حدیث نمبر: 15892
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ مُوسَى، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ مُقَاتِلٌ: أَخَذْتُ هَذَا التَّفْسِيرَ عَنْ نَفَرٍ، حَفِظَ مُعَاذٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدًا، وَالضَّحَّاكَ، وَالْحَسَنَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَلِبَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ خُمَاشَاتٌ وَقَتْلٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَمَا أَشْبَهَ مَا قَالُوا مِنْ هَذَا بِمَا قَالُوا، لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى إِنَّمَا أَلْزَمَ كُلَّ مُذْنِبٍ ذَنْبَهُ، وَلَمْ يَجْعَلْ جُرْمَ أَحَدٍ عَلَى غَيْرِهِ، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَقَدْ جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ تفسیر ان سے لی ہے جنہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یاد کیا ہے، ان میں مجاہد، ضحاک اور حسن رحمہ اللہ وغیرہ ہیں، پھر سابقہ روایت بیان کی لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ان کے آپس میں کچھ بدلے یا قتل تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی بات زیادہ مشابہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس کا گناہ ہے اسی کے ساتھ بتایا ہے نہ کہ اس کا خمیازہ دوسرے پر ہوگا۔ پھر لمبی بات کی اور یہ بات ارشاد فرمائی کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”وہ شخص اللہ کا سخت ناپسند بندہ ہے جو قاتل کو چھوڑ کر اس کی جگہ کسی اور کو قتل کروا دے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15892
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»