السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في درء الحدود بالشبهات باب: شبہات کی بنا پر حدود کو ٹال دینے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17062
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " ادْرَءُوا الْحُدُودَ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْطِئُوا فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تُخْطِئُوا فِي الْعُقُوبَةِ، وَإِذَا وَجَدْتُمْ لِمُسْلِمٍ مَخْرَجًا فَادْرَءُوا عَنْهُ الْحَدَّ " مُنْقَطِعٌ وَمَوْقُوفٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جتنا ہو سکے حدود کو ساقط کرو، اگر عفو میں خطا ہو گئی تو یہ بہتر ہے سزا میں خطا سے، اگر کسی مسلمان کے لیے نجات کا کوئی راستہ دیکھو تو اس سے حد کو ساقط کر دو۔