السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: إيجاب القصاص على القاتل دون غيره باب: قصاص صرف قاتل پر واجب ہونے کا بیان نہ کہ کسی اور پر۔
حدیث نمبر: 15886
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفُ فِي الْقَتْلِ} [الإسراء: 33].حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفُ فِي الْقَتْلِ﴾ ”اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے تو یقیناً ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے، پس وہ قتل (کے بدلے) میں حد سے تجاوز نہ کرے۔“ [سورة الإسراء: 33]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٤٧⦘ الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: " يَقْتُلُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قتل میں اسراف کا معنیٰ یہ ہے کہ ایک کے بدلے دو کو قتل کیا جائے۔