السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما روي فيمن قتل عبده أو مثل به باب: اس شخص کے بارے میں مروی روایات کا بیان جس نے اپنے غلام کو قتل کیا یا اس کا مثلہ کیا (اعضاء کاٹے)۔
حدیث نمبر: 15954
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا، كَانَا يَقُولَانِ: " لَا يُقْتَلُ الْمُؤْمِنُ بِعَبْدِهِ، وَلَكِنْ يُضْرَبُ وَيُطَالُ حَبْسُهُ وَيُحْرَمُ سَهْمَهُ " أَسَانِيدُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ ضَعِيفَةٌ لَا تَقُومُ بِشَيْءٍ مِنْهَا الْحُجَّةُ، إِلَّا أَنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنْ لَا يُقْتَلَ الرَّجُلُ بِعَبْدِهِ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَالشَّعْبِيِّ، وَالزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِمْ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ آزاد کو غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، البتہ کوڑے مارے جائیں گے، قید میں ڈالا جائے گا، اور اس کا مسلمانوں سے حصہ ختم کر دیا جائے گا۔ یہ تمام کی تمام سندیں ضعیف ہیں جن سے حجت پکڑی نہیں جا سکتی۔ اکثر اہل علم کا مذہب یہ ہے کہ کسی شخص کو اس کے غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