السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما يستدل به على أن السبيل هو جلد الزانيين ورجم الثيب باب: ان دلائل کا بیان کہ (قرآن میں مذکور) ”راستہ“ سے مراد غیر شادی شدہ زانیوں کو کوڑے مارنا اور شادی شدہ کو رجم کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 16914
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ} [النساء: ١٥] الْآيَةَ، قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا زَنَتْ حُبِسَتْ فِي الْبَيْتِ حَتَّى تَمُوتَ، وَفِي قَوْلِهِ: {وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا} [النساء: ١٦]، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا زَنَى أُوذِيَ بِالتَّعْيِيرِ وَضَرْبِ النِّعَالِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدَ هَذَا: {الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ}، فَإِنْ كَانَا مُحْصِنَيْنِ رُجِمَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا سَبِيلُهُمَا الَّذِي جَعَلَ اللهُ لَهُمَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلے جب عورت زنا کرتی تو اسے گھر میں قید کر دیا جاتا اور مرد زنا کرتا تو اسے عار دی جاتی اور جوتوں سے مارا جاتا، تو اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی یہ آیت نازل فرما دی: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾ [سورة النور: 2] اگر شادی شدہ ہوتے تو انہیں نبی ﷺ کی سنت کے مطابق رجم کیا جاتا اور اللہ نے ان کی یہی سبیل مقرر فرمائی ہے۔