کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جہاد ترک کرنے میں کمزوری، بیماری، معذوری اور دیگر اعذار پیش کرنے والے کے بیان میں۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الْجِهَادِ: {لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَى وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنْفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [التوبة: 91]، إِلَى آخِرِ الْآيَاتِ الثَّلَاثِ..
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد کے بارے میں فرمایا: ﴿لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَى وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنْفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ ”کمزوروں پر، بیماروں پر اور ان لوگوں پر جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتے، کوئی گناہ نہیں جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خیر خواہ ہوں، نیکی کرنے والوں پر (الزام کی) کوئی راہ نہیں، اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ [سورة التوبة: 91]
تینوں آیات کے آخر تک...
تینوں آیات کے آخر تک...
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ⦗٤٠⦘ ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ حَمَّادٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جِهَادُ الْكَبِيرِ وَالضَّعِيفِ وَالْمَرْأَةِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بوڑھے، کمزور اور عورتوں کا جہاد حج مبرور ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ: " لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ "، الْآيَةَ، أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَكَتَبَهَا، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَشَكَا ضَرَارَتَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: ٩٥] ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 95] ”اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھے رہنے والے مومن برابر نہیں ہو سکتے“ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اس کو لکھا۔ پھر ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اپنی بیماری وغیرہ کا عذر رسول اللہ ﷺ کو پیش کیا تو اللہ تعالیٰ نے ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ والا حصہ نازل کیا۔ صرف سند ذکر کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ: " لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ "، الْآيَةَ، أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَكَتَبَهَا فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَشَكَا ضَرَارَتَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: ٩٥] ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ جَالِسٌ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ: " لَا ⦗٤١⦘ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ ". قَالَ: فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَأَنَا أَكْتُبُهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ تَرَى مَا بِعَيْنِيَّ مِنَ الضَّرَرِ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ. قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: فَثَقُلَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي حَتَّى هَمَّتْ أَنْ تَرُضَّهَا، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ لِي: " اكْتُبْ: {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ} [النساء: ٩٥]. لَفْظُ حَدِيثِ الْقَنْطَرِيِّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا تو یہ آیت نازل ہوئی ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 95] تو کہتے ہیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور میں لکھ رہا تھا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ میں آنکھوں سے نابینا ہوں اور اگر میں جہاد کرنے کی طاقت رکھتا تو میں ضرور جہاد کرتا، تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی ران میری ران پر بڑی بھاری اور گراں ہو گئی حتیٰ کہ قریب تھا کہ وہ ٹوٹ جاتی، پھر آپ ﷺ کی حالت اچھی ہوگئی اور آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”لکھو! ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ﴾ [سورة النساء: 95]۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ السَّكِينَةَ غَشِيَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ زَيْدٌ: وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَمَا وَجَدْتُ شَيْئًا أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: " اكْتُبْ: {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ} [النساء: ٩٥]، الْآيَةَ كُلَّهَا. قَالَ زَيْدٌ: فَكَتَبْتُ ذَلِكَ فِي كَتِفٍ، فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى حِينَ سَمِعَ فَضِيلَةَ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ بِمَنْ لَا يَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: فَمَا قَضَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ كَلَامَهُ أَوْ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَضَى كَلَامَهُ، فَغَشِيَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ، فَوَقَعَتْ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا الْمَرَّةَ مِثْلَمَا وَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اقْرَأْ "، فَقَرَأْتُ: {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: ٩٥]، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: ٩٥]. قَالَ زَيْدٌ: فَأَلْحَقْتُهَا وَكَانَ مَلْحَقُهَا عِنْدَ صَدْعٍ فِي الْكَتِفِ.
حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو سکینت نے ڈھانپ لیا اور میں آپ ﷺ کے پہلو میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی ران میری ران پر گری تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی ران سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں پائی۔ پھر آپ ﷺ کی یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لکھو! ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ﴾ [سورة النساء: 95]“ پوری آیت۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت میں نے کندھے (کی ہڈی) پر لکھی تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو نابینا آدمی تھے، کھڑے ہوئے۔ جب انہوں نے مجاہدین کی فضیلت بیٹھنے والوں پر سنی تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس آدمی کا کیا حال ہے جو مومنین کے ساتھ جہاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟“ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابھی ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا کلام ختم نہیں ہوا تھا کہ پھر رسول کریم ﷺ کو سکینت نے ڈھانپ لیا اور آپ ﷺ کی ران میری ران پر آگئی تو میں نے اس دفعہ بھی ویسے ہی بوجھ محسوس کیا جیسا کہ پہلی دفعہ محسوس کیا تھا۔ پھر آپ ﷺ کی یہ والی حالت جاتی رہی اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”پڑھیے“ تو میں نے پڑھی: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾“ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس ٹکڑے کو اس آیت میں ملا دیا اور یہ ٹکڑا کندھے کی مضبوط ہڈی پر لکھا ہوا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: ٩٥]، قَالَ: " هُمْ أُولُو الضَّرَرِ قَوْمٌ كَانُوا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْزُونَ مَعَهُ، كَانَتْ تَحْبِسُهُمْ أَوْجَاعٌ وَأَمْرَاضٌ وَآخَرُونَ أَصِحَّاءُ، فَكَانَ الْمَرْضَى أَعْذَرَ مِنَ الْأَصِحَّاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو نضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: اس سے مراد اہل ضرر ہیں، یعنی لوگ جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آپ ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد نہیں کر سکتے تھے، تکالیف اور بیماری نے ان کو جانے سے روک لیا تھا اور دوسرے لوگ صحیح ہونے کے باوجود نہیں جاتے تھے۔ لہٰذا بیمار لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں معذور قرار دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ⦗٤٢⦘ أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ: " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَرِجَالًا مَا سِرْنَا مَسِيرًا، وَلَا قَطَعْنَا وَادِيًا، إِلَّا كَانُوا مَعَنَا فِيهِ؛ حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ ". لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے کسی سفر کے دوران فرمایا: ”مدینہ میں کچھ مرد ہیں، ہم نے کوئی سفر نہیں کیا اور نہ کوئی وادی طے کی ہے مگر وہ ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔ اب ان کو بیماری نے روک لیا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقَدْ تَرَكْتُمْ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ، إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ فِيهِ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَكُونُونَ مَعَنَا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ: " حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وَحَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، ثُمَّ قَالَ: وَقَالَ مُوسَى، عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم مدینہ میں کچھ لوگ چھوڑ آئے ہو، تم نے کوئی سفر طے نہیں کیا اور نہ تم نے کوئی خرچ کیا اور نہ تم نے کوئی وادی طے کی مگر وہ اس میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ ہمارے ساتھ کیسے ہیں جبکہ وہ مدینہ میں بیٹھے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کو عذر نے روک رکھا ہے۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ ہمارے ساتھ کیسے ہیں جبکہ وہ مدینہ میں بیٹھے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کو عذر نے روک رکھا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَالِدِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَشْيَاخٍ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، قَالُوا كَانَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ أَعْرَجَ شَدِيدَ الْعَرَجِ، وَكَانَ لَهُ أَرْبَعَةُ بَنِينَ شَبَابٌ يَغْزُونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا، فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَجَّهُ إِلَى أُحُدٍ، قَالَ لَهُ بَنُوهُ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَعَلَ لَكَ رُخْصَةً فَلَوْ قَعَدْتَ فَنَحْنُ نَكْفِيكَ فَقَدْ وَضَعَ اللهُ عَنْكَ الْجِهَادَ. فَأَتَى عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَنِيَّ هَؤُلَاءِ يَمْنَعُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَكَ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أُسْتَشْهَدَ فَأَطَأَ بِعَرْجَتِي هَذِهِ فِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنْتَ فَقَدْ وَضَعَ اللهُ عَنْكَ الْجِهَادَ ". وَقَالَ لِبَنِيهِ: " وَمَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَدَعُوهُ لَعَلَّ اللهَ يَرْزُقُهُ الشَّهَادَةَ ". فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا.
حافظ ثناء اللہ
بنی سلمہ کے چند شیوخ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ بہت زیادہ لنگڑے تھے، ان کے چار جوان بیٹے تھے، رسول اللہ ﷺ جس غزوے میں بھی جاتے وہ آپ کے ساتھ ہوتے اور جب رسول اللہ ﷺ نے احد کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نے بھی جانا چاہا، لیکن ان کے بیٹوں نے ان کو کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رخصت دی ہے اور آپ کا یہاں بیٹھنا زیادہ بہتر ہے اور آپ کی جگہ ہم آپ کی کفایت کر جائیں گے، اللہ نے آپ پر جہاد فرض نہیں کیا تو سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بیٹے مجھے آپ ﷺ کے ساتھ جانے سے روکتے ہیں اور میں شہادت چاہتا ہوں اور میرے لنگڑے پن نے مجھے جنت میں جانے سے پیچھے چھوڑ دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے آپ سے جہاد کو معاف کر دیا ہے“ اور آپ ﷺ نے ان کے بیٹوں سے کہا: ”تم اسے کیوں نہیں جانے دیتے! ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے شہادت نصیب فرمائے۔“ وہ آپ ﷺ کے ساتھ نکلے اور احد کے دن شہید ہو گئے۔