حدیث نمبر: 16885
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأُتِيَ بِأَخِي بَنِي عِجْلٍ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ قَبِيصَةَ تَنَصَّرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا حُدِّثْتُ عَنْكَ؟ قَالَ: مَا حُدِّثْتَ عَنِّي؟ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْكَ أَنَّكَ تَنَصَّرْتَ، قَالَ: أَنَا عَلَى دِينِ الْمَسِيحِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: وَأَنَا عَلَى دِينِ الْمَسِيحِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا تَقُولُ فِيهِ؟ فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ خَفِيَ عَلَيَّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: طَؤُوهُ، فَوُطِئَ حَتَّى مَاتَ "، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَلِينِي: مَا قَالَ؟ قَالَ: قَالَ: الْمَسِيحُ رَبُّهُ.
حافظ ثناء اللہ

عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں: میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا تو میرا ایک بھائی بنو عجل سے مستورد بن قبیصہ کو لایا گیا جو اسلام لانے کے بعد پھر نصرانی ہو گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میں نے تیرے بارے میں کیا سنا ہے! وہ کہنے لگا: کیا سنا ہے؟ فرمایا: میں نے سنا ہے تو نصرانی ہو گیا ہے؟ تو اس نے کہا: میں مسیح کے دین پر ہوں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے بارے میں تو کیا کہتا ہے؟ تو اس نے چپکے سے بات کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کروا دیا، تو میں نے اپنے ساتھ والے کو کہا: اس نے کیا کہا؟ کہتے ہیں: اس نے کہا تھا کہ اس کا رب مسیح ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المرتد / حدیث: 16885
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»