السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: القطع في كل ما له ثمن إذا سرق من حرز وبلغت قيمته ربع دينار باب: ہر اس قیمت والی چیز میں ہاتھ کاٹنے کا بیان جو محفوظ جگہ (حرز) سے چرائی جائے اور اس کی قیمت چوتھائی دینار کو پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 17205
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَمْ تُقْطَعُ الْيَدُ؟ قَالَ: " لَا تُقْطَعُ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ، فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ، وَلَا تُقْطَعُ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ، وَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: کتنی چیز ہو تو چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ”لٹکے ہوئے پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ جب وہ پھل خشکی کی جگہ پر پہنچ جائے تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا، جب اس کی قیمت ایک ڈھال کے برابر ہو جائے اور ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جب بکری پہاڑ پر ہو اس وقت تک جب وہ اپنے باڑے میں نہ آ جائے، پھر ہاتھ کاٹا جائے گا جب اس کی قیمت ایک ڈھال کے برابر ہو۔“
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”پرندہ چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“