السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: من قال في المرتد: يستتاب مكانه، فإن تاب وإلا قتل باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک مرتد سے اسی وقت توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، پس اگر وہ توبہ کر لے (تو ٹھیک) ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16880
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: " إِنَّمَا أَمَرَ بِابْنَ أَبِي سَرْحٍ؛ لِأَنَّهُ كَانَ قَدْ أَسْلَمَ، وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ، فَرَجَعَ مُشْرِكًا وَلَحِقَ بِمَكَّةَ وَإِنَّمَا أَمَرَ بِقَتْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَطَلٍ؛ لِأَنَّهُ كَانَ مُسْلِمًا فَبَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا، وَبَعَثَ مَعَهُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ مَعَهُ مَوْلًى يَخْدُمُهُ مُسْلِمًا، فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَأَمَرَ الْمَوْلَى أَنْ يَذْبَحَ تَيْسًا وَيَصْنَعَ لَهُ طَعَامًا، وَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَلَمْ يَصْنَعْ لَهُ شَيْئًا، فَعَدَا عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ ثُمَّ ارْتَدَّ مُشْرِكًا، وَكَانَتْ لَهُ قَيْنَةٌ وَصَاحِبَتُهَا فَكَانَتَا تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِمَا مَعَهُ ".حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن ابی سرح کاتبِ رسول تھا۔ نبی ﷺ نے اسے اور اس کے ساتھ دو انصاری رضی اللہ عنہما بھیجے اور ایک غلام دیا کہ ”ابن خطل کو قتل کر آؤ۔“ راستے میں اس نے غلام کو کہا کہ ایک جانور ذبح کرو اور کھانا بناؤ۔ یہ سو گئے، جب بیدار ہوئے تو کھانا تیار نہیں تھا، اس نے غلام کو مارا اور قتل کر دیا اور خود مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا۔ اس کی دو عورتیں ساتھی بھی تھیں جو نبی ﷺ کی ہجو گایا کرتی تھیں، تو آپ ﷺ نے اس کے ساتھ ان کے قتل کا بھی حکم دیا۔