کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ہر اس قیمت والی چیز میں ہاتھ کاٹنے کا بیان جو محفوظ جگہ (حرز) سے چرائی جائے اور اس کی قیمت چوتھائی دینار کو پہنچ جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ غُلَامًا لِعَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ أَرْضِ جَارٍ لَهُ فَغَرَسَهُ فِي أَرْضِهِ، فَرُفِعَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَأَتَى مَوْلَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: لَا قَطْعَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: تَعَالَى مَعِي إِلَى مَرْوَانَ، فَجَاءَ بِهِ فَحَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ان کے چچا واسع بن حبان کے غلام نے پڑوسی کے باغ سے کھجور کا چھوٹا سا پودا چوری کر لیا اور اسے اپنی زمین میں لگا دیا۔ فیصلہ مروان کے پاس آ گیا، انہوں نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ ان کے مولا سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور سارا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا: اس میں ہاتھ نہیں کٹے گا۔ پھر اس آدمی کے ساتھ مروان کے پاس آئے اور اسے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پھل وغیرہ میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَجَلَدَهُ مَرْوَانُ جَلَدَاتٍ وَخَلَّى سَبِيلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ مروان نے اس کو کوڑے مارے اور اس کا راستہ چھوڑ دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُقْطَعُ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ "، قَالَ يَحْيَى: الثَّمَرُ مَا كَانَ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ، وَالْكَثَرُ الْوَدِيُّ وَالْجُمَّارُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھلوں میں تم نہ ہاتھ کاٹو اور نہ اس جیسی کسی چیز میں۔“ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الثَّمَرُ» وہ پھل ہے جو کھجور کی چوٹیوں پر ہوتا ہے، اور «الْكَثَرُ» سے مراد «الْوَدِيُّ» (کھجور کے چھوٹے پودے) اور «الْجُمَّارُ» (کھجور کا گودا) ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبِهَذَا نَقُولُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ؛ لِأَنَّهُ غَيْرُ مُحْرَزٍ، وَلَا جُمَّارٍ لِأَنَّهُ غَيْرُ مُحْرَزٍ، وَهُوَ يُشْبِهُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم پھلوں میں ہاتھ نہ کاٹو اور نہ چھوٹے درخت میں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم اسی کے قائل ہیں کہ لٹکے ہوئے پھل میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ حفاظت میں نہیں ہوتا، اور نہ کھجور کے گودے میں کیونکہ وہ حفاظت میں نہیں ہوتا، اور یہ عمرو بن شعیب کی حدیث کے مشابہ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم اسی کے قائل ہیں کہ لٹکے ہوئے پھل میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ حفاظت میں نہیں ہوتا، اور نہ کھجور کے گودے میں کیونکہ وہ حفاظت میں نہیں ہوتا، اور یہ عمرو بن شعیب کی حدیث کے مشابہ ہے۔
يَعْنِي مَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٤٥٨⦘ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ، فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ فَفِيهِ الْقَطْعُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم لٹکے ہوئے پھل میں ہاتھ نہ کاٹو۔ جب وہ ٹوکری میں آ جائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَمْ تُقْطَعُ الْيَدُ؟ قَالَ: " لَا تُقْطَعُ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ، فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ، وَلَا تُقْطَعُ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ، وَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: کتنی چیز ہو تو چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ”لٹکے ہوئے پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ جب وہ پھل خشکی کی جگہ پر پہنچ جائے تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا، جب اس کی قیمت ایک ڈھال کے برابر ہو جائے اور ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جب بکری پہاڑ پر ہو اس وقت تک جب وہ اپنے باڑے میں نہ آ جائے، پھر ہاتھ کاٹا جائے گا جب اس کی قیمت ایک ڈھال کے برابر ہو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، وَأَبُو نَصْرٍ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: " لَيْسَ عَلَى سَارِقِ الْحَمَامِ قَطْعٌ " وَهَذَا إِنَّمَا أَرَادَ فِي الطَّيْرِ وَالْحَمَامِ الْمُرْسَلَةِ فِي غَيْرِ حِرْزٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کبوتر چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اس سے مراد ایسے پرندے اور کبوتر ہیں جو کسی کی حفاظت میں نہ ہوں۔