السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: من قال في المرتد: يستتاب مكانه، فإن تاب وإلا قتل باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک مرتد سے اسی وقت توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، پس اگر وہ توبہ کر لے (تو ٹھیک) ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: " أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَلْقَى لَهُ وِسَادَةً، وَقَالَ: انْزِلْ، فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ مُوثَقٌ، قَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ، ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السُّوءِ فَتَهَوَّدَ، فَقَالَ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءَ اللهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمِ اجْلِسْ، قَالَ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءَ اللهِ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ.سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میرے ساتھ اشعریوں میں سے دو آدمی تھے، (پھر انہوں نے حدیث ذکر کی یہاں تک کہ کہا:) تو آپ ﷺ نے انہیں یمن پر (عامل بنا کر) بھیجا، پھر ان کے پیچھے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے ان کے لیے تکیہ رکھا اور کہا: اتریے۔ تو ان کے پاس ایک آدمی بندھا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا: یہ یہودی تھا، پھر مسلمان ہوا، پھر اپنے برے دین کی طرف لوٹ گیا اور یہودی ہو گیا۔ انہوں نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے، یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں، بیٹھ جائیے۔ انہوں نے تین مرتبہ کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے، یہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے حکم دیا تو اسے قتل کر دیا گیا۔