کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جب کوئی غلام قتل کر دیا جائے تو اس کی قیمت لازم آئے گی خواہ وہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 15956
قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا يُرْوَى عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا قَالَ الشَّيْخُ: رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، فِي كِتَابِ الْعِلَلِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا فِي الْحُرِّ يَقْتُلُ الْعَبْدَ، قَالَا: ثَمَنُهُ مَا بَلَغَ. وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اسے عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کتاب العلل میں ابو الربیع زہرانی سے، انہوں نے ہشیم سے، انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے، انہوں نے مطر سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے احنف بن قیس سے، انہوں نے سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے اس آزاد شخص کے بارے میں روایت کیا ہے جو غلام کو قتل کر دے، ان دونوں نے فرمایا: ”اس کی قیمت (ادا کی جائے گی) جتنی بھی ہو۔““
اور یہ سند صحیح ہے...
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اسے عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کتاب العلل میں ابو الربیع زہرانی سے، انہوں نے ہشیم سے، انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے، انہوں نے مطر سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے احنف بن قیس سے، انہوں نے سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے اس آزاد شخص کے بارے میں روایت کیا ہے جو غلام کو قتل کر دے، ان دونوں نے فرمایا: ”اس کی قیمت (ادا کی جائے گی) جتنی بھی ہو۔““
اور یہ سند صحیح ہے...
حدیث نمبر: 15956
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ⦗٦٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ يَعْنِي الطَّبَرِيَّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِي الْحُرِّ يَقْتُلُ الْعَبْدَ، قَالَ: " فِيهِ ثَمَنُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر آزاد غلام کو قتل کر دے تو اس میں اس کی قیمت ہے۔
حدیث نمبر: 15957
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبِي، ثنا نُوحُ بْنُ دَرَّاجٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِي الْعَبْدِ يُصَابُ قَالَ: " قِيمَتُهُ بَالِغَةٌ مَا بَلَغَتْ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس غلام کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو قتل کر دیا جائے کہ اس کے بدلے اس کی قیمت ہے۔
حدیث نمبر: 15958
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي الْعَبْدِ يُقْتَلُ خَطَأً قَالَا: " ثَمَنُهُ مَا بَلَغَ "..
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ اس غلام کے بارے میں فرماتے ہیں جس کو غلطی سے قتل کر دیا گیا ہو کہ اس میں اس کی قیمت ہے۔
حدیث نمبر: 15959
وَرُوِّينَاهُ أَيْضًا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرُوِي ذَلِكَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ، وَشُرَيْحٍ، قَالُوا: " ثَمَنُهُ وَإِنْ خُلِّفَ دِيَةُ الْحُرِّ " أَنْبَأَنِيهِ أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ فَذَكَرَهُ. وَفِيهِ إِرْسَالٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ.
حافظ ثناء اللہ
یہی روایت عبدالکریم سے اور وہ علی اور عبداللہ رضی اللہ عنہما اور شریح رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ اس کی قیمت لی جائے گی، اگرچہ وہ آزاد کی دیت سے بڑھ جائے۔
حدیث نمبر: 15960
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ أَجْلِسَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلِيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، وَلَأَنْ أَجْلِسَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ ثَمَانِيَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، دِيَةُ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایسی قوم کے ساتھ فجر سے لے کر طلوعِ شمس تک بیٹھوں جو اللہ کا ذکر کر رہی ہو، یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے اور میں ایسی قوم کے ساتھ بیٹھوں جو اللہ کا ذکر کر رہی ہو عصر کے بعد سے غروبِ شمس تک، مجھے یہ اس سے زیادہ محبوب ہے کہ اولادِ اسماعیل سے آٹھ ایسے غلام آزاد کروں جن کی دیت بارہ ہزار /١٢٠٠٠ ہو۔“