❮
❯
حدیث نمبر: 15950
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: كَانَ لِزِنْبَاعٍ عَبْدٌ يُسَمَّى سَنْدَرًا أَوِ ابْنَ سَنْدَرٍ، فَوَجَدَهُ يُقَبِّلُ جَارِيَةً لَهُ، فَأَخَذَهُ فجَبَّهُ وَجَدَعَ أُذُنَيْهِ وَأَنْفَهُ، فَأَتَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى زِنْبَاعٍ فَقَالَ: " لَا تُحَمِّلُوهُمْ مَا لَا يُطِيقُونَ، وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَمَا كَرِهْتُمْ فَبِيعُوا، وَمَا رَضِيتُمْ فَأَمْسِكُوا، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللهِ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مُثِّلَ بِهِ أَوْ حُرِّقَ بِالنَّارِ فَهُوَ حُرٌّ، وَهُوَ مَوْلَى اللهِ وَرَسُولِهِ "، فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِ بِي. فَقَالَ: " أُوصِي بِكَ كُلَّ مُسْلِمٍ " الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَقَدْ رَوَى عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرٍو مُخْتَصِرًا، وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ. وَرَوَى عَنْ سَوَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَمْرٍو، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ. وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ زنباع کا ایک غلام تھا جس کا نام سندر یا ابن سندر تھا۔ زنباع نے اسے اپنی ایک لونڈی کے ساتھ بوس و کنار کرتے ہوئے پایا تو اسے پکڑ کر خصی کر دیا اور اس کے کان اور ناک کاٹ دیے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے زنباع کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”جس کی یہ طاقت نہیں رکھتے اس کا بوجھ ان پر نہ ڈالو، اپنے کھانے سے انہیں بھی کھلاؤ، اپنے جیسے کپڑے انہیں پہناؤ۔ اگر غلام نہ پسند ہو تو بیچ دو، اچھا لگے تو رکھ لو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب نہ دو۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا مثلہ کیا گیا ہو یا آگ سے جلایا گیا ہو وہ آزاد ہے، اور وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ (مولیٰ) ہے۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اسے آزاد کر دیا۔ اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے بارے میں وصیت فرما دیجیے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے بارے میں ہر مسلمان کو وصیت کرتا ہوں۔“
المثنی بن الصباح ضعیف ہے، اس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ یہ روایت حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے عمرو سے مختصراً بھی مروی ہے، اور اس سے بھی حجت نہیں پکڑی جاتی، اور سوار ابو حمزہ کے واسطے سے عمرو سے بھی مروی ہے، اور وہ قوی نہیں۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15950
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»