السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في درء الحدود بالشبهات باب: شبہات کی بنا پر حدود کو ٹال دینے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17058
وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ، مَوْقُوفًا عَلَى عَائِشَةَ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ، فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا تَفَرَّدَ بِهِ يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الشَّامِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَرِوَايَةُ وَكِيعٍ أَقْرَبُ إِلَى الصَّوَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرَوَاهُ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ مَرْفُوعًا وَرِشْدِينُ ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ مَوْقُوفًا» ”یہ اس سے پہلے موقوفاً گزر چکا ہے“ اور یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے۔
اسے زہری سے روایت کرنے میں یزید بن زیاد شامی منفرد ہے اور اس میں ضعف ہے، اور وکیع کی روایت درستی کے زیادہ قریب ہے، واللہ اعلم۔ اور رشدین بن سعد نے اسے عقیل کے واسطے سے زہری سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور رشدین ضعیف ہے۔