أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ ⦗٥٢٠⦘ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ مَطَرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ نا مُسْلِمٌ هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ نا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ نا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا طَلَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتْقَ إِلَّا فِيمَا يَمْلِكُ " هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامٍ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ: لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ طَلَاقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا بَيْعٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتْقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ملکیت کے بغیر طلاق نہیں اور نہ ہی آزادی ہے۔“
(ب) ابن ابی عروبہ (رحمہ اللہ) کی روایت میں ہے کہ ”انسان جس کا مالک نہیں اس کو طلاق نہیں دے سکتا اور جو چیز اس کی ملکیت میں نہیں اسے فروخت نہیں کر سکتا اور ملکیت کے بغیر غلام آزاد نہیں کر سکتا۔“
(ب) ابن ابی عروبہ (رحمہ اللہ) کی روایت میں ہے کہ ”انسان جس کا مالک نہیں اس کو طلاق نہیں دے سکتا اور جو چیز اس کی ملکیت میں نہیں اسے فروخت نہیں کر سکتا اور ملکیت کے بغیر غلام آزاد نہیں کر سکتا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " " لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ وَلَا عِتْقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ " " رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ بَعْضُهُمُ قَالَ: عَنْ جَدِّهِ كَمَا قَالَ مَطَرٌ الْوَرَّاقُ وَبَعْضُهُمْ قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو كَمَا قَالَ حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ⦗٥٢٢⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”طلاق نکاح کے بعد ہے اور آزادی ملکیت کے بعد۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ثِقَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمرو بن شعیب ثقہ ہیں۔
سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ الْفَقِيهَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ سُفْيَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ رَاهَوَيْهِ، يَقُولُ: إِذَا كَانَ الرَّاوِي عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ثِقَةٌ فَهُوَ كَأَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا راوی ثقہ ہو تو وہ (سند) ایسی ہی ہے جیسے ایوب عن نافع عن ابن عمر۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ نا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ: عَمْرُو بْنُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَبُو إِبْرَاهِيمَ السَّهْمِيُّ الْقُرَشِيُّ سَمِعَ أَبَاهُ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَطَاوُسًا رَوَى عَنْهُ أَيُّوبُ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَالزُّهْرِيُّ وَالْحَكَمُ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ مُعْتَمِرًا يَقُولُ: قَالَ أَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ: كَانَ قَتَادَةُ وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ لَا يُعَابُ عَلَيْهِمَا شَيْءٌ إِلَّا أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَسْمِعَانِ شَيْئًا إِلَّا حَدَّثَا بِهِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: رَأَيْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَعَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ وَالْحُمَيْدِيَّ وَإِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمرو بن شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عاص، ابو ابراہیم سہمی قرشی، نے اپنے والد، سعید بن مسیب اور طاؤس سے سماع کیا ہے، اور ان سے ایوب، ابن جریج، عطاء بن ابی رباح، زہری، حکم، یحییٰ بن سعید اور عمرو بن دینار نے روایت کی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احمد بن سلیمان نے کہا: میں نے معتمر کو کہتے سنا کہ ابو عمرو بن علاء نے کہا: قتادہ اور عمرو بن شعیب پر کوئی عیب نہیں لگایا جاتا تھا، سوائے اس کے کہ وہ جو کچھ سنتے اسے بیان کر دیتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل، علی بن عبداللہ، حمیدی اور اسحاق بن ابراہیم کو دیکھا کہ وہ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی حدیث سے دلیل پکڑتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيَّ يَقُولُ: قَدْ صَحَّ سَمَاعُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مِنْ أَبِيهِ شُعَيْبٍ وَسَمَاعُ شُعَيْبٍ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْحَجِّ فِي بَابِ وَطْءِ الْمُحْرِمِ وَفِي كِتَابِ الْبُيُوعِ فِي كِتَابِ الْخِيَارِ مَا دَلَّ عَلَى سَمَاعِ شُعَيْبٍ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا أَنَّهُ إِذَا قِيلَ: عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، فَإِنَّهُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أُرِيدَ عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ لَيْسَتْ لَهُ صُحْبَةٌ فَيَكُونُ الْخَبَرُ مُرْسَلًا، وَإِذَا قَالَ الرَّاوِي عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو زَالَ الْإِشْكَالُ وَصَارَ الْحَدِيثُ مَوْصُولًا وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمرو بن شعیب کا اپنے والد شعیب سے سماع اور شعیب کا اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سماع صحیح ثابت ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتاب الحج کے باب وطء المحرم میں اور کتاب البیوع کی کتاب الخیار میں وہ بات گزر چکی ہے جو شعیب کے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سماع پر دلالت کرتی ہے، البتہ جب یہ کہا جائے: عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ، تو ممکن ہے کہ اس سے مراد ان کے دادا محمد بن عبداللہ بن عمرو ہوں، اور محمد بن عبداللہ کو صحبت حاصل نہیں، تو روایت مرسل ہو گی، اور جب راوی کہے: عن جدہ عبداللہ بن عمرو، تو اشکال ختم ہو جاتا ہے اور حدیث موصول ہو جاتی ہے، واللہ اعلم۔ یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی روایت کی گئی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتاب الحج کے باب وطء المحرم میں اور کتاب البیوع کی کتاب الخیار میں وہ بات گزر چکی ہے جو شعیب کے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سماع پر دلالت کرتی ہے، البتہ جب یہ کہا جائے: عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ، تو ممکن ہے کہ اس سے مراد ان کے دادا محمد بن عبداللہ بن عمرو ہوں، اور محمد بن عبداللہ کو صحبت حاصل نہیں، تو روایت مرسل ہو گی، اور جب راوی کہے: عن جدہ عبداللہ بن عمرو، تو اشکال ختم ہو جاتا ہے اور حدیث موصول ہو جاتی ہے، واللہ اعلم۔ یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی روایت کی گئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْفَعُهُ قَالَ: " لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ، وَلَا عِتْقَ قَبْلَ مِلْكٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما (اسے نبی ﷺ کی طرف مرفوعاً بیان کرتے ہوئے) فرماتے ہیں کہ: ”نکاح سے پہلے طلاق نہیں اور ملکیت کے بغیر آزادی نہیں ہے۔“
وَرَوَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ثنا عَطَاءٌ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا طَلَاقَ لِمَنْ لَمْ يَمْلِكُ، وَلَا عِتْقَ لِمَنْ لَمْ يَمْلِكُ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ نا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فَذَكَرَهُ وَخَالَفَهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ فَرَوَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ”جو آپ کی بیوی نہیں اس کو طلاق نہیں اور جس غلام کے آپ مالک نہیں اس کو آزاد نہیں کرسکتے۔“
كَمَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ عَطَاءً، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا طَلَاقَ لِمَنْ لَمْ يَمْلِكُ، وَلَا عِتَاقَ لِمَنْ لَمْ يَمْلِكُ " وَرَوَاهُ غَيْرُهُ أَيْضًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو آپ کی بیوی نہیں، اس کو طلاق نہیں دے سکتے اور جس کے آپ مالک نہیں، اس کو آزاد نہیں کر سکتے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالَا: نا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، وَيَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، قَالُوا: نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَبْدِيُّ نا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، نا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: جِئْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ وَأَنَا مُغْضَبٌ، فَقُلْتُ: آللَّهِ أَنْتَ أَحْلَلْتَ لِلْوَلِيدِ بْنِ يَزِيدَ أُمَّ سَلَمَةَ؟ قَالَ: أَنَا، وَلَكِنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا طَلَاقَ لِمَنْ لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتْقَ لِمَنْ لَا يَمْلِكُ " وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
