السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما روي فيمن قتل عبده أو مثل به باب: اس شخص کے بارے میں مروی روایات کا بیان جس نے اپنے غلام کو قتل کیا یا اس کا مثلہ کیا (اعضاء کاٹے)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: كَانَ لِزِنْبَاعٍ عَبْدٌ يُسَمَّى سَنْدَرًا أَوِ ابْنَ سَنْدَرٍ، فَوَجَدَهُ يُقَبِّلُ جَارِيَةً لَهُ، فَأَخَذَهُ فجَبَّهُ وَجَدَعَ أُذُنَيْهِ وَأَنْفَهُ، فَأَتَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى زِنْبَاعٍ فَقَالَ: " لَا تُحَمِّلُوهُمْ مَا لَا يُطِيقُونَ، وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَمَا كَرِهْتُمْ فَبِيعُوا، وَمَا رَضِيتُمْ فَأَمْسِكُوا، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللهِ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مُثِّلَ بِهِ أَوْ حُرِّقَ بِالنَّارِ فَهُوَ حُرٌّ، وَهُوَ مَوْلَى اللهِ وَرَسُولِهِ "، فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِ بِي. فَقَالَ: " أُوصِي بِكَ كُلَّ مُسْلِمٍ " الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَقَدْ رَوَى عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرٍو مُخْتَصِرًا، وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ. وَرَوَى عَنْ سَوَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَمْرٍو، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ. وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ زنباع کا ایک غلام تھا جس کا نام سندر یا ابن سندر تھا۔ وہ ایک لونڈی کے ساتھ بوس و کنار کرتا ہوا پکڑا گیا تو اسے پکڑا اور اسے مارا اور اس کے کان اور ناک کاٹ دی۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے زنباع کو بلا لیا اور فرمایا: ”جس کی یہ طاقت نہیں رکھتے اس کا بوجھ ان پر نہ ڈالو، اپنے کھانے سے انہیں بھی کھلاؤ، اپنے جیسے کپڑے انہیں پہناؤ۔ اگر غلام نہ پسند ہو تو بیچ دو، اچھا لگے تو رکھ لو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب نہ دو۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا مثلہ کیا گیا ہو یا آگ سے جلایا گیا ہو وہ آزاد ہے۔“ وہ صرف اللہ اور اس کے رسول کا غلام ہے تو نبی کریم ﷺ نے اسے آزاد کر دیا اور فرمایا: ”میں یہ تمام مسلمانوں کو نصیحت و وصیت کرتا ہوں۔“ المثنی بن الصباح، ضعیف ہے۔