السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: من قال في المرتد: يستتاب مكانه، فإن تاب وإلا قتل باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک مرتد سے اسی وقت توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، پس اگر وہ توبہ کر لے (تو ٹھیک) ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ الْغَدَاةَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى مَسْجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ، مَسْجِدِ عَبْدِ اللهِ بْنِ النَّوَّاحَةِ، فَسَمِعَ مُؤَذِّنَهُمْ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ رَسُولُ اللهِ، وَأَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْمَسْجِدِ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَنْ هَا هُنَا؟ فَوَثَبَ نَفَرٌ، فَقَالَ: عَلَيَّ بِابْنِ النَّوَّاحَةِ وَأَصْحَابِهِ، فَجِيءَ بِهِمْ وَأَنَا جَالِسٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ النَّوَّاحَةِ: أَيْنَ مَا كُنْتَ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: كُنْتُ أَتَّقِيكُمْ بِهِ، قَالَ: فَتُبْ، قَالَ: فَأَبَى، قَالَ: فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّ فَأَخْرَجَهُ إِلَى السُّوقِ فَضَرَبَ رَأْسَهُ، قَالَ: فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ ⦗٣٥٩⦘ يَقُولُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَتِيلًا فِي السُّوقِ فَلْيَخْرُجْ فَلْيَنْظُرْ إِلَيْهِ، قَالَ حَارِثَةُ: فَكُنْتُ فِيمَنْ خَرَجَ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جُرِّدَ، ثُمَّ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي أُولَئِكَ النَّفَرِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ بِقَتْلِهِمْ، فَقَامَ جَرِيرٌ وَالْأَشْعَثُ فَقَالَا: لَا، بَلِ اسْتَتِبْهُمْ، وَكَفِّلْهُمْ عَشَائِرَهُمْ، فَاسْتَتَابَهُمْ فَتَابُوا فُكَفَّلَهُمْ عَشَائِرَهُمْ ".حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، جب سلام پھیرا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے بتایا کہ وہ بنو حنیفہ کی مسجد، یعنی عبداللہ بن نواحہ کی مسجد کی طرف گیا تھا، وہاں اس نے ان کے مؤذن کو اس طرح گواہی دیتے سنا: «يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ رَسُولُ اللّٰهِ» ”وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ مسیلمہ کذاب اللہ کا رسول ہے“ اور اس نے اہل مسجد کو بھی اسی بات پر پایا، تب سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہاں کون ہے؟ تو ایک جماعت اٹھ کھڑی ہوئی، آپ نے فرمایا: ابن النواحہ اور اس کے ساتھیوں کو میرے پاس لاؤ۔ ان کو لایا گیا، میں بیٹھا تھا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن النواحہ کو کہا: وہ قرآن کہاں گیا جو تم پڑھا کرتے تھے؟ اس نے کہا: میں اس کے ذریعے تم سے بچاؤ کرتا تھا۔ انہوں نے کہا: توبہ کرلے۔ اس نے انکار کیا تو انہوں نے سیدنا قرظہ بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، وہ اسے بازار کی طرف لے گئے اور اس کا سر قلم کر دیا۔ پھر میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: جسے پسند ہے کہ ابن نواحہ کو بازار میں مقتول دیکھے، وہ نکل کر اسے دیکھ لے۔ حارثہ کہتے ہیں: میں بھی نکلنے والوں میں تھا، تو دیکھا کہ اس کے کپڑے اتار دیے گئے تھے۔ پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے باقی جماعت کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا تو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کرنے کا مشورہ دیا، تب سیدنا جریر اور سیدنا اشعث رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا: نہیں بلکہ انھیں توبہ کا کہیں اور ان کے قبیلوں کو ان کا ضامن بنا دیں، تو انہوں نے ان سے توبہ کا مطالبہ کیا، ان سب نے توبہ کرلی اور آپ نے ان کے قبیلوں کو ان کا ضامن بنا دیا۔