السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: إيجاب القصاص على القاتل دون غيره باب: قصاص صرف قاتل پر واجب ہونے کا بیان نہ کہ کسی اور پر۔
حدیث نمبر: 15895
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا كَانَ فِي الصَّحِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي قِرَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ فِيهَا: " لَعَنَ اللهُ الْقَاتِلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، وَالضَّارِبَ غَيْرَ ضَارِبِهِ. وَمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ وَلِيِّ نِعْمَتِهِ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے مشکیزہ سے ایک صحیفہ ملا جس پر یہ لکھا ہوا تھا: ”اللہ کی اس پر لعنت ہو جو قاتل کی جگہ دوسرے کو قتل کرے اور ایک کی جگہ دوسرے کو مارے اور جو اپنے مالک سے پھر گیا تو اس نے اس کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔“