حدیث نمبر: 17811
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خِلَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُكَاتِبُ الْحَرُورِيَّةَ وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَكْتُمَ عِلْمًا لَمْ أَكْتُبْ إِلَيْهِ. فَكَتَبَ نَجْدَةُ إِلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ، فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ؟ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ؟. فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ، وَقَدْ كَانَ يَغْزُو ⦗٣٩⦘ بِهِنَّ يُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا السَّهْمُ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلِ الْوِلْدَانَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخِضْرُ مِنَ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَ، فَتُمَيِّزَ بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ، فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ، وَكَتَبْتَ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ، وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ ضَعِيفُ الْإِعْطَاءِ، فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْخُمُسِ وَإِنَّا كُنَّا نَقُولُ: هُوَ لَنَا فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا فَصَبَرْنَا عَلَيْهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " وَأَمَّا النِّسَاءُ وَالْعَبِيدُ فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شَيْءٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ، وَلَكِنْ يُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ ".
حافظ ثناء اللہ

یزید بن ہرمز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نجدہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف لکھا اور وہ آپ سے خلال کے متعلق پوچھ رہے تھے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابن عباس حروریوں سے خط و کتابت کرتے ہیں اور اگر مجھے علم چھپانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس کو کبھی نہ لکھتا۔ نجدہ نے ان کو لکھا: «أَمَّا بَعْدُ!» ”اما بعد!“ مجھے یہ بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ عورتوں کے ساتھ غزوہ کرتے تھے اور کیا آپ ﷺ ان کے لیے حصہ مقرر کرتے تھے؟ اور کیا آپ ﷺ بچوں کو قتل کرتے تھے اور یتیم کی یتیمیت کب پوری ہوتی ہے اور خمس کے متعلق بتائیے کہ وہ کس کے لیے ہے؟ پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عورتوں کے ساتھ مل کر غزوہ کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاں، عورتیں بھی آپ ﷺ کے ساتھ غزوہ میں شریک ہوتی تھیں لیکن وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور بیماروں کی تیمار داری کرتی تھیں اور انھیں غنیمت میں سے دیا جاتا تھا لیکن ان کا حصہ مقرر نہ تھا اور آپ ﷺ بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے۔ پس تم بھی ان کو قتل نہ کرنا ما سوائے اس کے کہ تم ان بچوں میں وہ کچھ جان لو جو کچھ خضر (علیہ السلام) نے جانا تھا اور اسی طرح مومن اور کافر کے درمیان تمیز کرنا، پس کافر کو قتل کر دینا اور مومن کو چھوڑ دینا اور اسی طرح تو نے لکھا ہے کہ یتیم کی یتیمیت کب پوری اور مکمل ہوتی ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میری عمر کی قسم! بعض دفعہ آدمی کی داڑھی نکل آتی ہے اور اس کو لین دین کا کوئی پتہ نہیں ہوتا، وہ اس معاملے میں بالکل کمزور ہوتا ہے اور جس کو وہ سمجھ بوجھ حاصل ہو جائے جو باقی لوگوں کو ہوتی ہے تو اس کی یتیمیت ختم ہو جاتی ہے اور تم نے مجھ سے خمس کے متعلق سوال کیا ہے تو ہم کہا کرتے تھے: یہ ہمارے لیے ہے، لیکن قوم نے ہم پر انکار کر دیا (کہ یہ تمہارا نہیں) تو ہم نے صبر کیا۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رہے غلام اور عورتیں تو ان کے لیے جب یہ جنگ میں حاضر ہوتے تو کوئی خاص حصہ مقرر نہیں تھا، لیکن وہ قوم کے غنائم میں سے کچھ لے لیتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17811
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»