاح کر لیا۔ آپ ﷺ ہر سال انصار کے بچوں کو، جب ان کو پیش کیا جاتا، ان میں سے جس کے اندر صلاحیت معلوم کرتے اس کو لشکر میں بھیج دیتے۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک سال مجھے اور میرے ساتھ ایک اور لڑکے کو پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو قبول کر لیا اور مجھے رد کر دیا۔ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کو قبول کر لیا ہے اور مجھے واپس کر دیا ہے، اگر میں اسے گرا لوں تو کیا پھر میں بھی جا سکتا ہوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلو تم دونوں کشتی کر لو۔“ تو وہ کہتے ہیں: میں نے اسے پچھاڑ دیا تو آپ ﷺ نے مجھے بھی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17810
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خِلَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُكَاتِبُ الْحَرُورِيَّةَ وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَكْتُمَ عِلْمًا لَمْ أَكْتُبْ إِلَيْهِ. فَكَتَبَ نَجْدَةُ إِلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ، فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ؟ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ؟. فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ، وَقَدْ كَانَ يَغْزُو ⦗٣٩⦘ بِهِنَّ يُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا السَّهْمُ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلِ الْوِلْدَانَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخِضْرُ مِنَ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَ، فَتُمَيِّزَ بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ، فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ، وَكَتَبْتَ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ، وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ ضَعِيفُ الْإِعْطَاءِ، فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْخُمُسِ وَإِنَّا كُنَّا نَقُولُ: هُوَ لَنَا فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا فَصَبَرْنَا عَلَيْهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " وَأَمَّا النِّسَاءُ وَالْعَبِيدُ فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شَيْءٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ، وَلَكِنْ يُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ہرمز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نجدہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف لکھا اور وہ آپ سے خلال کے متعلق پوچھ رہے تھے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابن عباس حروریوں سے خط و کتابت کرتے ہیں اور اگر مجھے علم چھپانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس کو کبھی نہ لکھتا۔ نجدہ نے ان کو لکھا: «أَمَّا بَعْدُ!» ”اما بعد!“ مجھے یہ بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ عورتوں کے ساتھ غزوہ کرتے تھے اور کیا آپ ﷺ ان کے لیے حصہ مقرر کرتے تھے؟ اور کیا آپ ﷺ بچوں کو قتل کرتے تھے اور یتیم کی یتیمیت کب پوری ہوتی ہے اور خمس کے متعلق بتائیے کہ وہ کس کے لیے ہے؟ پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عورتوں کے ساتھ مل کر غزوہ کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاں، عورتیں بھی آپ ﷺ کے ساتھ غزوہ میں شریک ہوتی تھیں لیکن وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور بیماروں کی تیمار داری کرتی تھیں اور انھیں غنیمت میں سے دیا جاتا تھا لیکن ان کا حصہ مقرر نہ تھا اور آپ ﷺ بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے۔ پس تم بھی ان کو قتل نہ کرنا ما سوائے اس کے کہ تم ان بچوں میں وہ کچھ جان لو جو کچھ خضر (علیہ السلام) نے جانا تھا اور اسی طرح مومن اور کافر کے درمیان تمیز کرنا، پس کافر کو قتل کر دینا اور مومن کو چھوڑ دینا اور اسی طرح تو نے لکھا ہے کہ یتیم کی یتیمیت کب پوری اور مکمل ہوتی ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میری عمر کی قسم! بعض دفعہ آدمی کی داڑھی نکل آتی ہے اور اس کو لین دین کا کوئی پتہ نہیں ہوتا، وہ اس معاملے میں بالکل کمزور ہوتا ہے اور جس کو وہ سمجھ بوجھ حاصل ہو جائے جو باقی لوگوں کو ہوتی ہے تو اس کی یتیمیت ختم ہو جاتی ہے اور تم نے مجھ سے خمس کے متعلق سوال کیا ہے تو ہم کہا کرتے تھے: یہ ہمارے لیے ہے، لیکن قوم نے ہم پر انکار کر دیا (کہ یہ تمہارا نہیں) تو ہم نے صبر کیا۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رہے غلام اور عورتیں تو ان کے لیے جب یہ جنگ میں حاضر ہوتے تو کوئی خاص حصہ مقرر نہیں تھا، لیکن وہ قوم کے غنائم میں سے کچھ لے لیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17811
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى الْأَنْطَاكِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَمَرَّ بِأُنَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَاتَّبَعَهُ عَبْدٌ لِامْرَأَةٍ مِنْهُمْ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ سَلَّمَ عَلَيْهِ، قَالَ: " فُلَانٌ "؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا شَأْنُكَ؟ " قَالَ: أُجَاهِدُ مَعَكَ. قَالَ: " أَذِنَتْ لَكَ سَيِّدَتُكَ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهَا فَإِنَّ مَثَلَكَ مَثَلُ عَبْدٍ لَا يُصَلِّي، إِنْ مُتُّ قَبْلَ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهَا، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ ". فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ، فَقَالَتْ: آللَّهِ هُوَ أَمَرَ أَنْ تَقْرَأَ عَلَيَّ السَّلَامَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَتْ: ارْجِعْ فَجَاهِدْ مَعَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بعض مغازی میں تھے اور آپ مزینہ کے لوگوں کے قریب سے گزرے تو اس قبیلہ کی عورت کے ایک غلام نے آپ کا پیچھا کیا۔ جب آپ سے راستے میں اس کی ملاقات ہوئی تو اس نے آپ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو فلاں ہے؟“ اس نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ کیا مسئلہ ہے؟“ اس نے کہا: میں آپ ﷺ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہاری سیدہ نے تمہیں اجازت دی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی طرف لوٹ جاؤ اور تمہاری مثال اس غلام یا بندے کی طرح ہے جو نماز نہیں پڑھتا اگر تو اس کے پاس پہنچنے سے پہلے مر گیا؛ اور اسے میرا سلام کہنا۔“ غلام اپنی سیدہ کے پاس آیا اور اسے آپ ﷺ کا سلام عرض کیا اور پورا واقعہ بیان کیا تو اس نے کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ کیا آپ ﷺ نے مجھ کو سلام کہنے کا حکم دیا تھا؟ غلام نے کہا: ہاں! تو اس سیدہ نے کہا: پھر تم جاؤ اور آپ ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17812
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»