السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما يستدل به على أن السبيل هو جلد الزانيين ورجم الثيب باب: ان دلائل کا بیان کہ (قرآن میں مذکور) ”راستہ“ سے مراد غیر شادی شدہ زانیوں کو کوڑے مارنا اور شادی شدہ کو رجم کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 16908
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ} [النساء: ١٥] إِلَى قَوْلِهِ: {أَوْ يَجْعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا} [النساء: ١٥]، قَالَ: كَانَ أَوَّلُ حُدُودِ النِّسَاءِ كُنَّ يُحْبَسْنَ فِي بُيُوتٍ لَهُنَّ حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي النُّورِ: {الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ}، قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " خُذُوا خُذُوا قَدْ جَعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا: الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ بِالْحِجَارَةِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شروع میں زانیہ کی سزا گھر میں قید کرنا تھی جو سورہ النساء کی 15 نمبر آیت [سورة النساء: 15] میں ذکر ہوئی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ﴿الزَّانِیَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾ [سورة النور: 2] کے ساتھ منسوخ کر دیا۔
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے یہ لے لو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راستہ بتا دیا ہے کہ کنوارے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ کے لیے سو کوڑے اور پتھروں سے رجم کرنا ہے۔“