السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: إيجاب القصاص على القاتل دون غيره باب: قصاص صرف قاتل پر واجب ہونے کا بیان نہ کہ کسی اور پر۔
حدیث نمبر: 15899
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دَنُوقًا، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " أِيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟ " قَالُوا: يَوْمُنَا هَذَا أَوْ يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ. قَالَ: " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ وَبَلَدِكُمْ، أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ، لَا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ، وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن عمرو بن احوص اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا: ”کون سا دن حرمت کے لحاظ سے سب سے عظیم ہے؟“ تو لوگوں نے کہا: آج کا دن، حجِ اکبر کا دن۔ فرمایا: ”تمہارا مال، تمہاری عزتیں، تمہارا خون حرام ہے، جیسے یہ شہر اور یہ دن حرمت والا ہے۔ کوئی کسی پر زیادتی نہیں کرے گا، نہ بچہ والد کے کیے کو بھگتے گا اور نہ والد بچے کا بوجھ اٹھائے گا۔“