السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من لا يجب عليه الجهاد باب: اس شخص کے بیان میں جس پر جہاد فرض نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى الْأَنْطَاكِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَمَرَّ بِأُنَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَاتَّبَعَهُ عَبْدٌ لِامْرَأَةٍ مِنْهُمْ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ سَلَّمَ عَلَيْهِ، قَالَ: " فُلَانٌ "؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا شَأْنُكَ؟ " قَالَ: أُجَاهِدُ مَعَكَ. قَالَ: " أَذِنَتْ لَكَ سَيِّدَتُكَ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهَا فَإِنَّ مَثَلَكَ مَثَلُ عَبْدٍ لَا يُصَلِّي، إِنْ مُتُّ قَبْلَ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهَا، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ ". فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ، فَقَالَتْ: آللَّهِ هُوَ أَمَرَ أَنْ تَقْرَأَ عَلَيَّ السَّلَامَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَتْ: ارْجِعْ فَجَاهِدْ مَعَهُ ".حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بعض مغازی میں تھے اور آپ مزینہ کے لوگوں کے قریب سے گزرے تو اس قبیلہ کی عورت کے ایک غلام نے آپ کا پیچھا کیا۔ جب آپ سے راستے میں اس کی ملاقات ہوئی تو اس نے آپ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو فلاں ہے؟“ اس نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ کیا مسئلہ ہے؟“ اس نے کہا: میں آپ ﷺ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہاری سیدہ نے تمہیں اجازت دی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی طرف لوٹ جاؤ اور تمہاری مثال اس غلام یا بندے کی طرح ہے جو نماز نہیں پڑھتا اگر تو اس کے پاس پہنچنے سے پہلے مر گیا؛ اور اسے میرا سلام کہنا۔“ غلام اپنی سیدہ کے پاس آیا اور اسے آپ ﷺ کا سلام عرض کیا اور پورا واقعہ بیان کیا تو اس نے کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ کیا آپ ﷺ نے مجھ کو سلام کہنے کا حکم دیا تھا؟ غلام نے کہا: ہاں! تو اس سیدہ نے کہا: پھر تم جاؤ اور آپ ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرو۔