السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: من قال في المرتد: يستتاب مكانه، فإن تاب وإلا قتل باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک مرتد سے اسی وقت توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، پس اگر وہ توبہ کر لے (تو ٹھیک) ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأُتِيَ بِأَخِي بَنِي عِجْلٍ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ قَبِيصَةَ تَنَصَّرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا حُدِّثْتُ عَنْكَ؟ قَالَ: مَا حُدِّثْتَ عَنِّي؟ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْكَ أَنَّكَ تَنَصَّرْتَ، قَالَ: أَنَا عَلَى دِينِ الْمَسِيحِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: وَأَنَا عَلَى دِينِ الْمَسِيحِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا تَقُولُ فِيهِ؟ فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ خَفِيَ عَلَيَّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: طَؤُوهُ، فَوُطِئَ حَتَّى مَاتَ "، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَلِينِي: مَا قَالَ؟ قَالَ: قَالَ: الْمَسِيحُ رَبُّهُ.عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں: میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا کہ بنو عجل کے ایک شخص مستورد بن قبیصہ کو لایا گیا جو اسلام لانے کے بعد پھر نصرانی ہو گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میں نے تیرے بارے میں کیا سنا ہے! وہ کہنے لگا: کیا سنا ہے؟ فرمایا: میں نے سنا ہے تو نصرانی ہو گیا ہے؟ تو اس نے کہا: میں مسیح کے دین پر ہوں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی مسیح کے دین پر ہوں۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے بارے میں تو کیا کہتا ہے؟ تو اس نے ایسی بات کہی جو مجھ پر مخفی رہی، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے روند ڈالو، چنانچہ اسے روندا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ تو میں نے اپنے ساتھ والے کو کہا: اس نے کیا کہا؟ کہتے ہیں: اس نے کہا تھا کہ اس کا رب مسیح ہے۔