کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان دلائل کا بیان کہ سو کوڑے مارنا دو آزاد غیر شادی شدہ افراد پر ثابت ہے اور شادی شدہ سے منسوخ ہے، اور یہ کہ رجم کی سزا دو آزاد شادی شدہ افراد پر ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 16915
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا " أَوَّلُ مَا أُنْزِلَ فَنُسِخَ بِهِ الْحَبْسُ وَالْأَذَى عَنِ الزَّانِيَيْنِ، فَلَمَّا رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاعِزًا وَلَمْ يَجْلِدْهُ، وَأَمَرَ أُنَيْسًا أَنْ يَغْدُوَ عَلَى امْرَأَةِ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، دَلَّ عَلَى نَسْخِ الْجَلْدِ عَنِ الزَّانِيَيْنِ الْحُرَّيْنِ الثَّيِّبَيْنِ، وَثَبَّتَ الرَّجْمُ عَلَيْهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان: ”مجھ سے (یہ حکم) لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان (زانی عورتوں) کے لیے راستہ مقرر فرما دیا ہے۔“ سب سے پہلا (حکم) ہے جو نازل ہوا، جس کے ذریعے زنا کرنے والے مرد و عورت سے قید اور ایذا (کی سزا) منسوخ کی گئی، پھر جب نبی کریم ﷺ نے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو رجم کیا اور انہیں کوڑے نہیں لگائے، اور سیدنا انیس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ صبح دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں، پس اگر وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دیں، تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ شادی شدہ آزاد زانی مرد و عورت سے کوڑوں (کی سزا) منسوخ ہو گئی، اور ان دونوں پر رجم (کی سزا) ثابت رہی۔“
حدیث نمبر: 16915
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، رَجُلٍ أَشْعَرَ قَصِيرٍ ذِي عَضَلَاتٍ، فَأَقَرَّ لَهُ بِالزِّنَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَأَتَاهُ مِنْ وَجْهِهِ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، قَالَ: لَا أَدْرِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ "، وَقَالَ: " كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ خَلَفَ أَحَدُهُمْ يَنِبُّ نَبِيبَ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُمَكِّنُنِي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَكَالًا عَنْهُنَّ، أَوْ نَكَّلْتُهُ عَنْهُنَّ " قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس ماعز کو لایا گیا، یہ شخص گھنے بالوں اور گھٹے ہوئے جسم کا تھا۔ اس نے زنا کا اعتراف کیا، آپ ﷺ نے اعراض فرمایا، پھر جب اس نے دو یا تین مرتبہ اعتراف کیا تو آپ ﷺ نے اس کے رجم کا حکم دے دیا اور فرمایا: ”جب بھی ہم کسی غزوہ میں جاتے ہیں تو ایک کو نائب مقرر کرتے ہیں، جو ان میں سے کسی کو زمین کا تھوڑا ٹکڑا عطا کرتا ہے؛ اللہ عزوجل ان میں سے جس کسی پر بھی مجھے قدرت عطا فرمائیں گے، میں اسے ضرور عبرت کا نشان بنا دوں گا۔“
حدیث نمبر: 16916
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ ⦗٣٦٩⦘ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ مَاعِزًا، وَلَمْ يَذْكُرْ جَلْدًا ".
حافظ ثناء اللہ
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ماعز کو رجم کیا، لیکن کوڑوں کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 16917
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، وَقَالَ الْآخَرُ، وَكَانَ أَفْقَهَهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: " تَكَلَّمْ " قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، إِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ " وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً، وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ: وَالْعَسِيفُ: الْأَجِيرُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دو شخص نبی کریم ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر آئے اور کہنے لگے: ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کیجیے، اور دوسرے نے بھی یہی بات کہی، وہ دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا، کہنے لگا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں بات کروں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بولو“، تو کہنے لگا: میرا بیٹا اس کے ہاں کام کرتا تھا تو اس کی بیوی سے اس نے زنا کر لیا، تو مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، تو میں نے اس کے بدلے سو بکریاں فدیے میں دے دیں اور اپنی ایک لونڈی، پھر میں نے اہل علم سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس کی بیوی پر رجم ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں، تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، بکریاں اور لونڈی تجھے واپس ملیں گی اور اس کی بیوی پر رجم ہے۔“ اور سیدنا انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ: ”جاؤ اس عورت سے پوچھو؛ اگر وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دو۔“ اس نے اعتراف کر لیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 16918
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ: وَالْعَسِيفُ: الْأَجِيرُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ يُوسُفَ وَابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَحَدِيثُ الْغَامِدِيَّةِ وَالْجُهُنَيَّةِ دَلِيلٌ فِيهِ، وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
حدیث نمبر: 16919
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ⦗٣٧٠⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " الرَّجْمُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أُحْصِنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، إِذَا قَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوِ الِاعْتِرَافُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: ”رجم کتاب اللہ میں ہے، ہر شادی شدہ مرد و عورت زانی پر جب وہ یا تو اعتراف کر لیں یا کوئی دلیل ہو یا حمل ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 16920
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِيَّاكُمْ أَنْ تَهْلِكُوا عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ: لَا نَجِدُ حَدَّيْنِ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللهِ، لَكَتَبْتُهَا: الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ، فَإِنَّا قَدْ قَرَأْنَاهَا.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ بِرَقَمِ ۱۶۹۱۰» ”یہ حدیث پہلے نمبر ۱۶۹۱۰ پر گزر چکی ہے۔“
حدیث نمبر: 16921
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ زَادَ: قَالَ مَالِكٌ: يُرِيدُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالشَّيْخِ وَالشَّيْخَةِ الثَّيِّبَ مِنَ الرِّجَالِ وَالثَّيِّبَةَ مِنَ النِّسَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
حدیث نمبر: 16922
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجَمَ أَبُو بَكْرٍ، وَرَجَمْتُ، وَلَوْلَا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَزِيدَ فِي كِتَابِ اللهِ لَكَتَبْتُهُ فِي الْمُصْحَفِ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْتِيَ أَقْوَامٌ فَلَا يَجِدُونَهُ فَلَا يُؤْمِنُونَ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی ﷺ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور میں نے رجم کیا ہے۔ واللہ! اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ میں کتاب اللہ میں زیادتی کر رہا ہوں تو اسے مصحف میں لکھ دیتا اور مجھے ڈر ہے کہ ایسی قومیں آئیں گی جو اسے قرآن میں نہیں پائیں گی تو اس پر ایمان نہیں لائیں گی۔