صدقہ بن عبداللہ دمشقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں محمد بن منکدر رحمہ اللہ کے پاس غصے کی حالت میں آیا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے ولید بن یزید کے لیے ام سلمہ کو حلال قرار دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ نے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو آپ کی بیوی نہیں اس کو طلاق نہیں دی جا سکتی اور جس غلام کے آپ مالک نہیں ہیں اس کو آزاد نہیں کر سکتے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَرِيكٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ ابْنَيْ جَابِرٍ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، وَأَبِي عَتِيقٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ، وَلَا عِتْقَ قَبْلَ مِلْكٍ، وَلَا رَضَاعَ بَعْدَ فِصَالٍ، وَلَا وِصَالَ، وَلَا صَمْتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نکاح سے پہلے طلاق نہیں اور ملکیت سے پہلے آزادی نہیں اور دودھ چھڑوانے کے بعد رضاعت نہیں اور وصال کے روزے نہیں اور ایک دن مکمل خاموش رہنا نہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْيَمَانُ أَبُو حُذَيْفَةَ، وَخَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ فَأَمَّا خَارِجَةُ فَحَدَّثَنَا عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَأَمَّا الْيَمَانُ فَحَدَّثَنَا عَنْ أَبِي عَبْسٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ ⦗٥٢٤⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا رَضَاعَ بَعْدَ فِصَالٍ، وَلَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ، وَلَا عِتْقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ، وَلَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دودھ چھڑوانے کے بعد رضاعت نہیں اور بلوغت کے بعد یتیمی نہیں اور ملکیت کے بغیر آزادی نہیں اور نکاح سے پہلے طلاق نہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ نا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ، وَلَا عِتْقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ طَاوُسٍ، وَرَوَيْنَا ذَلِكَ أَيْضًا فِي الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَوْلُ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”طلاق نکاح کے بعد اور آزادی ملکیت کے بعد ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا مُعَاذٌ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا طَلَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ نِكَاحٍ " وَرَوَاهُ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: " إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَزَوَّجْهَا فَلَا شَيْءَ عَلَيْكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طلاق نکاح کے بعد ہے۔
(ب) مبارک بن فضالہ رحمہ اللہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، کہتے ہیں: میں نے کہا: اگر میں نے فلاں عورت سے شادی کر لی تو اسے طلاق ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر آپ نے اس عورت سے شادی کر لی تو آپ کے ذمے کچھ بھی نہیں ہے۔
(ب) مبارک بن فضالہ رحمہ اللہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، کہتے ہیں: میں نے کہا: اگر میں نے فلاں عورت سے شادی کر لی تو اسے طلاق ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر آپ نے اس عورت سے شادی کر لی تو آپ کے ذمے کچھ بھی نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، نا سَعِيدٌ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، وَمَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”طلاق نکاح کے بعد ہوتی ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا مُعَاذٌ الْعَنْبَرِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَا طَلَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ نِكَاحٍ، وَلَا عَتَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مِلْكٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”طلاق نکاح کے بعد ہے اور آزادی ملکیت کے بعد ہوتی ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُشَيْرِيُّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا هِشَامٌ ⦗٥٢٥⦘ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّمَا الطَّلَاقُ مِنْ بَعْدِ النِّكَاحِ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”طلاق نکاح کے بعد ہوتی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ نا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، وَأَبُو حَمْزَةَ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " مَا قَالَهَا ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَإِنْ يَكُنْ قَالَهَا فَزَلَّةٌ مِنْ عَالِمٍ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ: إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ، قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} [الأحزاب: ٤٩] وَلَمْ يَقُلْ إِذَا طَلَّقْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ نَكَحْتُمُوهُنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات نہیں کہی، اور اگر انہوں نے یہ بات کہی ہے تو عالم کی یہ لغزش ہے ایسے آدمی کے بارے میں جو یہ کہتا ہے کہ اگر میں نے فلاں سے شادی کر لی تو اسے طلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ﴾ [سورة الأحزاب: 49] ”اے مومنو! جب تم نکاح کرو اس کے بعد طلاق دے دو بغیر جماع کیے،“ یہ تو اللہ نے نہیں فرمایا: «إِذَا طَلَّقْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ نَكَحْتُمُوهُنَّ» ”جب تم مومن عورتوں کو طلاق دے دو، پھر ان سے نکاح کرو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، نا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ مِنْ أَهْلِ بَغْدَادَ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ " كَذَا أُتِيَ بِهِ مَوْقُوفًا وَقَدْ رُوِيَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَرْفُوعًا، وَرُوِيَ عَنْ بِشْرِ بْنِ السَّرِيِّ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عروہ رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ: ”طلاق نکاح کے بعد ہوتی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ أَخِيهِ خَطَبَ ابْنَةَ عَمٍّ لَهُ فَتَشَاجَرَا فِي بَعْضِ الْأَمْرِ، فَقَالَ الْفَتَى: هِيَ طَالِقٌ إِنْ نَكَحْتُهَا حَتَّى آكُلَ الْغَضِيضَ، وَالْغَضِيضُ طَلْعُ النَّخْلِ الذَّكَرِ ثُمَّ نَدِمُوا عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْأَمْرِ، فَقَالَ الْمُنْذِرُ: أَنَا آتِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ بِالْبَيَانِ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِي خَطَبَ ابْنَةَ عَمٍّ لَهُ فَشَجَرَ بَيْنَهُمْ بَعْضُ الْأَمْرِ فَقَالَ هِيَ طَالِقٌ إِنْ نَكَحْتُهَا حَتَّى آكُلَ الْغَضِيضَ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: " لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ " ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: " لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ " ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: " لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ " ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: " لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ طَلَّقَ مَا لَمْ يَمْلِكُ " ثُمَّ سَأَلْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: " لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ طَلَّقَ ⦗٥٢٦⦘ مَا لَا يَمْلِكُ " ثُمَّ سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ: هَلْ سَأَلْتَ أَحَدًا قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ فَسَمَّاهُمْ قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الْقَوْمِ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِمَا سَأَلْتُ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
منذر بن علی بن ابی حکم نے کہا کہ ان کے بھتیجے نے اپنے چچا کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا۔ ان کا آپس میں جھگڑا ہو گیا تو نوجوان نے کہا: اگر میں نے اس سے نکاح کر لیا تو اسے طلاق ہے، یہاں تک کہ میں کھجور کے تر پھل کھا لوں۔ پھر اپنے کیے پر شرمندہ ہوا تو منذر کہنے لگے: میں تمہیں اس بارے میں بیان کروں گا۔ منذر کہتے ہیں: میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس گیا۔ میں نے کہا: ہمارے ایک شخص نے اپنے چچا کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا ہے تو کسی معاملے پر ان کا جھگڑا ہو گیا۔ اس جوان نے کہہ دیا: اگر میں نے اس سے نکاح کر لیا تو اسے طلاق ہے، تو ابن مسیب رحمہ اللہ فرمانے لگے: اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ اس نے اسے طلاق دی جو اس کی بیوی نہ تھی۔
(ب) پھر میں نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس پر کچھ نہیں، اس نے اسے طلاق دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(ج) پھر میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس کے ذمہ کچھ نہیں، اس نے اسے طلاق دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(د) پھر میں نے ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں کیونکہ اس نے اسے طلاق دی جس کا وہ مالک نہیں تھا۔
(ذ) پھر میں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ سے پوچھا تو وہ فرماتے ہیں: اس کے ذمہ کچھ نہیں، اس نے اسے طلاق دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(ر) پھر میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے پوچھا تو فرمانے لگے: کیا تم نے کسی سے پوچھا ہے؟ تو میں نے ان کے نام لیے۔ پھر واپس آ کر میں نے لوگوں کو بتا دیا۔
