کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: شبہات کی بنا پر حدود کو ٹال دینے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ النَّجَّارِ، بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ شُقَيْرِ بْنِ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ هَارُونَ الْعِجْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، كِلَاهُمَا عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْرءُوا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ لِلْمُسْلِمِ مَخْرَجًا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ، فَإِنَّ الْإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُخْطِيءَ فِي الْعُقُوبَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جتنا ہو سکے مسلمانوں سے حدود کو ساقط کرو، اگر کسی مسلمان کے لیے بچاؤ کی راہ نکلتی ہے تو نکالو، امام معاف کرنے میں خطا کر جائے، یہ بہتر ہے اس سے کہ سزا دینے میں خطا کرے۔“
وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ، مَوْقُوفًا عَلَى عَائِشَةَ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ، فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا تَفَرَّدَ بِهِ يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الشَّامِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَرِوَايَةُ وَكِيعٍ أَقْرَبُ إِلَى الصَّوَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرَوَاهُ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ مَرْفُوعًا وَرِشْدِينُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ مَوْقُوفًا» ”یہ اس سے پہلے موقوفاً گزر چکا ہے“ اور یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے۔
اسے زہری سے روایت کرنے میں یزید بن زیاد شامی منفرد ہے اور اس میں ضعف ہے، اور وکیع کی روایت درستی کے زیادہ قریب ہے، واللہ اعلم۔ اور رشدین بن سعد نے اسے عقیل کے واسطے سے زہری سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور رشدین ضعیف ہے۔
اسے زہری سے روایت کرنے میں یزید بن زیاد شامی منفرد ہے اور اس میں ضعف ہے، اور وکیع کی روایت درستی کے زیادہ قریب ہے، واللہ اعلم۔ اور رشدین بن سعد نے اسے عقیل کے واسطے سے زہری سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور رشدین ضعیف ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ مُخْتَارٍ التَّمَّارِ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ادْرَءُوا الْحُدُودَ " فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”حدود کو ساقط کرو۔“
اس سند میں ضعف ہے۔
اس سند میں ضعف ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْرَءُوا الْحُدُودَ، وَلَا يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ أَنْ يُعَطِّلَ الْحُدُودَ " قَالَ الْبُخَارِيُّ: الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حدود کو ساقط کرو، اور امام کے لیے مناسب نہیں کہ وہ حدود کو معطل کرے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مختار بن نافع منکر الحدیث ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مختار بن نافع منکر الحدیث ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَلَغَنِي، أَوْ بَلَغَنَا، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا حَضَرْتُمُونَا فَاسْأَلُوا فِي الْعَهْدِ جَهْدَكُمْ، فَإِنِّي إِنْ أُخْطِئْ فِي الْعَفْوِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ " مُنْقَطِعٌ وَمَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم میرے پاس آؤ تو پوری کوشش کرو کہ میں معاف کر دوں؛ کیونکہ معافی میں خطا کرنا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ میں غلطی سے کسی کو سزا دے دوں۔
یہ روایت منقطع اور موقوف ہے۔
یہ روایت منقطع اور موقوف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " ادْرَءُوا الْحُدُودَ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْطِئُوا فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تُخْطِئُوا فِي الْعُقُوبَةِ، وَإِذَا وَجَدْتُمْ لِمُسْلِمٍ مَخْرَجًا فَادْرَءُوا عَنْهُ الْحَدَّ " مُنْقَطِعٌ وَمَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جتنا ہو سکے حدود کو ساقط کرو، اگر عفو میں خطا ہو گئی تو یہ بہتر ہے سزا میں خطا سے، اگر کسی مسلمان کے لیے نجات کا کوئی راستہ دیکھو تو اس سے حد کو ساقط کر دو۔
یہ روایت منقطع اور موقوف ہے۔
یہ روایت منقطع اور موقوف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ هُوَ ابْنُ حَرْبٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُعَاذًا، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالُوا: " إِذَا اشْتُبِهَ الْحَدُّ فَادْرَءُوهُ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ معاذ، ابن مسعود اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ ”جب شبہ ہو تو حد ساقط کر دو۔“
یہ روایت منقطع ہے۔
یہ روایت منقطع ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " ادْرَءُوا الْجَلْدَ وَالْقَتْلَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ⦗٤١٥⦘ هَذَا مَوْصُولٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”کوڑوں اور قتل کو جتنا ہو سکے مسلمانوں سے ساقط کرو۔“
