قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفُ فِي الْقَتْلِ} [الإسراء: 33].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفُ فِي الْقَتْلِ﴾ ”اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے تو یقیناً ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے، پس وہ قتل (کے بدلے) میں حد سے تجاوز نہ کرے۔“ [سورة الإسراء: 33]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٤٧⦘ الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: " يَقْتُلُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قتل میں اسراف کا معنیٰ یہ ہے کہ ایک کے بدلے دو کو قتل کیا جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا} [الإسراء: ٣٣]، قَالَ: سَبِيلًا عَلَيْهِ، {فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ} [الإسراء: ٣٣] قَالَ: لَا يَقْتُلِ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقِيلَ فِي قَوْلِهِ: {فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ} [الإسراء: ٣٣]، قَالَ: لَا يَقْتُلْ غَيْرَ قَاتِلِهِ، وَهَذَا يُشْبِهُ مَا قِيلَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ﴿فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهِ سُلْطَانًا﴾ [سورة الإسراء: 33] یعنی اس کے لیے راستہ بنایا اور ﴿فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ﴾ [سورة الإسراء: 33] یعنی ایک کے بدلے دو نہ قتل کرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ﴾ [سورة الإسراء: 33] یعنی قاتل کو ہی قصاصاً قتل کیا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، {فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ} [الإسراء: ٣٣] قَالَ: " لَا يَقْتُلْ غَيْرَ قَاتِلِهِ، وَلَا يُمَثِّلْ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
طلق بن حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ﴾ [سورة الإسراء: 33] یعنی قاتل ہی قصاصاً قتل کیا جائے اور پھر اس کی لاش کا مثلہ نہ کیا جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ النَّاسَ، فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا قَتَلَ الرَّجُلُ مِنَ الْقَوْمِ رَجُلًا لَمْ يَرْضَوْا حَتَّى يَقْتُلُوا بِهِ رَجُلًا شَرِيفًا، إِذَا كَانَ قَاتِلُهُمْ غَيْرَ شَرِيفٍ لَمْ يَقْتُلُوا قَاتِلَهُمْ وَقَتَلُوا غَيْرَهُ، فَوُعِظُوا فِي ذَلِكَ بِقَوْلِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا} [الإسراء: ٣٣]. وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: السَّرَفُ أَنْ يَقْتُلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى} [البقرة: ١٧٨] الْآيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں جب کسی شریف آدمی سے قتل ہوتا تو اس کو بھی قصاصاً قتل کیا جاتا اور جب کوئی بڑا غیر شریف قتل کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا، بدلے میں کسی اور کو قتل کر دیا جاتا تو اللہ تعالیٰ نے بطور نصیحت یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا﴾ [سورة الإسراء: 33]۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «إِسْرَاف فِي الْقَتْلِ» کا معنیٰ ہے کہ قاتل کی جگہ کسی اور کو قتل نہ کیا جائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى﴾ [سورة البقرة: 178] ”مقتول میں تم پر قصاص فرض کر دیا گیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى} [البقرة: ١٧٨]، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فِيهِمْ بَغْيٌ ⦗٤٨⦘ وَطَاعَةٌ لِلشَّيْطَانِ، فَكَانَ الْحِيُّ فِيهِمْ إِذَا كَانَ فِيهِمْ عَدَدٌ وَعُدَّةٌ، فَقُتِلَ لَهُمْ عَبْدٌ قَتَلَهُ عَبْدُ قَوْمٍ آخَرِينَ قَالُوا: لَا نَقْتُلُ بِهِ إِلَّا حُرًّا تَعَزُّزًا وَتَفَضُّلًا عَلَى غَيْرِهِمْ فِي أَنْفُسِهِمْ، وَإِذَا قُتِلَتْ لَهُمْ أُنْثَى قَتَلَتْهَا امْرَأَةٌ قَالُوا: لَنْ نَقْتُلَ بِهَا إِلَّا رَجُلًا. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ يُخْبِرُهُمْ أَنَّ الْعَبْدَ بِالْعَبْدِ وَالْحُرَّ بِالْحُرِّ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى، وَنَهَاهُمْ عَنِ الْبَغْيِ، ثُمَّ أَنْزَلَ سُورَةَ الْمَائِدَةِ، فَقَالَ: {وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ} [المائدة: ٤٥].