(ب) پھر میں نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس پر کچھ نہیں، اس نے اسے طلاق دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(ج) پھر میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس کے ذمہ کچھ نہیں، اس نے اسے طلاق دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(د) پھر میں نے ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں کیونکہ اس نے اسے طلاق دی جس کا وہ مالک نہیں تھا۔
(ذ) پھر میں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ سے پوچھا تو وہ فرماتے ہیں: اس کے ذمہ کچھ نہیں، اس نے اسے طلاق دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(ر) پھر میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے پوچھا تو فرمانے لگے: کیا تم نے کسی سے پوچھا ہے؟ تو میں نے ان کے نام لیے۔ پھر واپس آ کر میں نے لوگوں کو بتا دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: كَتَبَ الْوَلِيدُ بْنُ يَزِيدَ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَمْصَارِ أَنْ يَكْتُبُوا، إِلَيْهِ بِالطَّلَاقِ قَبْلَ النِّكَاحِ وَكَانَ قَدِ ابْتُلِيَ بِذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَى عَامِلِهِ بِالْيَمَنِ فَدَعَا ابْنَ طَاوُسٍ وَإِسْمَاعِيلَ بْنَ شَرُوسٍ وَسِمَاكَ بْنَ الْفَضْلِ فَأَخْبَرَهُمُ ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ شَرُوسٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَسِمَاكٌ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُمْ قَالُوا: " لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ " قَالَ: ثُمَّ قَالَ سِمَاكٌ مِنْ عِنْدِهِ: إِنَّمَا النِّكَاحُ عُقْدَةٌ تُعْقَدُ، وَالطَّلَاقُ يَحُلُّهَا وَكَيْفَ تُحَلُّ عُقْدَةٌ قَبْلَ أَنْ تُعْقَدُ؟ فَأُعْجِبَ الْوَلِيدُ مِنْ قَوْلِهِ وَأَخَذَ بِهِ وَكَتَبَ إِلَى عَامِلِهِ بِالْيَمَنِ أَنْ يَسْتَعْمِلَهُ عَلَى الْقَضَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ ولید بن یزید نے شہروں کے امراء کو لکھا کہ وہ نکاح سے پہلے طلاق کے بارے میں لکھیں، جس مسئلے میں ان کی آزمائش کی گئی، تو اس نے اپنے یمن کے عامل کو لکھا۔ اس نے ابن طاؤس، اسماعیل بن شروس اور سماک بن فضل کو بلایا تو ابن طاؤس نے اپنے والد سے اور اسماعیل بن شروس نے عطاء بن ابی رباح سے اور سماک نے وہب بن منبہ سے بیان کیا کہ نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں۔ پھر سماک نے اپنی جانب سے بیان کیا کہ نکاح ایک گرہ ہوتی ہے اور طلاق اس گرہ کو کھولتی ہے تو گرہ لگانے سے پہلے اس کو کیسے کھولا جائے گا؟ تو ولید کو سماک کا قول پسند آیا۔ اسی قول کو انہوں نے قبول کیا اور اپنے یمن کے عامل کو لکھا کہ ان کو قاضی کے عہدے پر فائز کر دیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْمُعَاذِيُّ، أنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّوَّافُ الْبَغْدَادِيُّ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: " يَوْمَ أَتَزَوَّجُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي الْمُغِيرَةِ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ وَعَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَرَوَاهُ قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَعَطَاءٍ وَعِكْرِمَةَ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَرَوَاهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ رَوَاحٍ الضَّبِّيُّ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَمُجَاهِدًا، وَعَطَاءً عَنْ رَجُلٍ قَالَ: يَوْمَ أَتَزَوَّجُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ قَالُوا: لَيْسَ بِشَيْءٍ وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: يَا ابْنَ أَخِي أَيَكُونُ سَيْلٌ قَبْلَ مَطَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص کہے کہ جس دن میں نے فلاں عورت سے شادی کی اس کو طلاق ہے، اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں۔
(ب) حسن بن رواح عنبی کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب، مجاہد اور عطاء رحمہم اللہ سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جو کہتا ہے کہ جس دن میں نے فلاں عورت سے شادی کی اس کو طلاق ہے تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: اے بھتیجے! کیا بارش سے پہلے سیلاب آجاتا ہے؟
(ب) حسن بن رواح عنبی کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب، مجاہد اور عطاء رحمہم اللہ سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جو کہتا ہے کہ جس دن میں نے فلاں عورت سے شادی کی اس کو طلاق ہے تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: اے بھتیجے! کیا بارش سے پہلے سیلاب آجاتا ہے؟