السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في درء الحدود بالشبهات باب: شبہات کی بنا پر حدود کو ٹال دینے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ يَحْيَى بْنَ حَاطِبٍ، حَدَّثَهُ قَالَ: تُوُفِّيَ حَاطِبٌ، فَأُعْتِقَ مَنْ صَلَّى مِنْ رَقِيقِهِ وَصَامَ، وَكَانَتْ لَهُ أَمَةٌ نُوبِيَّةٌ قَدْ صَلَّتْ وَصَامَتْ، وَهِيَ أَعْجَمِيَّةٌ لَمْ تَفْقَهْ، فَلَمْ تَرُعْهُ إِلَّا بِحَبَلِهَا، وَكَانَتْ ثَيِّبًا، فَذَهَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ: لَأَنْتَ الرَّجُلُ لَا تَأْتِي بِخَيْرٍ، فَأَفْزَعَهُ ذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَحَبَلْتِ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، مِنْ مَرْغُوشٍ بِدِرْهَمَيْنِ، فَإِذَا هِيَ تَسْتَهِلُّ بِذَلِكَ لَا تَكْتُمُهُ، قَالَ: وَصَادَفَ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَقَالَتْ: أَشِيرُوا عَلَيَّ، وَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسًا فَاضْطَجَعَ، فَقَالَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ: قَدْ وَقَعَ عَلَيْهَا الْحَدُّ، فَقَالَ: أَشِرْ عَلَيَّ يَا عُثْمَانُ، فَقَالَ: قَدْ أَشَارَ عَلَيْكَ أَخَوَاكَ، قَالَ: أَشِرْ عَلَيَّ أَنْتَ، قَالَ: أُرَاهَا تَسْتَهِلُّ بِهِ كَأَنَّهَا لَا تَعْلَمُهُ، وَلَيْسَ الْحَدُّ إِلَّا عَلَى مَنْ عَلِمَهُ، فَقَالَ: صَدَقْتَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا الْحَدُّ إِلَّا عَلَى مَنْ عَلِمَهُ، فَجَلَدَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِائَةً، وَغَرَّبَهَا عَامًا " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: كَانَ حَدُّهَا الرَّجْمَ، فَكَأَنَّهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَرَأَ عَنْهَا حَدَّهَا لِلشُّبْهَةِ بِالْجَهَالَةِ، وَجَلَدَهَا وَغَرَّبَهَا تَعْزِيرًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.یحییٰ بن حاطب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو ان کے غلاموں میں سے جو نماز پڑھتے اور روزے رکھتے تھے، ان کو آزاد کر دیا گیا۔ ان کی ایک نوبیہ لونڈی تھی جو نماز روزہ کرتی تھی، وہ عجمی تھی اور (بات) سمجھتی نہیں تھی اور اس کو اس کے حمل نے خاموش کروا رکھا تھا اور یہ شادی شدہ تھی۔ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: ”آپ بھلے آدمی ہیں، اس کی مدد کیجیے“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک آدمی بھیجا، اس نے پوچھا: ”کیا تو حاملہ ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں، مرغوش سے دو درہم کے بدلے“ تو اچانک وہ چیخنے لگی تو (معاملہ) چھپا نہ رہا۔ راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی، سیدنا عثمان اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہم کو مشورے کے لیے بلایا تو سیدنا علی اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہما کہنے لگے: ”حد واقع ہو گئی ہے“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مشورہ دیں، انہوں نے کہا: ”ان دونوں نے دے دیا ہے“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں، آپ دیں“ تو وہ کہنے لگے: ”وہ اس لیے چیخی تھی کہ شاید وہ جانتی نہیں تھی کہ اس پر حد ہے، حد اس پر ہے جو جان بوجھ کر کرے“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ سچ کہتے ہیں، حد اس پر ہے جس کو علم ہو“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس سے حد کو جہالت کی وجہ سے ساقط کر دیا اور جو سزا دی وہ تعزیراً تھی۔