حدیث نمبر: 16886
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ الْغَدَاةَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى مَسْجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ، مَسْجِدِ عَبْدِ اللهِ بْنِ النَّوَّاحَةِ، فَسَمِعَ مُؤَذِّنَهُمْ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ رَسُولُ اللهِ، وَأَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْمَسْجِدِ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَنْ هَا هُنَا؟ فَوَثَبَ نَفَرٌ، فَقَالَ: عَلَيَّ بِابْنِ النَّوَّاحَةِ وَأَصْحَابِهِ، فَجِيءَ بِهِمْ وَأَنَا جَالِسٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ النَّوَّاحَةِ: أَيْنَ مَا كُنْتَ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: كُنْتُ أَتَّقِيكُمْ بِهِ، قَالَ: فَتُبْ، قَالَ: فَأَبَى، قَالَ: فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّ فَأَخْرَجَهُ إِلَى السُّوقِ فَضَرَبَ رَأْسَهُ، قَالَ: فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ ⦗٣٥٩⦘ يَقُولُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَتِيلًا فِي السُّوقِ فَلْيَخْرُجْ فَلْيَنْظُرْ إِلَيْهِ، قَالَ حَارِثَةُ: فَكُنْتُ فِيمَنْ خَرَجَ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جُرِّدَ، ثُمَّ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي أُولَئِكَ النَّفَرِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ بِقَتْلِهِمْ، فَقَامَ جَرِيرٌ وَالْأَشْعَثُ فَقَالَا: لَا، بَلِ اسْتَتِبْهُمْ، وَكَفِّلْهُمْ عَشَائِرَهُمْ، فَاسْتَتَابَهُمْ فَتَابُوا فُكَفَّلَهُمْ عَشَائِرَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ

حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، جب سلام پھیرا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ وہ بنو حنیفہ کی مسجد کی طرف گیا تھا، وہاں عبداللہ بن نواحہ کا مؤذن اس طرح اذان دے رہا تھا: «يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ رَسُولُ اللّٰهِ» ”وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ مسیلمہ کذاب اللہ کا رسول ہے“ اہل مسجد نے بھی یہ بات سنی تو ایک جماعت تیار ہوگئی، تب سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابن النواحہ اور اس کے ساتھیوں کو بلاؤ۔ ان کو بلایا گیا، میں بیٹھا تھا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن النواحہ کو کہا: تم کہاں سے قرآن پڑھتے ہو؟ اس نے کہا: میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔ انہوں نے کہا: توبہ کرلے۔ اس نے انکار کیا تو انہوں نے سیدنا قرظہ بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو حکم دے کر اسے قتل کروا دیا اور فرمایا: جسے پسند ہے کہ ابن نواحہ کو مقتول دیکھے، وہ بازار کی طرف چلا جائے۔ پھر باقی جماعت کے بارے میں پوچھا تو ان کے بھی قتل کا حکم دیا، تب سیدنا جریر اور سیدنا اشعث رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا: نہیں بلکہ انھیں توبہ کا کہا جائے، تو ان سب نے توبہ کرلی اور ان کو چھوڑ دیا گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المرتد / حدیث: 16886
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»