کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان دلائل کا بیان کہ (قرآن میں مذکور) ”راستہ“ سے مراد غیر شادی شدہ زانیوں کو کوڑے مارنا اور شادی شدہ کو رجم کرنا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ ⦗٣٦٦⦘ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَكَانَ، عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا أَحَدَ نُقَبَاءِ الْأَنْصَارِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ كُرِبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ لَهُ وَجْهُهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَقِيَ ذَلِكَ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: " خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا: الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ، الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ، ثُمَّ رَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ، وَالْبِكْرُ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو انصار کے ایک نقیب اور بدری صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ پر جب بھی وحی نازل ہوتی تو اس کی بہت تکلیف ہوتی۔ آپ کا چہرہ تبدیل ہو جاتا۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی تو آپ کی ویسی ہی حالت ہو گئی۔ جب وحی مکمل ہو گئی تو فرمایا: ”مجھ سے حاصل کر لو کہ اللہ نے مقرر کر دیا ہے۔ شادی شدہ کے بدلے شادی شدہ اور کنوارے کے بدلے کنوارے، شادی شدہ کے لیے سو کوڑے اور رجم ہے اور کنوارے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ} [النساء: ١٥] إِلَى قَوْلِهِ: {أَوْ يَجْعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا} [النساء: ١٥]، قَالَ: كَانَ أَوَّلُ حُدُودِ النِّسَاءِ كُنَّ يُحْبَسْنَ فِي بُيُوتٍ لَهُنَّ حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي النُّورِ: {الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ}، قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " خُذُوا خُذُوا قَدْ جَعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا: الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ بِالْحِجَارَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شروع میں زانیہ کی سزا گھر میں قید کرنا تھی جو سورہ النساء کی 15 نمبر آیت [سورة النساء: 15] میں ذکر ہوئی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ﴿الزَّانِیَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾ [سورة النور: 2] کے ساتھ منسوخ کر دیا۔
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے یہ لے لو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راستہ بتا دیا ہے کہ کنوارے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ کے لیے سو کوڑے اور پتھروں سے رجم کرنا ہے۔“
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے یہ لے لو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راستہ بتا دیا ہے کہ کنوارے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ کے لیے سو کوڑے اور پتھروں سے رجم کرنا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ، قَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا وَرَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ، فَأَخْشَى إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ: مَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللهِ فَيَضِلُّونَ بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللهُ، وَإِنَّ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللهِ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مَنْ زَنَى إِذَا أُحْصِنَ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ النِّسَاءِ، إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوِ الِاعْتِرَافُ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَنَرَى الْإِحْصَانَ إِذَا تَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ ثُمَّ مَسَّهَا عَلَيْهِ الرَّجْمُ إِنْ زَنَى، قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَلَمْ يَمَسَّ امْرَأَتَهُ فَلَا يُرْجَمُ، وَلَكِنْ يُجْلَدُ مِائَةً إِذَا كَانَ حُرًّا، وَيُغَرَّبُ عَامًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ، دُونَ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے ارشاد فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب آپ ﷺ پر نازل فرمائی اور اس میں آیتِ رجم بھی نازل فرمائی، ہم نے اسے پڑھا بھی اور یاد بھی کیا، آپ ﷺ نے بھی رجم کیا اور آپ ﷺ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ مجھے ڈر ہے کہ کچھ عرصے کے بعد ایسے لوگ کھڑے ہوں گے اور وہ کہیں گے کہ ہم کتاب اللہ میں رجم نہیں پاتے تو وہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ایک حکم (منزل من اللہ) کو چھوڑ کر گمراہ ہوں گے۔ ہر مرد اور عورت جو شادی شدہ ہو اس پر کتاب اللہ میں رجم ہے جب اس پر کوئی دلیل ہو یا اعتراف کر لے یا حاملہ ہو جائے۔
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی شادی ہو، لیکن ابھی اس نے اپنی بیوی کو نہ چھوا ہو اور وہ زنا کر لے تو اس پر رجم نہیں ہے، بلکہ رجم اس پر ہے جس نے اپنی بیوی کو چھوا ہوا ہو، ورنہ اسے ۱۰۰ کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کی جلا وطنی ہو۔
