السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في درء الحدود بالشبهات باب: شبہات کی بنا پر حدود کو ٹال دینے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17061
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَلَغَنِي، أَوْ بَلَغَنَا، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا حَضَرْتُمُونَا فَاسْأَلُوا فِي الْعَهْدِ جَهْدَكُمْ، فَإِنِّي إِنْ أُخْطِئْ فِي الْعَفْوِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ " مُنْقَطِعٌ وَمَوْقُوفٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم میرے پاس آؤ تو پوری کوشش کرو کہ میں معاف کر دوں؛ کیونکہ معافی میں خطا کرنا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ میں غلطی سے کسی کو سزا دے دوں۔