السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما روي فيمن قتل عبده أو مثل به باب: اس شخص کے بارے میں مروی روایات کا بیان جس نے اپنے غلام کو قتل کیا یا اس کا مثلہ کیا (اعضاء کاٹے)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الشَّعْرَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، كَاتِبُ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عِيسَى الْقُرَشِيِّ، ثُمَّ الْأَسَدِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ جَارِيَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدِي اتَّهَمَنِي فَأَقْعَدَنِي عَلَى النَّارِ حَتَّى احْتَرَقَ فَرْجِي. فَقَالَ لَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ رَأَى ذَلِكَ عَلَيْكِ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: فَهَلِ اعْتَرَفْتِ لَهُ بِشَيْءٍ؟ قَالَتْ: لَا. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " " عَلَيَّ بِهِ " ". فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ الرَّجُلَ قَالَ: " " أَتُعَذِّبُ بِعَذَابِ اللهِ؟ " " قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اتَّهَمْتُهَا فِي نَفْسِهَا. قَالَ: " " رَأَيْتَ ذَلِكَ عَلَيْهَا؟ " " قَالَ الرَّجُلُ: لَا. قَالَ: " " فَاعْتَرَفَتْ لَكَ بِهِ؟ " " فَقَالَ: لَا. قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " " لَا يُقَادُ مَمْلُوكٌ مِنْ مَالِكِهِ، وَلَا وَلَدٌ مِنْ وَالِدِهِ لَأَقَدْتُهَا مِنْكَ " ". فَبَرَزَهُ وَضَرَبَهُ مِائَةَ سَوْطٍ، وَقَالَ لِلْجَارِيَةِ: اذْهَبِي فَأَنْتِ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللهِ، وَأَنْتِ مَوْلَاةُ اللهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ أَبُو صَالِحٍ: وَقَالَ اللَّيْثُ: وَهَذَا الْقَوْلُ مَعْمُولٌ بِهِ،.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک لڑکی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میرے مالک نے مجھ پر تہمت لگائی اور مجھے آگ پر بٹھایا جس سے میری شرم گاہ جل گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا اس نے تمہیں کچھ کرتے دیکھا تھا؟ اس نے عرض کی: نہیں۔ انہوں نے پوچھا: کیا تو نے کوئی اعتراف کیا تھا؟ اس نے عرض کی: نہیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے مالک کو لے کر آؤ۔ جب وہ آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو اللہ کے عذاب کے ساتھ لوگوں کو عذاب دیتا ہے؟ تو وہ شخص کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! اس پر بدکاری کا الزام تھا۔ آپ نے پوچھا: کیا تو نے اسے کچھ کرتے دیکھا تھا یا اس نے کوئی اعتراف کیا تھا؟ اس نے کہا: نہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتی کہ ”غلام کے بدلے کسی آزاد سے قصاص نہیں لیا جائے گا“ تو میں تجھ سے قصاص لیتا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ڈانٹا اور سو کوڑے مارے اور لونڈی سے فرمایا: جا! تو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے، تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی لونڈی ہے۔