السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من لا يجب عليه الجهاد باب: اس شخص کے بیان میں جس پر جہاد فرض نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَتْ بِي أُمِّي فَقَدِمَتِ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَهَا النَّاسُ، فَقَالَتْ: لَا أَتَزَوَّجُ إِلَّا بِرَجُلٍ يَكْفُلُ لِي هَذَا الْيَتِيمَ، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ غِلْمَانَ الْأَنْصَارِ فِي كُلِّ عَامٍ فَيُلْحِقُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْهُمْ. قَالَ: وَعُرِضْتُ عَامًا فَأَلْحَقَ غُلَامًا وَرَدَّنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ أَلْحَقْتَهُ وَرَدَدْتَنِي، وَلَوْ صَارَعْتُهُ لَصَرَعْتُهُ، قَالَ: " فَصَارِعْهُ "، فَصَارَعْتُهُ فَصَرَعْتُهُ؛ فَأَلْحَقَنِي ".سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ماں مجھے مدینہ میں لے کر آئی تو لوگوں نے ان کی طرف نکاح کے پیغام بھیجے تو انہوں نے کہا کہ میں نکاح اس آدمی سے کروں گی جو اس یتیم کی پرورش کرے گا، تو انہوں نے انصار میں سے ایک آدمی سے نکاح کر لیا۔ آپ ﷺ ہر سال انصار کے بچوں کو، جب ان کو پیش کیا جاتا، ان میں سے جس کے اندر صلاحیت معلوم کرتے اس کو لشکر میں بھیج دیتے۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک سال مجھے اور میرے ساتھ ایک اور لڑکے کو پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو قبول کر لیا اور مجھے رد کر دیا۔ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کو قبول کر لیا ہے اور مجھے واپس کر دیا ہے، اگر میں اسے گرا لوں تو کیا پھر میں بھی جا سکتا ہوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلو تم دونوں کشتی کر لو۔“ تو وہ کہتے ہیں: میں نے اسے پچھاڑ دیا تو آپ ﷺ نے مجھے بھی اجازت دے دی۔