السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: القطع في كل ما له ثمن إذا سرق من حرز وبلغت قيمته ربع دينار باب: ہر اس قیمت والی چیز میں ہاتھ کاٹنے کا بیان جو محفوظ جگہ (حرز) سے چرائی جائے اور اس کی قیمت چوتھائی دینار کو پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 17202
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُقْطَعُ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ "، قَالَ يَحْيَى: الثَّمَرُ مَا كَانَ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ، وَالْكَثَرُ الْوَدِيُّ وَالْجُمَّارُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھلوں میں تم نہ ہاتھ کاٹو اور نہ اس جیسی کسی چیز میں۔“ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الثَّمَرُ» وہ پھل ہے جو کھجور کی چوٹیوں پر ہوتا ہے، اور «الْكَثَرُ» سے مراد «الْوَدِيُّ» (کھجور کے چھوٹے پودے) اور «الْجُمَّارُ» (کھجور کا گودا) ہے۔