السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: من قال في المرتد: يستتاب مكانه، فإن تاب وإلا قتل باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک مرتد سے اسی وقت توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، پس اگر وہ توبہ کر لے (تو ٹھیک) ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: " إِنَّمَا أَمَرَ بِابْنَ أَبِي سَرْحٍ؛ لِأَنَّهُ كَانَ قَدْ أَسْلَمَ، وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ، فَرَجَعَ مُشْرِكًا وَلَحِقَ بِمَكَّةَ وَإِنَّمَا أَمَرَ بِقَتْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَطَلٍ؛ لِأَنَّهُ كَانَ مُسْلِمًا فَبَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا، وَبَعَثَ مَعَهُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ مَعَهُ مَوْلًى يَخْدُمُهُ مُسْلِمًا، فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَأَمَرَ الْمَوْلَى أَنْ يَذْبَحَ تَيْسًا وَيَصْنَعَ لَهُ طَعَامًا، وَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَلَمْ يَصْنَعْ لَهُ شَيْئًا، فَعَدَا عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ ثُمَّ ارْتَدَّ مُشْرِكًا، وَكَانَتْ لَهُ قَيْنَةٌ وَصَاحِبَتُهَا فَكَانَتَا تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِمَا مَعَهُ ".ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن ابی سرح کے بارے میں حکم اس لیے دیا کہ وہ مسلمان ہو چکا تھا اور رسول اللہ ﷺ کے لیے وحی لکھا کرتا تھا، پھر وہ مشرک ہو کر لوٹ گیا اور مکہ جا ملا۔ اور عبداللہ بن خطل کے قتل کا حکم اس لیے دیا کہ وہ مسلمان تھا، نبی ﷺ نے اسے زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور اس کے ساتھ ایک انصاری شخص کو بھی بھیجا، اور اس کے ساتھ ایک مسلمان غلام تھا جو اس کی خدمت کرتا تھا۔ وہ ایک جگہ ٹھہرا تو اس نے غلام کو کہا کہ ایک بکرا ذبح کرو اور میرے لیے کھانا بناؤ۔ یہ سو گیا، جب بیدار ہوا تو غلام نے کچھ تیار نہیں کیا تھا، تو اس نے غلام پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا اور خود مرتد ہو کر مشرک ہو گیا۔ اس کی ایک گانے والی لونڈی اور اس کی ساتھی تھی جو نبی ﷺ کی ہجو گایا کرتی تھیں، تو آپ ﷺ نے اس کے ساتھ ان دونوں کے قتل کا بھی حکم دیا۔