السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: القطع في كل ما له ثمن إذا سرق من حرز وبلغت قيمته ربع دينار باب: ہر اس قیمت والی چیز میں ہاتھ کاٹنے کا بیان جو محفوظ جگہ (حرز) سے چرائی جائے اور اس کی قیمت چوتھائی دینار کو پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 17203
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبِهَذَا نَقُولُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ؛ لِأَنَّهُ غَيْرُ مُحْرَزٍ، وَلَا جُمَّارٍ لِأَنَّهُ غَيْرُ مُحْرَزٍ، وَهُوَ يُشْبِهُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم پھلوں میں ہاتھ نہ کاٹو اور نہ چھوٹے درخت میں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم اسی کے قائل ہیں کہ لٹکے ہوئے پھل میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ حفاظت میں نہیں ہوتا، اور نہ کھجور کے گودے میں کیونکہ وہ حفاظت میں نہیں ہوتا، اور یہ عمرو بن شعیب کی حدیث کے مشابہ ہے۔