یہ روایت موصول ہے۔
یہ روایت موصول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ يَحْيَى بْنَ حَاطِبٍ، حَدَّثَهُ قَالَ: تُوُفِّيَ حَاطِبٌ، فَأُعْتِقَ مَنْ صَلَّى مِنْ رَقِيقِهِ وَصَامَ، وَكَانَتْ لَهُ أَمَةٌ نُوبِيَّةٌ قَدْ صَلَّتْ وَصَامَتْ، وَهِيَ أَعْجَمِيَّةٌ لَمْ تَفْقَهْ، فَلَمْ تَرُعْهُ إِلَّا بِحَبَلِهَا، وَكَانَتْ ثَيِّبًا، فَذَهَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ: لَأَنْتَ الرَّجُلُ لَا تَأْتِي بِخَيْرٍ، فَأَفْزَعَهُ ذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَحَبَلْتِ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، مِنْ مَرْغُوشٍ بِدِرْهَمَيْنِ، فَإِذَا هِيَ تَسْتَهِلُّ بِذَلِكَ لَا تَكْتُمُهُ، قَالَ: وَصَادَفَ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَقَالَتْ: أَشِيرُوا عَلَيَّ، وَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسًا فَاضْطَجَعَ، فَقَالَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ: قَدْ وَقَعَ عَلَيْهَا الْحَدُّ، فَقَالَ: أَشِرْ عَلَيَّ يَا عُثْمَانُ، فَقَالَ: قَدْ أَشَارَ عَلَيْكَ أَخَوَاكَ، قَالَ: أَشِرْ عَلَيَّ أَنْتَ، قَالَ: أُرَاهَا تَسْتَهِلُّ بِهِ كَأَنَّهَا لَا تَعْلَمُهُ، وَلَيْسَ الْحَدُّ إِلَّا عَلَى مَنْ عَلِمَهُ، فَقَالَ: صَدَقْتَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا الْحَدُّ إِلَّا عَلَى مَنْ عَلِمَهُ، فَجَلَدَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِائَةً، وَغَرَّبَهَا عَامًا " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: كَانَ حَدُّهَا الرَّجْمَ، فَكَأَنَّهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَرَأَ عَنْهَا حَدَّهَا لِلشُّبْهَةِ بِالْجَهَالَةِ، وَجَلَدَهَا وَغَرَّبَهَا تَعْزِيرًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن حاطب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو ان کے غلاموں میں سے جو نماز پڑھتے اور روزے رکھتے تھے، ان کو آزاد کر دیا گیا۔ ان کی ایک نوبیہ لونڈی تھی جو نماز روزہ کرتی تھی، وہ عجمی تھی اور (بات) سمجھتی نہیں تھی، انہیں اس کے حمل ہی نے چونکایا اور یہ شادی شدہ تھی۔ تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا: ”تم تو ایسے آدمی ہو جو کبھی اچھی خبر نہیں لاتے“ اس بات نے انہیں گھبرا دیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس لونڈی کو بلوایا اور پوچھا: ”کیا تو حاملہ ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں، مرغوش سے دو درہم کے بدلے“ وہ اسے کھلم کھلا بیان کر رہی تھی، چھپا نہیں رہی تھی۔ راوی فرماتے ہیں کہ اس وقت سیدنا علی، سیدنا عثمان اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم موجود تھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے مشورہ دو۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے تو لیٹ گئے، سیدنا علی اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہما کہنے لگے: ”اس پر حد واقع ہو گئی ہے“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے عثمان! آپ مشورہ دیں“، انہوں نے کہا: ”آپ کے دونوں بھائیوں نے مشورہ دے دیا ہے“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ خود مشورہ دیں“ تو وہ کہنے لگے: ”میں دیکھتا ہوں کہ وہ اسے کھلم کھلا بیان کر رہی ہے گویا وہ جانتی نہیں (کہ یہ حرام ہے)، اور حد صرف اسی پر ہے جو اسے جانتا ہو“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ نے سچ کہا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! حد صرف اسی پر ہے جو اسے جانتا ہو“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو سو کوڑے مارے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی حد رجم تھی، گویا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جہالت کے شبہ کی وجہ سے اس سے حد کو ساقط کر دیا اور اسے کوڑے مارنا اور جلا وطن کرنا تعزیراً تھا، واللہ اعلم۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی حد رجم تھی، گویا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جہالت کے شبہ کی وجہ سے اس سے حد کو ساقط کر دیا اور اسے کوڑے مارنا اور جلا وطن کرنا تعزیراً تھا، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَيَزِيدُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، " أَنَّهُ كُتِبَ إِلَيْهِ فِي رَجُلٍ قِيلَ لَهُ: مَتَى عَهْدُكَ بِالنِّسَاءِ؟ فَقَالَ: الْبَارِحَةَ، قِيلَ: بِمَنْ؟ قَالَ: أُمِّ مَثْوَايَ، فَقِيلَ لَهُ: قَدْ هَلَكْتَ، قَالَ: مَا عَلِمْتُ أَنَّ اللهَ حَرَّمَ الزِّنَا، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُسْتَحْلَفَ مَا عَلِمَ أَنَّ اللهَ حَرَّمَ الزِّنَا، ثُمَّ يُخَلَّى سَبِيلُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہیں ایک شخص کے بارے میں لکھا گیا کہ اسے کہا گیا: ”تم نے عورتوں کو کب دیکھا؟“ اس نے کہا: ”گزشتہ رات کو۔“ پوچھا: ”کس کو؟“ اس نے کہا: ”اپنی میزبان عورت کو۔“ کہا گیا: ”تم تو ہلاک ہو گئے۔“ اس نے کہا: ”مجھے نہیں پتا تھا کہ زنا حرام ہے،“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”اگر وہ لاعلمی پر قسم اٹھاتا ہے تو اس کا راستہ چھوڑ دو۔“