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی شادی ہو، لیکن ابھی اس نے اپنی بیوی کو نہ چھوا ہو اور وہ زنا کر لے تو اس پر رجم نہیں ہے، بلکہ رجم اس پر ہے جس نے اپنی بیوی کو چھوا ہوا ہو، ورنہ اسے ۱۰۰ کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کی جلا وطنی ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ⦗٣٦٧⦘ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " قَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: مَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، أَلَا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ إِذَا أُحْصِنَ الرَّجُلُ وَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ الْحَمْلُ أَوِ الِاعْتِرَافُ فَقَدْ قَرَأْنَاهَا، الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ، وَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قَالَ لِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كَأَيِّنْ تَعُدُّ، أَوْ كَأَيِّنْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْأَحْزَابِ؟ قُلْتُ: ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ آيَةً، قَالَ: أَقَطُّ لَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَتَعْدِلُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَإِنَّ فِيهَا: الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللهِ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”سورہ احزاب تم کتنی پڑھتے ہو؟ اسے کتنا شمار کرتے ہو؟“ میں نے کہا: تہتر آیات۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ سورہ بقرہ کے برابر ہے اور اسی میں یہ آیت تھی: ”شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب وہ زنا کر لیں تو انہیں رجم کر دو، یہ اللہ کی طرف سے ان کی سزا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔““
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَكْتُبُونَ الْمَصَاحِفَ عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَأَتَوْا عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ، فَقَالَ زَيْدٌ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
کثیر بن صلت کہتے ہیں کہ ہم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس مصاحف لکھ رہے تھے، جب اس آیت پر پہنچے تو زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ سے سنا وہ فرما رہے تھے: ”«الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ»“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: نُبِّئْتُ، عَنِ ابْنِ أَخِي كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ، وَفِينَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ زَيْدٌ: كُنَّا نَقْرَأُ: الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ، قَالَ: فَقَالَ مَرْوَانُ: أَفَلَا نَجْعَلُهُ فِي الْمُصْحَفِ؟ قَالَ: لَا، أَلَا تَرَى الشَّابَّيْنِ الثَّيِّبَيْنِ يُرْجَمَانِ؟ قَالَ: وَقَالَ: ذَكَرُوا ذَلِكَ وَفِينَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا أَشْفِيكُمْ مِنْ ذَاكَ، قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ؟ قَالَ: آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا ذَكَرَ الرَّجْمَ أَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكْتِبْنِي آيَةَ الرَّجْمِ، قَالَ: فَأتَيْتُهُ فَذَكَّرْتُهُ، قَالَ: فَذَكَرَ آيَةَ الرَّجْمِ، قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكْتِبْنِي آيَةَ الرَّجْمِ، قَالَ: " لَا أَسْتَطِيعُ ذَاكَ " فِي هَذَا وَمَا قَبْلَهُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ آيَةَ الرَّجْمِ حُكْمُهَا ثَابِتٌ، وَتِلَاوَتُهَا مَنْسُوخَةٌ وَهَذَا مِمَّا لَا أَعْلَمُ فِيهِ خِلَافًا.
حافظ ثناء اللہ
کثیر بن صلت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم مروان کے پاس تھے۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے تو زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہم یوں پڑھا کرتے تھے: «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ» تو مروان کہنے لگا: کیا ہم اسے مصحف میں نہ لکھ دیں؟ کہا: نہیں۔ آپ کا خیال ہے کہ دو نوجوان شادی شدہ رجم کیے جائیں گے؟ اور ذکر کیا گیا ہے کہ ہم میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اس کا شافی جواب دیتا ہوں۔ ہم نے کہا: کیسے؟ فرمایا: میں نبی ﷺ کے پاس آتا اور میں اس طرح اس طرح ذکر کرتا، جب آیتِ رجم کا ذکر کیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! اسے لکھ دیں، میں نے تین مرتبہ یہ بات آپ کو کہی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔“ یہ اور اس سے پہلی دلیل اس بات پر دال ہیں کہ آیتِ رجم کی تلاوت منسوخ ہے، حکم باقی ہے اور میں اس میں کسی کا اختلاف نہیں جانتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ} [النساء: ١٥] الْآيَةَ، قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا زَنَتْ حُبِسَتْ فِي الْبَيْتِ حَتَّى تَمُوتَ، وَفِي قَوْلِهِ: {وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا} [النساء: ١٦]، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا زَنَى أُوذِيَ بِالتَّعْيِيرِ وَضَرْبِ النِّعَالِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدَ هَذَا: {الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ}، فَإِنْ كَانَا مُحْصِنَيْنِ رُجِمَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا سَبِيلُهُمَا الَّذِي جَعَلَ اللهُ لَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلے جب عورت زنا کرتی تو اسے گھر میں قید کر دیا جاتا اور مرد زنا کرتا تو اسے عار دی جاتی اور جوتوں سے مارا جاتا، تو اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی یہ آیت نازل فرما دی: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾ [سورة النور: 2] اگر شادی شدہ ہوتے تو انہیں نبی ﷺ کی سنت کے مطابق رجم کیا جاتا اور اللہ نے ان کی یہی سبیل مقرر فرمائی ہے۔