کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک مرتد سے اسی وقت توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، پس اگر وہ توبہ کر لے (تو ٹھیک) ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔
اسْتِدْلَالًا بِظَاهِرِ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " وَرُوِّينَاهُ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرُوِّينَا مَعْنَاهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ: حَدَّثَكَ ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتُلُوهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے سر پر مغفر تھی تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! ابن خطل کعبہ کے پردے سے لٹکا ہوا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، مِنْ أَصْلِهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ آمَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ، وَقَالَ: " اقْتُلُوهُمْ، وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ " عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ خَطَلٍ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِكَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَاسْتَبَقَ إِلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَسَبَقَ سَعِيدٌ عَمَّارًا، وَكَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَيْنِ، فَقَتَلَهُ، وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ فَأَدْرَكَهُ النَّاسُ فِي السُّوقِ فَقَتَلُوهُ وَأَمَّا عِكْرِمَةُ فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَأَصَابَتْهُمْ عَاصِفٌ، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ لِأَهْلِ السَّفِينَةِ: أَخْلِصُوا فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لَا تُغْنِي عَنْكُمْ شَيْئًا هَاهُنَا، قَالَ عِكْرِمَةُ: وَاللهِ لَئِنْ لَمْ يُنَجِّنِي فِي الْبَحْرِ إِلَّا الْإِخْلَاصُ لَا يُنَجِّينِي فِي الْبَرِّ غَيْرُهُ، اللهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ عَهْدًا، إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ أَنْ آتِيَ مُحَمَّدًا حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِهِ، فَلَأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيمًا، قَالَ: فَجَاءَ فَأَسْلَمَ، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَإِنَّهُ اخْتَفَى عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ⦗٣٥٧⦘ فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْ عَبْدَ اللهِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى، فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: " أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حِينَ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلَهُ؟ " فَقَالُوا: مَا يُدْرِينَا يَا رَسُولَ اللهِ مَا فِي نَفْسِكَ، هَلَّا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ قَالَ: " إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی ﷺ نے چار مردوں اور دو عورتوں کے علاوہ تمام کو امن دے دیا اور ان کے بارے میں فرمایا: ”اگر یہ کعبہ کے پردے سے بھی چمٹے ہوں تب بھی انہیں قتل کر دو۔“ وہ چار یہ ہیں: عکرمہ بن ابی جہل، ابن خطل، مقیس بن صبابہ اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔ ان میں ابن خطل کعبہ کے پردے سے چمٹا مل گیا تو سیدنا عمار بن یاسر اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہما اس کی طرف دوڑے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نوجوان تھے اس لیے انہوں نے اسے پہنچ کر قتل کر دیا۔ مقیس بن صبابہ کو بازار میں لوگوں نے قتل کر دیا۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سمندر میں سفر پر چلے گئے، جب کشتی ڈوبنے لگی تو لوگ کہنے لگے: ”خالص ہو کر اللہ کو پکارو تمہارے معبود تمہیں نہیں بچا سکتے۔“ تو سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”جو سمندر میں نہیں بچا سکتے تو پھر خشکی پر کیسے بچائیں گے؟“ تو انہوں نے دعا کی: ”اے اللہ! میرا تیرے ساتھ عہد ہے اگر تو نے مجھے عافیت دی تو میں نبی ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دوں گا اور ان کو میں درگزر کرنے والا کریم پاؤں گا۔“ تو یہ آئے اور مسلمان ہو گئے۔ اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پناہ لی، وہ اسے نبی ﷺ کے پاس لے آئے کہ آپ ان کی بیعت کر لیں۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور تین مرتبہ انکار کیا، پھر بیعت کر لی، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں کوئی سمجھ دار آدمی نہیں ہے؟ میں نے اس سے بیعت کو اس لیے روکا کہ کوئی اسے قتل کر دے۔“ تو انہوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! ہمیں کیا پتا تھا کہ آپ کے دل میں کیا ہے؟ آنکھ سے اشارہ کر دیتے۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آنکھ سے اشارہ کرنا کسی نبی کی شان نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: " إِنَّمَا أَمَرَ بِابْنَ أَبِي سَرْحٍ؛ لِأَنَّهُ كَانَ قَدْ أَسْلَمَ، وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ، فَرَجَعَ مُشْرِكًا وَلَحِقَ بِمَكَّةَ وَإِنَّمَا أَمَرَ بِقَتْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَطَلٍ؛ لِأَنَّهُ كَانَ مُسْلِمًا فَبَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا، وَبَعَثَ مَعَهُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ مَعَهُ مَوْلًى يَخْدُمُهُ مُسْلِمًا، فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَأَمَرَ الْمَوْلَى أَنْ يَذْبَحَ تَيْسًا وَيَصْنَعَ لَهُ طَعَامًا، وَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَلَمْ يَصْنَعْ لَهُ شَيْئًا، فَعَدَا عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ ثُمَّ ارْتَدَّ مُشْرِكًا، وَكَانَتْ لَهُ قَيْنَةٌ وَصَاحِبَتُهَا فَكَانَتَا تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِمَا مَعَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن ابی سرح کاتبِ رسول تھا۔ نبی ﷺ نے اسے اور اس کے ساتھ دو انصاری رضی اللہ عنہما بھیجے اور ایک غلام دیا کہ ”ابن خطل کو قتل کر آؤ۔“ راستے میں اس نے غلام کو کہا کہ ایک جانور ذبح کرو اور کھانا بناؤ۔ یہ سو گئے، جب بیدار ہوئے تو کھانا تیار نہیں تھا، اس نے غلام کو مارا اور قتل کر دیا اور خود مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا۔ اس کی دو عورتیں ساتھی بھی تھیں جو نبی ﷺ کی ہجو گایا کرتی تھیں، تو آپ ﷺ نے اس کے ساتھ ان کے قتل کا بھی حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: " أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَلْقَى لَهُ وِسَادَةً، وَقَالَ: انْزِلْ، فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ مُوثَقٌ، قَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ، ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السُّوءِ فَتَهَوَّدَ، فَقَالَ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءَ اللهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمِ اجْلِسْ، قَالَ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءَ اللهِ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ.
حافظ ثناء اللہ
یہ حدیث پہلے نمبر ۱۶۸۲۲ کے تحت گزر چکی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْحِمَّانِيُّ يَعْنِي عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، وَبُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: " قَدِمَ عَلَيَّ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَنَا بِالْيَمَنِ، وَرَجُلٌ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ فَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَلَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ قَالَ: لَا أَنْزِلُ عَنْ دَابَّتِي حَتَّى يُقْتَلَ، فَقُتِلَ " قَالَ أَحَدُهُمَا: وَكَانَ قَدِ اسْتُتِيبَ قَبْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن آئے تو ایک یہودی مسلمان ہوا اور پھر مرتد ہو گیا۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے جانور سے اس وقت تک نہیں اتروں گا جب تک اسے قتل نہ کر دوں، تو اسے قتل کر دیا گیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا حَفْصٌ، ثنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: " فَأَتَى أَبُو مُوسَى بِرَجُلٍ قَدِ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَدَعَاهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا، فَجَاءَ مُعَاذٌ فَدَعَاهُ فَأَبَى فَضَرَبَ عُنُقَهُ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، لَمْ يَذْكُرِ الِاسْتِتَابَةَ وَرَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى، لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الِاسْتِتَابَةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَمَرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ أَنْ يَدْعُوَهُمْ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، فَمَنْ أَجَابَهُ قَبِلَ ذَلِكَ مِنْهُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْهُ إِلَى مَا دَعَاهُ إِلَيْهِ مِنَ الْإِسْلَامِ مِمَّنْ يَرْجِعُ عَنْهُ أَنْ يَقْتُلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو بردہ رحمہ اللہ سابقہ حدیث کے قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ شخص سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، آپ نے تقریباً بیس راتیں اسے دعوت دی۔ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے بھی دعوتِ اسلام دی، لیکن اس نے انکار کیا تو اسے قتل کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ روایت کی گئی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ پہلے ان پر اسلام پیش کرنا، اگر مان جائیں تو ٹھیک ورنہ قتل کر دینا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ روایت کی گئی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ پہلے ان پر اسلام پیش کرنا، اگر مان جائیں تو ٹھیک ورنہ قتل کر دینا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " يَدْعُو الْمُرْتَدَّ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ يَقْتُلُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مرتد کو تین مرتبہ دعوت دیتے تھے، پھر اسے قتل کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأُتِيَ بِأَخِي بَنِي عِجْلٍ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ قَبِيصَةَ تَنَصَّرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا حُدِّثْتُ عَنْكَ؟ قَالَ: مَا حُدِّثْتَ عَنِّي؟ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْكَ أَنَّكَ تَنَصَّرْتَ، قَالَ: أَنَا عَلَى دِينِ الْمَسِيحِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: وَأَنَا عَلَى دِينِ الْمَسِيحِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا تَقُولُ فِيهِ؟ فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ خَفِيَ عَلَيَّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: طَؤُوهُ، فَوُطِئَ حَتَّى مَاتَ "، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَلِينِي: مَا قَالَ؟ قَالَ: قَالَ: الْمَسِيحُ رَبُّهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں: میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا تو میرا ایک بھائی بنو عجل سے مستورد بن قبیصہ کو لایا گیا جو اسلام لانے کے بعد پھر نصرانی ہو گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میں نے تیرے بارے میں کیا سنا ہے! وہ کہنے لگا: کیا سنا ہے؟ فرمایا: میں نے سنا ہے تو نصرانی ہو گیا ہے؟ تو اس نے کہا: میں مسیح کے دین پر ہوں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے بارے میں تو کیا کہتا ہے؟ تو اس نے چپکے سے بات کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کروا دیا، تو میں نے اپنے ساتھ والے کو کہا: اس نے کیا کہا؟ کہتے ہیں: اس نے کہا تھا کہ اس کا رب مسیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ الْغَدَاةَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى مَسْجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ، مَسْجِدِ عَبْدِ اللهِ بْنِ النَّوَّاحَةِ، فَسَمِعَ مُؤَذِّنَهُمْ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ رَسُولُ اللهِ، وَأَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْمَسْجِدِ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَنْ هَا هُنَا؟ فَوَثَبَ نَفَرٌ، فَقَالَ: عَلَيَّ بِابْنِ النَّوَّاحَةِ وَأَصْحَابِهِ، فَجِيءَ بِهِمْ وَأَنَا جَالِسٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ النَّوَّاحَةِ: أَيْنَ مَا كُنْتَ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: كُنْتُ أَتَّقِيكُمْ بِهِ، قَالَ: فَتُبْ، قَالَ: فَأَبَى، قَالَ: فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّ فَأَخْرَجَهُ إِلَى السُّوقِ فَضَرَبَ رَأْسَهُ، قَالَ: فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ ⦗٣٥٩⦘ يَقُولُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَتِيلًا فِي السُّوقِ فَلْيَخْرُجْ فَلْيَنْظُرْ إِلَيْهِ، قَالَ حَارِثَةُ: فَكُنْتُ فِيمَنْ خَرَجَ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جُرِّدَ، ثُمَّ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي أُولَئِكَ النَّفَرِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ بِقَتْلِهِمْ، فَقَامَ جَرِيرٌ وَالْأَشْعَثُ فَقَالَا: لَا، بَلِ اسْتَتِبْهُمْ، وَكَفِّلْهُمْ عَشَائِرَهُمْ، فَاسْتَتَابَهُمْ فَتَابُوا فُكَفَّلَهُمْ عَشَائِرَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، جب سلام پھیرا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ وہ بنو حنیفہ کی مسجد کی طرف گیا تھا، وہاں عبداللہ بن نواحہ کا مؤذن اس طرح اذان دے رہا تھا: «يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ رَسُولُ اللّٰهِ» ”وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ مسیلمہ کذاب اللہ کا رسول ہے“ اہل مسجد نے بھی یہ بات سنی تو ایک جماعت تیار ہوگئی، تب سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابن النواحہ اور اس کے ساتھیوں کو بلاؤ۔ ان کو بلایا گیا، میں بیٹھا تھا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن النواحہ کو کہا: تم کہاں سے قرآن پڑھتے ہو؟ اس نے کہا: میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔ انہوں نے کہا: توبہ کرلے۔ اس نے انکار کیا تو انہوں نے سیدنا قرظہ بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو حکم دے کر اسے قتل کروا دیا اور فرمایا: جسے پسند ہے کہ ابن نواحہ کو مقتول دیکھے، وہ بازار کی طرف چلا جائے۔ پھر باقی جماعت کے بارے میں پوچھا تو ان کے بھی قتل کا حکم دیا، تب سیدنا جریر اور سیدنا اشعث رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا: نہیں بلکہ انھیں توبہ کا کہا جائے، تو ان سب نے توبہ کرلی اور ان کو چھوڑ دیا گیا۔