کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے بارے میں مروی روایات کا بیان جس نے اپنے غلام کو قتل کیا یا اس کا مثلہ کیا (اعضاء کاٹے)۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ، وَمَنْ خَصَاهُ خَصَيْنَاهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے، جو اپنے غلام کا کوئی عضو کاٹے گا ہم اس کا عضو کاٹیں گے اور جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کریں گے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَّادُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ " قَالَ قَتَادَةُ: ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ نَسِيَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ: لَا يُقْتَلُ حُرٌّ بِعَبْدٍ. قَالَ الشَّيْخُ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْحَسَنُ لَمْ ينْسَ الْحَدِيثَ، لَكِنْ رَغِبَ عَنْهُ لِضَعْفِهِ. وَأَكْثَرُ ⦗٦٥⦘ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ رَغِبُوا عَنْ رِوَايَةِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ، وَذَهَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى أَنَّهُ لَمْ يسْمَعْ مِنْهُ غَيْرَ حَدِيثِ الْعَقِيقَةِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کریں گے اور جو اس کا کوئی عضو کاٹے گا، ہم اس کا عضو کاٹیں گے۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر حسن رحمہ اللہ یہ حدیث بھول گئے اور کہنے لگے: آزاد کو غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ممکن ہے کہ حسن رحمہ اللہ بھولے نہ ہوں بلکہ اس کے ضعیف ہونے کی وجہ سے اسے چھوڑا ہو اور حدیث کے اکثر اہل علم نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے حسن رحمہ اللہ کی روایت کو چھوڑا ہے، اور بعض کا موقف یہ ہے کہ حسن رحمہ اللہ نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے عقیقہ والی حدیث کے علاوہ کوئی حدیث نہیں سنی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ لَمْ يسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ سَمُرَةَ، قَالَ: وَسَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: لَمْ يسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ سَمُرَةَ شَيْئًا هُوَ كِتَابٌ. قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ: " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ " ذَاكَ فِي سَمَاعِ الْبَغْدَادِيِّينَ، وَلَمْ يسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ سَمُرَةَ. وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ فَكَانَ يُثْبِتُ سَمَاعَ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سمرہ رضی اللہ عنہ سے حسن رحمہ اللہ نے نہیں سنا اور یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف ہے، اور علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سمرہ رضی اللہ عنہ سے حسن رحمہ اللہ کا سماع ثابت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الشَّعْرَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، كَاتِبُ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عِيسَى الْقُرَشِيِّ، ثُمَّ الْأَسَدِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ جَارِيَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدِي اتَّهَمَنِي فَأَقْعَدَنِي عَلَى النَّارِ حَتَّى احْتَرَقَ فَرْجِي. فَقَالَ لَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ رَأَى ذَلِكَ عَلَيْكِ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: فَهَلِ اعْتَرَفْتِ لَهُ بِشَيْءٍ؟ قَالَتْ: لَا. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " " عَلَيَّ بِهِ " ". فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ الرَّجُلَ قَالَ: " " أَتُعَذِّبُ بِعَذَابِ اللهِ؟ " " قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اتَّهَمْتُهَا فِي نَفْسِهَا. قَالَ: " " رَأَيْتَ ذَلِكَ عَلَيْهَا؟ " " قَالَ الرَّجُلُ: لَا. قَالَ: " " فَاعْتَرَفَتْ لَكَ بِهِ؟ " " فَقَالَ: لَا. قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " " لَا يُقَادُ مَمْلُوكٌ مِنْ مَالِكِهِ، وَلَا وَلَدٌ مِنْ وَالِدِهِ لَأَقَدْتُهَا مِنْكَ " ". فَبَرَزَهُ وَضَرَبَهُ مِائَةَ سَوْطٍ، وَقَالَ لِلْجَارِيَةِ: اذْهَبِي فَأَنْتِ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللهِ، وَأَنْتِ مَوْلَاةُ اللهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ أَبُو صَالِحٍ: وَقَالَ اللَّيْثُ: وَهَذَا الْقَوْلُ مَعْمُولٌ بِهِ،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک لڑکی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میرے مالک نے مجھ پر تہمت لگائی اور مجھے آگ پر بٹھایا جس سے میری شرم گاہ جل گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا اس نے تمہیں کچھ کرتے دیکھا تھا؟ اس نے عرض کی: نہیں۔ انہوں نے پوچھا: کیا تو نے کوئی اعتراف کیا تھا؟ اس نے عرض کی: نہیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے مالک کو لے کر آؤ۔ جب وہ آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو اللہ کے عذاب کے ساتھ لوگوں کو عذاب دیتا ہے؟ تو وہ شخص کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! اس پر بدکاری کا الزام تھا۔ آپ نے پوچھا: کیا تو نے اسے کچھ کرتے دیکھا تھا یا اس نے کوئی اعتراف کیا تھا؟ اس نے کہا: نہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ ”غلام کو اس کے مالک سے قصاص نہیں دلایا جائے گا، اور نہ بیٹے کو اس کے باپ سے“ تو میں تجھ سے قصاص لیتا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ڈانٹا اور سو کوڑے مارے اور لونڈی سے فرمایا: جا! تو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے، تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی لونڈی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدَانُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عِيسَى، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. ⦗٦٦⦘ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا أَعْلَمُ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ عُمَرَ بْنِ عِيسَى، وَعَنْ عُمَرَ، هَذَا غَيْرَ اللَّيْثِ، وَهُوَ مَعْرُوفٌ بِهَذَا، سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُ عَنِ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے علم میں ابن جریج سے اس سند کے ساتھ اس حدیث کو عمر بن عیسیٰ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا، اور عمر سے لیث کے سوا کسی نے نہیں، اور وہ اسی (حدیث) کے ساتھ معروف ہے۔ میں نے ابن حماد کو امام بخاری رحمہ اللہ سے یہ ذکر کرتے سنا کہ وہ (عمر بن عیسیٰ) منکر الحدیث ہے۔
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے علم میں ابن جریج سے اس سند کے ساتھ اس حدیث کو عمر بن عیسیٰ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا، اور عمر سے لیث کے سوا کسی نے نہیں، اور وہ اسی (حدیث) کے ساتھ معروف ہے۔ میں نے ابن حماد کو امام بخاری رحمہ اللہ سے یہ ذکر کرتے سنا کہ وہ (عمر بن عیسیٰ) منکر الحدیث ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: كَانَ لِزِنْبَاعٍ عَبْدٌ يُسَمَّى سَنْدَرًا أَوِ ابْنَ سَنْدَرٍ، فَوَجَدَهُ يُقَبِّلُ جَارِيَةً لَهُ، فَأَخَذَهُ فجَبَّهُ وَجَدَعَ أُذُنَيْهِ وَأَنْفَهُ، فَأَتَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى زِنْبَاعٍ فَقَالَ: " لَا تُحَمِّلُوهُمْ مَا لَا يُطِيقُونَ، وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَمَا كَرِهْتُمْ فَبِيعُوا، وَمَا رَضِيتُمْ فَأَمْسِكُوا، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللهِ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مُثِّلَ بِهِ أَوْ حُرِّقَ بِالنَّارِ فَهُوَ حُرٌّ، وَهُوَ مَوْلَى اللهِ وَرَسُولِهِ "، فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِ بِي. فَقَالَ: " أُوصِي بِكَ كُلَّ مُسْلِمٍ " الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَقَدْ رَوَى عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرٍو مُخْتَصِرًا، وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ. وَرَوَى عَنْ سَوَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَمْرٍو، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ. وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ زنباع کا ایک غلام تھا جس کا نام سندر یا ابن سندر تھا۔ زنباع نے اسے اپنی ایک لونڈی کے ساتھ بوس و کنار کرتے ہوئے پایا تو اسے پکڑ کر خصی کر دیا اور اس کے کان اور ناک کاٹ دیے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے زنباع کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”جس کی یہ طاقت نہیں رکھتے اس کا بوجھ ان پر نہ ڈالو، اپنے کھانے سے انہیں بھی کھلاؤ، اپنے جیسے کپڑے انہیں پہناؤ۔ اگر غلام نہ پسند ہو تو بیچ دو، اچھا لگے تو رکھ لو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب نہ دو۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا مثلہ کیا گیا ہو یا آگ سے جلایا گیا ہو وہ آزاد ہے، اور وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ (مولیٰ) ہے۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اسے آزاد کر دیا۔ اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے بارے میں وصیت فرما دیجیے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے بارے میں ہر مسلمان کو وصیت کرتا ہوں۔“
المثنی بن الصباح ضعیف ہے، اس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ یہ روایت حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے عمرو سے مختصراً بھی مروی ہے، اور اس سے بھی حجت نہیں پکڑی جاتی، اور سوار ابو حمزہ کے واسطے سے عمرو سے بھی مروی ہے، اور وہ قوی نہیں۔ واللہ اعلم۔
المثنی بن الصباح ضعیف ہے، اس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ یہ روایت حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے عمرو سے مختصراً بھی مروی ہے، اور اس سے بھی حجت نہیں پکڑی جاتی، اور سوار ابو حمزہ کے واسطے سے عمرو سے بھی مروی ہے، اور وہ قوی نہیں۔ واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الصَّابُونِيُّ الْأَنْطَاكِيُّ، قَاضِي الثُّغُورِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ الرَّمْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ عَبْدَهُ مُتَعَمِّدًا فَجَلَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِائَةَ جَلْدَةٍ وَنَفَاهُ سَنَةً وَمَحَا سَهْمَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَلَمْ يُقِدْهُ بِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کر دیا، تو نبی ﷺ نے اسے ایک سو کوڑے لگائے اور ایک سال کے لیے اسے جلا وطن کر دیا اور مسلمانوں سے اس کا حصہ ختم کر دیا، قصاص نہیں لیا اور ایک غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِرَجُلٍ قَتَلَ عَبْدَهُ مُتَعَمِّدًا فَجَلَدَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً، وَنَفَاهُ سَنَةً، وَمَحَا سَهْمَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَلَمْ يُقِدْهُ بِهِ، ⦗٦٧⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کر دیا تھا، اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو سو کوڑے لگائے، ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا، مسلمانوں سے اس کا حصہ ختم کر دیا اور اس سے قصاص نہیں لیا۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا، كَانَا يَقُولَانِ: " لَا يُقْتَلُ الْمُؤْمِنُ بِعَبْدِهِ، وَلَكِنْ يُضْرَبُ وَيُطَالُ حَبْسُهُ وَيُحْرَمُ سَهْمَهُ " أَسَانِيدُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ ضَعِيفَةٌ لَا تَقُومُ بِشَيْءٍ مِنْهَا الْحُجَّةُ، إِلَّا أَنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنْ لَا يُقْتَلَ الرَّجُلُ بِعَبْدِهِ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَالشَّعْبِيِّ، وَالزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ آزاد کو غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، البتہ کوڑے مارے جائیں گے، قید میں ڈالا جائے گا، اور اس کا مسلمانوں سے حصہ ختم کر دیا جائے گا۔ یہ تمام کی تمام سندیں ضعیف ہیں جن سے حجت پکڑی نہیں جا سکتی۔ اکثر اہل علم کا مذہب یہ ہے کہ کسی شخص کو اس کے غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ سُلَيْمَانَ الْمُزَنِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ، اسْتَفْتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا، عَنْ رَجُلٍ، نَوَطَ عَبْدًا لَهُ فَمَاتَ وَلَمْ يُرِدْ قَتْلَهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: " لَيَعْتِقْ رَقَبَةً، أَوْ لِيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان مزنی فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فتویٰ طلب کیا کہ ایک آدمی اپنے غلام کو زد و کوب کرتا ہے اور وہ مر جاتا ہے لیکن اس نے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ (بدلے میں) ایک گردن آزاد کرے یا دو مہینے کے لگاتار روزے رکھے۔