السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من لا يجب عليه الجهاد باب: اس شخص کے بیان میں جس پر جہاد فرض نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 17806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا نَغْزُو فَنُسْتَشْهَدَ، وَإِنَّمَا لَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ} [سورة: النساء، آية رقم: ٣٢].حافظ ثناء اللہ
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرد غزوات میں شریک ہوتے ہیں اور ہم شرکت نہیں کرتیں اور نہ ہم قتال کرتی ہیں کہ ہمیں شہادت مل جائے اور اسی طرح مردوں کے مقابلے میں ہمیں وراثت میں آدھا حصہ ملتا ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ﴾ [سورة النساء: 32] ”جس چیز کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی تمنا نہ کرو۔“