السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما يستدل به على أن السبيل هو جلد الزانيين ورجم الثيب باب: ان دلائل کا بیان کہ (قرآن میں مذکور) ”راستہ“ سے مراد غیر شادی شدہ زانیوں کو کوڑے مارنا اور شادی شدہ کو رجم کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 16907
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ ⦗٣٦٦⦘ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَكَانَ، عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا أَحَدَ نُقَبَاءِ الْأَنْصَارِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ كُرِبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ لَهُ وَجْهُهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَقِيَ ذَلِكَ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: " خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا: الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ، الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ، ثُمَّ رَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ، وَالْبِكْرُ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو انصار کے ایک نقیب اور بدری صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ پر جب بھی وحی نازل ہوتی تو اس کی بہت تکلیف ہوتی۔ آپ کا چہرہ تبدیل ہو جاتا۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی تو آپ کی ویسی ہی حالت ہو گئی۔ جب وحی مکمل ہو گئی تو فرمایا: ”مجھ سے حاصل کر لو کہ اللہ نے مقرر کر دیا ہے۔ شادی شدہ کے بدلے شادی شدہ اور کنوارے کے بدلے کنوارے، شادی شدہ کے لیے سو کوڑے اور رجم ہے اور کنوارے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی۔“