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى﴾ [سورة البقرة: 178] کہ جاہلیت کے ایام میں یہ اصول تھا کہ اگر کسی قبیلے کا کوئی غلام قتل ہوتا تو دوسرے قبیلے کا غلام اور اگر عورت قتل ہوتی تو دوسرے قبیلے کی عورت قتل کی جاتی۔ ان میں جو بڑا قبیلہ تھا ان کا اگر کوئی غلام بھی قتل ہوتا تو وہ کہتے: ہم تو اس کے بدلے آزاد ہی قتل کریں گے۔ یہ اپنے آپ کو ان سے اعلیٰ سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ غلام کے بدلے غلام، آزاد کے بدلے آزاد اور عورت کے بدلے عورت ہی قتل ہو۔ لہٰذا جو تم ظلم کرتے ہو اسے چھوڑ دو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ کی آیت نازل فرمائی: ﴿وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ﴾ [سورة المائدة: 45]۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، فِي قَوْلِهِ: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى} [البقرة: ١٧٨]، الْآيَةَ، قَالَ: كَانَ بُدُوُّ ذَلِكَ فِي حَيَّيْنِ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ اقْتَتَلُوا قَبْلَ الْإِسْلَامِ بِقَلِيلٍ، ثُمَّ أَسْلَمُوا وَلِبَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ خُمَاشَاتٌ وَقَتْلٌ، فَطَلَبُوهَا فِي الْإِسْلَامِ، وَكَانَ لِأَحَدِ الْحَيَّيْنِ فَضْلٌ عَلَى الْآخَرِ فَأَقْسَمُوا بِاللهِ لَيُقْتَلَنَّ بِالْأُنْثَى الذَّكَرُ مِنْهُمْ، وَبِالْعَبْدِ الْحُرُّ مِنْهُمْ. فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رَضُوا وَسَلَّمُوا.
حافظ ثناء اللہ
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ اس آیت ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى﴾ [سورة البقرة: 178] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ قبل از اسلام عرب قبائل آپس میں لڑتے تھے، پھر وہ مسلمان ہو گئے، لیکن ان کے آپس میں کچھ بدلے رہتے تھے؛ لہٰذا وہ غلام کے بدلے آزاد اور عورت کے بدلے مرد کے قتل کا مطالبہ کرنے لگے اور انہوں نے اس پر قسمیں بھی اٹھا لیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی تو تمام اس کے مطیع بھی ہو گئے اور راضی بھی ہو گئے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ مُوسَى، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ مُقَاتِلٌ: أَخَذْتُ هَذَا التَّفْسِيرَ عَنْ نَفَرٍ، حَفِظَ مُعَاذٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدًا، وَالضَّحَّاكَ، وَالْحَسَنَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَلِبَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ خُمَاشَاتٌ وَقَتْلٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَمَا أَشْبَهَ مَا قَالُوا مِنْ هَذَا بِمَا قَالُوا، لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى إِنَّمَا أَلْزَمَ كُلَّ مُذْنِبٍ ذَنْبَهُ، وَلَمْ يَجْعَلْ جُرْمَ أَحَدٍ عَلَى غَيْرِهِ، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَقَدْ جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ تفسیر ان سے لی ہے جنہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یاد کیا ہے، ان میں مجاہد، ضحاک اور حسن رحمہ اللہ وغیرہ ہیں، پھر سابقہ روایت بیان کی لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ان کے آپس میں کچھ بدلے یا قتل تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی بات زیادہ مشابہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس کا گناہ ہے اسی کے ساتھ بتایا ہے نہ کہ اس کا خمیازہ دوسرے پر ہوگا۔ پھر لمبی بات کی اور یہ بات ارشاد فرمائی کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”وہ شخص اللہ کا سخت ناپسند بندہ ہے جو قاتل کو چھوڑ کر اس کی جگہ کسی اور کو قتل کروا دے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی بات زیادہ مشابہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس کا گناہ ہے اسی کے ساتھ بتایا ہے نہ کہ اس کا خمیازہ دوسرے پر ہوگا۔ پھر لمبی بات کی اور یہ بات ارشاد فرمائی کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”وہ شخص اللہ کا سخت ناپسند بندہ ہے جو قاتل کو چھوڑ کر اس کی جگہ کسی اور کو قتل کروا دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، أَوْ طَلَبَ بِدَمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، أَوْ بَصَّرَ عَيْنَيْهِ مَا لَمْ تُبْصِرَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے زیادہ شریر اللہ کے ہاں وہ ہے جو قصاصاً قاتل کی جگہ دوسرے کو قتل کرے یا مسلمان ہو کر دوسرے مسلمان سے جاہلیت کا قصاص مانگے یا آنکھوں کو وہ چیز دکھائے جو وہ نہیں دیکھتیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: وُجِدَ. ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابٌ: " إِنَّ أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللهِ ". وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانِ: " إِنَّ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللهِ الْقَاتِلُ غَيْرَ قَاتِلِهِ، وَالضَّارِبُ غَيْرَ ضَارِبِهِ، وَمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی میان میں سے ایک رقعہ ملا، اس پر لکھا ہوا تھا: ”اللہ کا سب سے بڑا باغی۔“ سلیمان کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”سب سے بڑا سرکش وہ ہے جو قاتل کی جگہ کسی اور کو قتل کرے، ایک کی جگہ دوسرے کو مارے اور جو اپنے آقا کو چھوڑ کر بھاگ جائے تو اس نے اس کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا كَانَ فِي الصَّحِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي قِرَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ فِيهَا: " لَعَنَ اللهُ الْقَاتِلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، وَالضَّارِبَ غَيْرَ ضَارِبِهِ. وَمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ وَلِيِّ نِعْمَتِهِ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے مشکیزہ سے ایک صحیفہ ملا جس پر یہ لکھا ہوا تھا: ”اللہ کی اس پر لعنت ہو جو قاتل کی جگہ دوسرے کو قتل کرے اور ایک کی جگہ دوسرے کو مارے اور جو اپنے مالک سے پھر گیا تو اس نے اس کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابَانِ: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عُتُوًّا الرَّجُلُ ضَرَبَ غَيْرَ ضَارِبِهِ، وَرَجُلٌ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، وَرَجُلٌ تَوَلَّى غَيْرَ أَهْلِ نِعْمَتِهِ. فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. هُوَ مَالِكُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، يَرْوِي عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی میان میں سے دو خط ملے کہ: ”لوگوں میں سب سے بڑا سرکش وہ ہے جو کسی کی جگہ دوسرے کو مارے یا قتل کرے اور وہ آدمی جو غیر اہل نعمت کی طرف پھرے۔ جس نے ایسا کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا، نہ تو ان کا کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَى أَبِي الَّذِي بِظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: دَعْنِي أُعَالِجُ الَّذِي بِظَهْرِكَ، ⦗٥٠⦘ فَإِنِّي طَبِيبٌ. فَقَالَ: أَنْتَ رَفِيقٌ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ " قَالَ: ابْنِي أَشْهَدُ بِهِ، فَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، میرے والد نے آپ ﷺ کی پیٹھ دیکھی اور کہنے لگے: میں طبیب ہوں، میں آپ کی اس پیٹھ (مہرِ نبوت) کا علاج کروں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو طبیب نہیں «رَفِیقٌ» ”رفیق“ ہے“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرے ساتھ کون ہے؟“ میں نے کہا: میرا بیٹا ہے اور میں اس پر قسم اٹھاتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس پر ظلم نہ کرنا یہ تجھ پر ظلم نہ کرے گا۔“
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قُمَاشٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، فَتَلَقَّانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي طَرِيقِهِ فَقَالَ لِي أَبِي: يَا بُنِيَّ هَلْ تَدْرِي مَنْ هَذَا الْمُقْبِلُ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ ذَاكَ، وَذَلِكَ أَنِّي ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَا يُشْبِهُ النَّاسَ، فَإِذَا هُوَ بَشَرٌ ذُو وَفْرَةٍ، عَلَيْهِ رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ، وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ: " ابْنُكَ هَذَا؟ " قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَبْتِ شَبَهِي بِأَبِي، وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ ". ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے ملنے گیا۔ آپ ہمیں راستے ہی میں مل گئے تو میرے والد مجھے کہنے لگے: بیٹا! یہ جو سامنے سے آ رہا ہے، اسے جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے فرمایا: یہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ یہ سن کر میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے، کیونکہ میں تو سمجھتا تھا کہ آپ انسانوں جیسے نہیں ہوں گے، لیکن آپ تو انسان ہی تھے جن کے وفرہ بال تھے اور آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی اور دوہرے رنگ کے کپڑے آپ پر تھے۔ میرے والد نے سلام کیا تو آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا، پھر پوچھا: ”کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ تو میرے والد کہنے لگے: رب کعبہ کی قسم! جی ہاں، تو آپ ﷺ مسکرا دیے کہ ایک تو میں اپنے باپ کے مشابہ تھا اور پھر بھی میرے والد قسم اٹھا رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس پر ظلم نہ کرنا، یہ تجھ پر ظلم نہیں کرے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے یہی آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ [سورة الأنعام: 164] کہ ”ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دَنُوقًا، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " أِيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟ " قَالُوا: يَوْمُنَا هَذَا أَوْ يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ. قَالَ: " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ وَبَلَدِكُمْ، أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ، لَا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ، وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن عمرو بن احوص اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا: ”کون سا دن حرمت کے لحاظ سے سب سے عظیم ہے؟“ تو لوگوں نے کہا: آج کا دن، حجِ اکبر کا دن۔ فرمایا: ”تمہارا مال، تمہاری عزتیں، تمہارا خون حرام ہے، جیسے یہ شہر اور یہ دن حرمت والا ہے۔ کوئی کسی پر زیادتی نہیں کرے گا، نہ بچہ والد کے کیے کو بھگتے گا اور نہ والد بچے کا بوجھ اٹھائے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعَ، أَنَّ نَاسًا، مِنْهُمْ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنُ يَرْبُوعٍ أَصَابُوا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلَتْ فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى ". هَكَذَا قَالَ شُعْبَةُ: عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ. وَقَالَ الثَّوْرِيُّ: عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ.
حافظ ثناء اللہ
اسود بن ہلال بنو ثعلبہ بن یربوع کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور بنو ثعلبہ میں سے کسی نے صحابیِ رسول کو قتل کر دیا تھا، تو لوگ کہنے لگے: یا رسول اللہ! ان بنو ثعلبہ میں سے کسی نے فلاں کو قتل کیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی کے جرم کی سزا انہیں کیوں دی جائے؟“
قصہ کے علاوہ باقی حدیث صحیح لغیرہ ہے۔
قصہ کے علاوہ باقی حدیث صحیح لغیرہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ⦗٥١⦘ ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَبِي الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ نَصْرِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ الْحُرِّ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْحُرُّ بْنُ حُصَيْنٍ، حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ، أَنَّ أَبَاهُ مَالِكًا، وَعَمَّيْهِ قَيْسًا وَعُبَيْدًا بَنِي الْخَشْخَاشِ، أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَوْا إِلَيْهِ غَارَةَ خَيْلٍ مِنْ بَنِي عَمِّهِمْ عَلَى النَّاسِ، فَكَتَبَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَالِكٍ وَقَيْسٍ، وَعُبَيْدٍ بَنِي الْخَشْخَاشِ: إِنَّكُمْ آمِنُونَ مَسَلَّمُونَ عَلَى دِمَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، لَا تُؤْخَذُونَ بِجَرِيرَةِ غَيْرِكُمْ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْكُمْ إِلَّا أَيْدِيكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
حصین بن ابی الحر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد مالک اور میرے دو چچا قیس اور عبید، ابنا خشخاش رضی اللہ عنہم نبی ﷺ کے پاس آئے۔ ان کے بارے میں شکایت کی گئی تھی کہ ان کے چچا کے بیٹوں نے کوئی زیادتی کر دی تھی، تو آپ ﷺ نے انہیں یہ خط لکھ کر دیا: ”یہ خط محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مالک، عبید اور قیس، بنو خشخاش کے لیے ہے، تم امن میں ہو، تمہارے خون اور تمہارے مال سالم رہیں گے، تمہارے غیر کے عمل کی سزا تمہیں نہیں مل سکتی۔ ہاں! اگر تمہارا ہاتھ جس کام میں شامل ہو اس کی سزا تمہیں ملے گی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللهِ مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ، وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے زیادہ مبغوض اللہ کے نزدیک وہ ہے جو حرم میں بے دینی کرے اور اسلام میں جاہلیت کے طریقے رائج کرے اور وہ شخص جو کسی کا ناحق خون بہائے۔“