أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا، كَانَا لَا يَقْتُلَانِ الْحُرَّ بِقَتْلِ الْعَبْدِ،.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما غلام کے بدلے آزاد کو قتل نہیں کرتے تھے۔
قَالَ عَلِيٌّ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الطَّبَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، وَالْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، مِثْلَهُ سَوَاءٌ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما غلام کے بدلے آزاد کو قتل نہیں کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا يُقْتَلَ حُرٌّ بِعَبْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
عامر کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سنت یہ ہے کہ آزاد کو غلام کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“ [ضعیف]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ الْبُرِّيُّ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُقْتَلُ حُرٌّ بِعَبْدٍ " فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آزاد کو غلام کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“
اس سند میں ضعف ہے۔
اس سند میں ضعف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا، فِي الْحُرِّ يَقْتُلُ الْعَبْدَ، قَالَا: " الْقَوَدُ " هَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اس آزاد کے بارے میں جو غلام کو قتل کر دے، فرماتے ہیں: ”(اس میں) قصاص ہے۔“
یہ روایت منقطع ہے۔
یہ روایت منقطع ہے۔
وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ ⦗٦٤⦘ الْجُنَيْدِ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، ثنا لَيْثٌ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا: " إِذَا قَتَلَ الْحُرُّ الْعَبْدَ مُتَعَمِّدًا فَهُوَ قَوَدٌ " قَالَ عَلِيٌّ: لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ؛ لِأَنَّهُ مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آزاد غلام کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو (اس میں) قصاص ہے۔
علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے حجت قائم نہیں ہوتی، کیونکہ یہ مرسل ہے۔
علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے حجت قائم نہیں ہوتی، کیونکہ یہ مرسل ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " لَا يُقَادُ الْحُرُّ بِالْعَبْدِ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ السُّنَّةَ مَضَتْ بِأَنْ لَا يُقْتَلَ الْحُرُّ الْمُسْلِمُ بِالْعَبْدِ وَإِنْ قَتَلَهُ عَمْدًا، وَعَلَيْهِ الْعَقْلُ.
حافظ ثناء اللہ
بکیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ ”آزاد مسلمان کو غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، چاہے جان بوجھ کر کرے۔ ہاں، دیت لی جائے گی۔“
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا قَوَدَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ فِي شَيْءٍ، إِلَّا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَتَلَ الْحُرَّ عَمْدًا قُتِلَ بِهِ " وَقَالَ لِي مَالِكٌ مِثْلَهُ. وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آزاد اور غلام کے درمیان کسی چیز میں قصاص نہیں، سوائے اس کے کہ غلام اگر آزاد کو جان بوجھ کر قتل کرے تو غلام کو قتل کیا جائے گا۔ اور امام مالک رحمہ اللہ نے بھی مجھے اسی طرح بیان کیا، اور ابن جریج رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے ہمیں اسی طرح بیان کیا ہے۔