السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: القطع في كل ما له ثمن إذا سرق من حرز وبلغت قيمته ربع دينار باب: ہر اس قیمت والی چیز میں ہاتھ کاٹنے کا بیان جو محفوظ جگہ (حرز) سے چرائی جائے اور اس کی قیمت چوتھائی دینار کو پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 17200
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ غُلَامًا لِعَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ أَرْضِ جَارٍ لَهُ فَغَرَسَهُ فِي أَرْضِهِ، فَرُفِعَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَأَتَى مَوْلَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: لَا قَطْعَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: تَعَالَى مَعِي إِلَى مَرْوَانَ، فَجَاءَ بِهِ فَحَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ واسع بن حبان کے چچا کے غلام نے پڑوسی کے باغ سے کھجور کا چھوٹا سا پودا چوری کر لیا اور اسے اپنی زمین میں لگا دیا۔ فیصلہ مروان کے پاس آ گیا، انہوں نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ ان کے مولا سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور سارا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا: اس میں ہاتھ نہیں کٹے گا۔ پھر اس آدمی کے ساتھ مروان کے پاس آئے اور اسے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پھل وغیرہ میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“